Wednesday , November 14 2018
Home / شہر کی خبریں / طلاق ثلاثہ بل کو راجیہ سبھا میں روکنے کانگریس کی کامیاب حکمت عملی

طلاق ثلاثہ بل کو راجیہ سبھا میں روکنے کانگریس کی کامیاب حکمت عملی

طلاق ثلاثہ بل کی مخالفت نہ کرنے والی ٹی آر ایس پارٹی کیلئے اضلاع میں ماحول سازگار بنانے مسلم یونائٹیڈ فورم سرگرم
ہمدرد اور دشمن کو سمجھنے سے قاصر
فورم کا موقف ملت کے لئے لمحہ فکر
افضل الدین ، عظمت اللہ حسینی اور خواجہ فخر الدین کا خطاب

حیدرآباد۔/17جنوری، ( سیاست نیوز) ملک میں مذہبی منافرت کے ذریعہ اپنے حقیر مفادات کیلئے بی جے پی اور اس کے نظریات کو مستحکم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ان کوششوں کو کامیاب بنانے کیلئے سیاسی قائدین مذہبی رہنماؤں کا استحصال کرنے لگے ہیں۔ طلاق ثلاثہ مسئلہ پر بی جے پی نے جو بل پیش کیا تھا اس کی کانگریس نے لوک سبھا میں مصلحت اختیار کی اور راجیہ سبھا میں بل کو شکست دینے کی کامیاب حکمت عملی اختیار کی جس کے نتیجہ میں طلاق بل قانون کی شکل اختیار نہیں کرسکا۔ تلنگانہ پردیش کانگریس کے جنرل سکریٹری ایس کے افضل الدین، سید عظمت اللہ حسینی، عظمیٰ شاکر، صدر تلنگانہ پردیش کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ محمد خواجہ فخر الدین، ترجمان تلنگانہ پردیش کانگریس سید نظام الدین اور محمد سلیم نے گاندھی بھون میں ایک اجلاس طلب کرتے ہوئے ملک اور ریاست کے حالات کا جائزہ لینے کے بعد طلاق ثلاثہ پر کانگریس کے اختیار کردہ موقف کی بھرپور تائید کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ ان کانگریس قائدین نے بتایا کہ صدر کانگریس راہول گاندھی کی کامیاب حکمت عملی کے سبب یہ قانون نہیں بن پایا لیکن لوک سبھا میں ایک رکن رکھنے والی جماعت اس کا سہرا اپنے سر باندھنے کی جی توڑ کوشش کررہی ہے اور ساتھ ہی مسلم یونائٹیڈ فورم کے علاوہ بعض معصوم مذہبی قائدین کا استحصال کررہے ہیں۔ کانگریس پارٹی نے راجیہ سبھا میں طلاق بل میں ترمیمات کرانے کیلئے 17 سیاسی جماعتوں کی تائید حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی کانگریس کے اختیار کردہ موقف کی این ڈی اے میں شامل تین حلیف جماعتوں نے بھی تائید کی جس سے مودی حکومت نہ صرف خوفزدہ ہوئی ہے بلکہ راجیہ سبھا میں مباحث سے بل کو شکست ہوجانے کے ڈر سے خاموش ہوگئی یہ کانگریس کا کارنامہ ہے جس کو سارا ملک تسلیم کررہا ہے۔ خود حکمراں بی جے پی کے قائدین طلاق ثلاثہ بل کی منظوری میں رکاوٹیں پیدا کرنے کا کانگریس پر الزام عائد کررہے ہیں۔ تلنگانہ کے کانگریس قائدین نے رکن پارلیمنٹ حیدرآباد کے موقف کو غیردانشمندانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ سیاسی بصیرت کے حامل ہوتے تو گزشتہ دو برس سے جاری اس مسئلہ پر خانگی بل پیش کرتے ہوئے دیگر اپوزیشن جماعتوں کی تائید حاصل کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی، اس مقامی جماعت کو کس نے روکا تھا۔ لیکن انہیں ملی مفادات سے زیادہ مذہبی جذبات کو ابھارنے اور سیاسی مفادات عزیز تھے جس کی وجہ سے خانگی بل کی طرف پہل نہیں کی گئی۔ مجلس جو کہ ٹی آر ایس کی حلیف سیاسی جماعت ہے اس نے اپنی حلیف جماعت کو ان کے اپنے موقف کی تائید میں ووٹ کا استعمال کرنے کیلئے رضا مند نہیں کرسکی اور نہ ہی ٹی آر ایس نے راجیہ سبھا میں طلاق ثلاثہ بل کی مخالفت کی۔ اس کے باوجود مجلس اور ٹی آر ایس کا اتحاد ناقابل فہم ہے۔ لوک سبھا میں کانگریس کے موقف کو تنقید کا نشانہ بنانے والی مجلس لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں طلاق ثلاثہ بل سے راہ فرار اختیار کرتے ہوئے بی جے پی کے موقف کی تائید کرنے والی ٹی آر ایس کو آج بھی اپنی حلیف جماعت قرار دے رہی ہے۔ تلنگانہ کے کانگریس قائدین نے یونائٹیڈ مسلم فورم اور آل انڈیا مسلم پرسنل بورڈ کو بھی مشورہ دیا کہ وہ حقائق کا جائزہ لیں۔ طلاق ثلاثہ بل پر کانگریس اور دوسری17 جماعتوں کا موقف کیا ہے اس پر غور کریں۔ پھر اس پر اپنے اپنے موقف کا اظہار کریں۔ کون ہمدرد ہے اور کون دشمن ہے اس کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ جذبات میں بہنے اور سیاسی استحصال کا شکار ہونے سے اپنے آپ کو بچائے۔ کانگریس کے قائدین نے آل انڈا مسلم پرسنل لا بورڈ کے سرکردہ عالم دین کی جانب سے کئے گئے تبصرہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ طلاق ثلاثہ بل کی پارلیمنٹ میں پیشکشی سے قبل دوسری سیاسی جماعتوں کے قائدین سے ملاقات کیلئے کس نے روکا تھا اور اب کون اس بل پر خود کو عظیم رہنما کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کررہے ہیں اس پر ہمدردانہ غور کریں۔ کانگریس کے قائدین نے علماء و مشائخین کے علاوہ ان تمام اہم شخصیات سے اپیل کی جو یونائٹیڈ مسلم فورم یا آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ میں شامل ہیں۔ طلاق ثلاثہ بل کے سلسلہ میں قانون سازی کے مکمل عمل کا باریک بینی سے جائزہ لیں اور اس بات کا فیصلہ کریں کہ اس بل کو قانون بننے سے روکنے میں کس سیاسی جماعت نے اہم رول ادا کیا ہے۔ لوک سبھا میں ایک رکن کی طاقت رکھنے والی جماعت کیا اس بل کو روک پائی یا پھر راجیہ سبھا میں موجود کانگریس و دیگر اپوزیشن جماعتوں نے بل کو قانونی شکل اختیار کرنے سے روکا ہے۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کانگریس پارٹی نے تشکیل دیا ہے مگر 2 ارکان پارلیمنٹ رکھنے والی جماعت ٹی آر ایس نے اس کا سہرا اپنے سر باندھنے کیلئے واویلا مچایا۔ طلاق ثلاثہ کے مسئلہ پر وہی رول مقامی جماعت ادا کررہی ہے۔ اپنی حلیف جماعت ٹی آر ایس کو سیاسی فائدہ پہنچانے کیلئے یونائٹیڈ مسلم فورم کا استعمال کرتے ہوئے اضلاع میں شریعت تحفظ کے نام سے جلسہ عام کا انعقاد کیا جارہا ہے اس پر مسلمانوں کو سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

TOPPOPULARRECENT