Tuesday , June 19 2018
Home / Top Stories / طلاق ثلاثہ بل کے خلاف مسلم خواتین کا آخری احتجاج

طلاق ثلاثہ بل کے خلاف مسلم خواتین کا آخری احتجاج

شریعت میں مداخلت ناقابل برداشت،رام لیلا میدان میں احتجاجی خواتین کا مطالبہ
نئی دہلی۔ 4 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) تین طلاق بل کے خلاف ہندوستان کے مختلف حصوں میں مسلم خواتین کے احتجاج کے بعد اب آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے زیر اہتمام نئی دلی کے رام لیلا گراونڈ میں آج اس بل کے خلاف احتجاج شروع ہو گیا ہے۔ جذبہ ایمانی سے سرشار بڑی تعداد میں مسلم خواتین رام لیلا میدان میں امنڈ پڑیں اور دھوپ کی شدت اور گرمی کی پروا کئے بغیر وہ پوری ثبات قدمی کے ساتھ یہاں اس احساس کے ساتھ پہنچی ہیں کہ وہ شریعت میں حکومتی مداخلت کو ہرگز برداشت نہیں کریں گی۔آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے زیر اہتمام ہونے والے اس احتجاجی مظاہرہ میں مسلم خواتین نے پرزور مطالبہ کیا کہ تین طلاق بل کو واپس لیا جائے۔ان کا کہنا ہے کہ شوہر کو تین سال جیل بھیج دینا خواتین کے ساتھ کس طرح کی ہمدردی ہے۔ ہمیں ایسی بیجا ہمدردی نہیں چاہئے۔خواتین نے کہا کہ لوک سبھا سے منظور ہو چکے بل کو سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجا جائے کیونکہ ہم اپنی شریعت کے ساتھ خوش ہیں اور ہمیں شریعت میں کسی بھی قسم کی مداخلت برداشت نہیں۔

قبل ازیں، کل نئی دلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی شعبہ نسواں کی کنوینر ڈاکٹر اسما زہرہ کی قیادت میں ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں رام لیلا میدان میں مسلم خواتین کے احتجاج کے مقصد پر تفصیلی اظہار خیال کیا گیا اور کہا گیا کہ یہ مسلم خواتین کا آخری مظاہرہ ہے۔ کانفرنس میں مطالبہ کیا گیا کہ دی مسلم ویمن (نکاح کے موقع پر حقوق کا تحفظ) بل مجریہ 2017 نہ صرف خلاف شریعت اور مسلم عورتوں کے حقوق اور صنفی عدل کے خلاف ہے بلکہ اس سے دستور ہند کی بھی خلاف ورزی ہوتی ہے لہذا اسے فوری طور پر واپس لیا جائے۔ پریس اور دیگر شعبہ ہائے زندگی کے نمائندوں سے مخاطب ذمہ داران نے ملت اسلامیہ ہند کی طرف سے استدلا ل کیا کہ متعلقہ بل کو پارلیمنٹ کے طے شدہ ضوابط، شرائط اور روایات کا پاس رکھے بغیر لوک سبھا سے بڑی عجلت میں منظور کر لیا گیا۔ اس بل کی تیاری میں نہ تو مسلمانوں کے مستند علماء اور دانشوروں سے رجوع کیا گیا اور نہ ہی مسلم خواتین کی تنظیموں، این جی اوز اور خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم سماجی تنظیموں اور کارکنوں سے کوئی رائے مانگی گئی بلکہ انہیں تو پوری طرح اندھیرے میں رکھا گیا۔
یہ بھی کہا گیا کہ اس بل کو جسے سپریم کورٹ اپنے اکثریتی فیصلہ میں پہلے ہی غیرمؤثر قرار دے چکا تھا، اتنی عجلت میں لانے کی مطلق ضرورت نہیں تھی۔ سپریم کورٹ کے ایک اقلیتی فیصلہ کو اس قانون سازی کے لیے جواز بنانا بالکل ہی بے محل اور غلط بات ہے۔ اپنی بات کو ہندستانی مسلمانوں کے موقف کے طور پر سامنے لاتے ہوئے پریس سے مخاطب ذمہ داروں نے جن میں محترمہ عطیہ صدیقہ،محترمہ یاسمین ،محترمہ ممدوحہ ماجد بھی شامل تھیں، ایک سول معاملہ کو فوجداری جرم بنا دینے کو بھی غیرمعقول بلکہ قانونی طور پر غلط گردانا اور کہا کہ معترضہ بل کے تیسرے باب کی شق 7میں بیوی کو بہ یک نشست تین طلاق دیئے جانے کو ایک غیرضمانتی اور قابل دخل اندازی جرم قرار دینا کیسے درست ہو سکتا ہے جب کہ تعدد ازدواج اور زنا دونوں ہی ضمانتی اورقابل غیر دخل اندازی جرم ہیں

TOPPOPULARRECENT