Monday , June 25 2018
Home / Top Stories / طلاق ثلاثہ بل پر تلگودیشم کا موقف مسلمانوں کی تائید میں

طلاق ثلاثہ بل پر تلگودیشم کا موقف مسلمانوں کی تائید میں

این محمد فاروق و احمد شریف کا اہم رول، چندرا بابو نائیڈو کوشریعت کے موقف سے آگاہی

حیدرآباد۔/6جنوری، ( سیاست نیوز) طلاق ثلاثہ مسئلہ پر تلگودیشم پارٹی کے مخالف بل موقف کے سلسلہ میں آندھرا پردیش کے 2 مسلم نمائندوں نے اہم رول ادا کیا۔ قانون ساز کونسل صدرنشین این محمد فاروق و گورنمنٹ وہپ احمد شریف نے چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو کو اس بات پر راضی کیا کہ مسلمانوں کے جذبات کا احترام کرکے راجیہ سبھا میں طلاق ثلاثہ بل کو سلیکٹ کمیٹی سے رجوع کرنے کا مطالبہ کیا جائے۔ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب آندھرا پردیش کے علما اور ماہرین قانون کی رائے حاصل ہونے کے باوجود لوک سبھا میں تلگودیشم نے بل کی تائید کی۔ بی جے پی کی حلیف جماعت ہونے کے ناطے تلگودیشم نے حکومت کے حق میں موقف اختیار کیا تھا۔ لوک سبھا میں بل کی منظوری کے بعد مسلمانوں نے تلگودیشم کے موقف پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ ایسے وقت جبکہ عام انتخابات قریب ہیں اور مسلمانوں کا جھکاؤ وائی ایس آر کانگریس کی طرف دکھائی دے رہا ہے تلگودیشم قائدین نے اپنی ذمہ داری محسوس کرکے چندرا بابو نائیڈو سے نمائندگی کی۔ این محمد فاروق اور احمد شریف نے چندرا بابو نائیڈو سے ملاقات کرکے طلاق ثلاثہ مسئلہ پر شریعت کے موقف سے آگاہ کیا۔ انہوں نے علماء کی رائے کا حوالہ دیتے ہوئے مشورہ دیا کہ کم از کم راجیہ سبھا میں بل کی پیشکشی کے موقع پر پارٹی بی جے پی کے ساتھ جانے کے بجائے سلیکٹ کمیٹی کا مطالبہ کرے۔ این محمد فاروق نے چیف منسٹر کو مکتوب حوالے کیا جس میں کہا گیا کہ طلاق ثلاثہ پر مرکزی حکومت نے ریاستوں کی رائے طلب کی ہے۔ پرنسپال سکریٹری اقلیتی بہبود نے مسلم دانشوروں اور علماء کا اجلاس طلب کیا تاہم مرکزی حکومت نے ریاستی حکومت کی رائے ملنے سے قبل ہی کابینہ میں بل کو منظوری دے دی۔ مکتوب میں کہا گیا کہ یہ بل انتہائی حساس ہے اور اس پر وسیع تر مشاورت کی ضرورت ہے۔ خواتین کے تحفظ کے نام پر تیار کیا گیا یہ بل شریعت سے ٹکراتا ہے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ نے بل پر اعتراضات پیش کئے ہیں۔ ایسے میں پارلیمنٹ میں تلگودیشم کی جانب سے بل کی تائید کی صورت میں مسلمانوں میں غلط پیام جائیگا۔ این محمد فاروق نے کہا کہ تلگودیشم نے کبھی سیکولرازم اور سیکولر اصولوں سے انحراف نہیں کیا ہے۔ پارٹی کے قیام سے لیکر آج تک ہمیشہ اقلیتوں کے مفادات کا تحفظ اور ان کے جذبات کا احترام کیا گیا۔ مرکزی حکومت میں تلگودیشم کی شمولیت کے باوجود پارٹی نے اپنی علحدہ شناخت برقرار رکھی ہے۔ ایسے میں طلاق ثلاثہ بل پر کوئی بھی غلط اقدام مسلمانوں میں ناراضگی کا سبب بن سکتا ہے۔ انہوں نے چیف منسٹر سے خواہش کی کہ پارلیمنٹری پارٹی کو ہدایت دیں کہ بل کی پیشکشی کے وقت سلیکٹ کمیٹی سے رجوع کرنے کا مطالبہ کیا جائے۔ بتایا جاتاہے کہ این محمد فاروق و احمد شریف کی مشترکہ مساعی پر مثبت ردعمل کا اظہار کرکے چندرا بابو نائیڈو نے ایم پیز کو ہدایت دی کہ راجیہ سبھا میں بل کی پیشکشی کے موقع پر سلیکٹ کمیٹی سے رجوع کرنے کا مطالبہ کریں۔ چیف منسٹر کی ہدایت کے بعد راجیہ سبھا میں پارٹی فلور لیڈر سی ایم رمیش نے بل کی پیشکشی کے موقع پر اپوزیشن جماعتوں کی طرح بل کو سلیکٹ کمیٹی سے رجوع کرنے کا مطالبہ کیا۔ اگرچہ راجیہ سبھا میں بل منظور نہیں ہوسکا لیکن جب بجٹ سیشن میں پیشکشی کی صورت میں پارٹی کا یہی موقف دہرایا جائیگا۔

TOPPOPULARRECENT