Saturday , May 26 2018
Home / شہر کی خبریں / طلاق ثلاثہ بل پر تلنگانہ حکومت نے کوئی رائے نہیں دی، مرکز سے مکتوب تاخیر سے ملنے کا بہانہ، صرف 7 بی جے پی ریاستوں نے جواب داخل کیا

طلاق ثلاثہ بل پر تلنگانہ حکومت نے کوئی رائے نہیں دی، مرکز سے مکتوب تاخیر سے ملنے کا بہانہ، صرف 7 بی جے پی ریاستوں نے جواب داخل کیا

حیدرآباد۔/16ڈسمبر، ( سیاست نیوز) طلاق ثلاثہ پر حکومت کے مجوزہ بل پر ملک کی بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں نے مرکز کو اپنی رائے روانہ کی ہے جبکہ تلنگانہ کے بشمول دیگر ریاستوں نے کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔ بہ یک وقت تین طلاق پر پابندی اور اس کے مرتکب افراد کو 3 سال کی قید کی گنجائش کے ساتھ حکومت نے مسلم ویمن پروٹیکشن آف رائیٹس آن میریج بل کو کابینہ میں منظوری دے دی ہے جبکہ جاریہ سرمائی سیشن میں کسی بھی وقت پیش کیا جاسکتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مسودہ قانون کو مرکز نے ریاستوں کی رائے حاصل کرنے کیلئے یکم ڈسمبر کو روانہ کیا۔ ریاستوں سے خواہش کی گئی کہ وہ مجوزہ بل پر فوری اپنی رائے ظاہر کریں۔ مرکز کی مہلت کے دوران صرف 7 ریاستوں نے اپنا جواب روانہ کیا اور مجوزہ قانون کی تائید کی ان میں تمام بی جے پی زیر اقتدار ریاستیں ہیں۔ تلنگانہ حکومت نے اس سلسلہ میں کسی رد عمل کا اظہار نہیں کیا اور نہ ہی اس مسئلہ پر مرکز کو کوئی جواب بھیجا۔ تلنگانہ میں مسلمانوں کی آبادی 13 فیصد سے زائد ہے ایسے میں تلنگانہ حکومت مسلمانوں کی رائے کا احترام کرتے ہوئے مرکز کو بل کی مخالفت میں جواب دے سکتی تھی۔ مسلمان ابتداء ہی سے کسی بھی قانون سازی کی مخالفت کررہے ہیں۔ ٹی آر ایس حکومت جو اقلیتوں سے ہمدردی کا اظہار کرتی ہے اس کی جانب سے مرکز کو کوئی جواب روانہ کرنے سے گریز کرنا باعث حیرت ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود نے اس کیلئے مرکز کو ذمہ دار قرار دیا اور کہا کہ مقررہ مہلت سے صرف دو دن قبل ہی مرکز سے مکتوب وصول ہوا اور دونوں دن تعطیلات کے تھے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود نے بتایا کہ چیف سکریٹری کو 4 ڈسمبر کو مرکز کا مکتوب وصول ہوا اور انہیں یہ خط 8 ڈسمبر کو ملا۔ مرکز کے مکتوب کی وصولی کے بعد حکومت کے پاس وقت نہیں تھا کہ وہ اس مسئلہ پر نمائندگیاں وصول کرے۔ جمعہ کے دن یہ مکتوب ملا اور دو دن میں جواب دینا تھا باقی دونوں ایام تعطیلات کے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مناسب وقت ملتا تو مرکز کو ریاست کی جانب سے یقینی طور پر جواب روانہ کیا جاتا۔ اسی دوران نئی دہلی سے موصولہ اطلاعات کے مطابق حکومت مجوزہ بل کو ترجیحی بنیادوں پر پارلیمنٹ میں پیش کرنا چاہتی ہے۔ حکومت نے جاریہ سیشن میں پیش کئے جانے والی تقریباً 25 اہم بلز کی تفصیلات پارلیمنٹ سکریٹریٹ میں داخل کی ہے ان میں مجوزہ طلاق ثلاثہ بل حکومت کی اولین ترجیح رہے گا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ بل کی منظوری سے وہ مسلم خواتین کو تحفظ فراہم کرنا چاہتی ہے۔ مجوزہ قانون سازی کے ذریعہ بہ یک وقت تین طلاق دینے والے شخص کو 3 سال کی سزا اور اسے ناقابل ضمانت جرم قرار دیا گیا ہے۔ متاثرہ خاتون کو ماہانہ معاوضہ کی ادائیگی کی گنجائش بھی فراہم کی گئی ہے۔ اس قانون کے تحت متاثرین بچوں کو اپنی تحویل میں رکھ سکتے ہیں۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور دیگر مسلم اداروں نے بل کی مخالفت کی ہے اور پرسنل لا بورڈ کی جانب سے تمام غیر بی جے پی سیاسی جماعتوں کا اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ امکان ہے کہ جب بھی یہ بل پارلیمنٹ میں پیش ہوگا سیکولر جماعتیں اس کی مخالفت کریں گی۔ تاہم لوک سبھا میں عددی طاقت کی بنیاد پر بی جے پی کو بل کی منظوری میں رکاوٹ نہیں ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT