Thursday , December 13 2018

طلاق ثلاثہ بل پر سیاسی جماعتیں ضمیر کی آواز پر فیصلہ کریں

بل کی منظوری پر ہندوستانی معاشرہ شرمسار ہوگا ، مولانا سید خلیل الرحمن سجادہ نعمانی نقشبندی
حیدرآباد۔8فروری(سیاست نیوز) طلاق ثلاثہ بل کی منظوری کے سلسلہ میںسیاسی جماعتیں ضمیر کی آواز پر فیصلہ کریں کیونکہ اس بل کے سبب ہندستانی معاشرہ شرمسار ہوگا دنیا بھر میں کہیں کوئی ایسی نظیر نہیں ملتی جہاں طلاق کا حق چھینا گیا ہواور اسے قابل تعزیر جرم قرار دیا گیا ہے۔ کل ہند مسلم پرسنل لاء بورڈ دونوں تلگو ریاستوں کی سیاسی جماعتوں تلنگانہ راشٹر سمیتی اور تلگودیشم سے بھی اپیل کرتا ہے کہ وہ اس سلسلہ میں اپنا واضح موقف پیش کریں۔ مولانا سیدخلیل الرحمن سجاد نعمانی نقشبندی نے پریس کانفرنس کے دوران سیاسی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی سیاسی جماعتوں کو اپنے ضمیر کی آواز پر طلاق ثلاثہ بل کے تمام نکات کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کرنا چاہئے ۔ انہوں نے این ڈی اے میں شامل رہتے ہوئے بھی طلاق ثلاثہ بل کی مخالفت کرنے والی سیاسی جماعتوں سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ جرأت کے ساتھ اس بل کی مخالفت کر رہے ہیں اور توقع ہے کہ وہ بل میں ترمیم کے مطالبہ پر اٹل رہیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ طلاق ثلاثہ مقدمہ کے دوران ہی حکومت ہند کے اٹارنی جنرل نے حکومت کے موقف کو واضح کرتے ہوئے سپریم کو رٹ کو اس بات سے واقف کروایا تھا کہ طلاق ثلاثہ مسئلہ پر ہی نہیں بلکہ حکومت طلاق کے دیگر طریقہ کار پر بھی پابندی کا ارادہ رکھتی ہے لیکن سپریم کورٹ نے اس مقدمہ کی سنوائی کے دوران جہاں طلاق بدعت کا تذکرہ کیا ہے وہا ں اس بات کی وضاحت کردی گئی کہ سپریم کورٹ کی مراد طلاق ثلاثہ ہے اور جس وقت فیصلہ آیا تو حکومت کی جانب سے یہ کہا گیا کہ اب جبکہ سپریم کورٹ نے پابندی عائد کردی ہے تو کسی قانون کی ضرورت نہیں ہے لیکن جب فیصلہ کی تحریر کا مطالعہ کیا گیا تو حکومت نے اپنا ذہن تبدیل کیا اور طلاق ثلاثہ بل کے ذریعہ طلاق پر پابندی عائد کرنے کی سازش تیار کی ۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ اس مسئلہ کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے اپنے موقف کو پیش کریں۔ مولانا نے بتایابورڈ ہر سیاسی جماعت اور فرد کا مشکور ہے جس نے اس مسئلہ کو سمجھتے ہوئے اس بل میں ترمیم کا مطالبہ کررہا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT