Friday , July 20 2018
Home / Top Stories / طلاق ثلاثہ سے مسلمانوں کو روکنے کیلئے ماڈل نکاح نامہ میں ترمیم کا فیصلہ

طلاق ثلاثہ سے مسلمانوں کو روکنے کیلئے ماڈل نکاح نامہ میں ترمیم کا فیصلہ

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کا /9 فبروری سے حیدرآباد میں دو روزہ اجلاس ، مسئلہ بابری مسجد بھی اہم موضوع : مولانا سجاد نعمانی

لکھنؤ ۔ /3 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ مسلمانوں میں تین طلاق کے عمل کو روکنے کیلئے اس بورڈ کی جانب سے اپنے ماڈل نکاح نامہ میں نئی دفعہ شامل کی جائے گی ۔ جس کے تحت شادی کرنے والے مرد کو یہ عہد کرنا ہوگا کہ وہ تین طلاق (طلاق بائین) نہیں دے گا ۔ یہ پیشرفت ایک ایسے وقت ہوئی ہے جب تین طلاق کو مجرمانہ اقدام قرار دینے کیلئے حکومت ایک بل کو پارلیمنٹ کے رواں بجٹ اجلاس میں منظور کروانے کی پرزور کوشش کررہی ہے ۔ تین طلاق مسلمانوں میں رشتہ ازدواج ختم کرنے کا ایک طریقہ ہے ۔ گزشتہ سال اگست میں سپریم کورٹ کی طرف سے کالعدم قرار دیئے جانے کے باوجود ہنوز اس پر عمل کیا جارہا ہے ۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے ادعاء کیا ہے کہ وہ بھی طلاق ثلاثہ کے خلاف ہے لیکن اس نے یہ کہتے ہوئے اس پر کسی قانون سازی کی مخالفت کی ہے کہ ایسا کرنے سے مسلم پرسنل لاء میں مداخلت ہوگی ۔ تاہم مسلم پرسنل لاء میں اصلاحات کرنے میں ناکامی پر بورڈکو تنقیدوں کا سامنا ہے ۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈکے ترجمان مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی نے کہا کہ ’’جی ہاں ہم ماڈل نکاح نامہ میں ایک دفعہ (شرط) متعارف کررہے ہیں ۔ جس میں ’’تین طلاق نہیں دوں گا ‘‘ کے زیرعنوان ایک خانہ رہیگا ۔ شادی کے وقت اس خانہ میں ’’ جی ہاں ‘‘ کا نشان لگانے کے بعد وہ شخص تین طلاق نہیں دے سکے گا ‘‘ ۔ انہوں نے کہا کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے /9 فبروری سے حیدرآباد میں شروع ہونے والے اجلاس میں اس مسئلہ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا ۔ بورڈ کے دو روزہ سالانہ اجلاس عام میں دیگر سماجی مسائل کے علاوہ رام جنم بھومی ۔ بابری مسجد کیس پر بھی غور و خوص کیا جائے گا ۔ توقع ہے کہ بورڈ آئندہ سال کے لئے اپنے روڈمیاپ کو قطعیت دے گا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’مجوزہ اجلاس میں جہیز اور تین طلاق جیسی سماجی برائیوں کے خلاف مہم کا جائزہ لیا جائے گا ۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کا احساس ہے کہ سماجی شعور کی بیداری کے بغیر ملک کا کوئی بھی نظام کامیابی حاصل نہیں کرسکتا ‘‘ ۔ انہوں نے کہا کہ ’’بورڈ کی جانب سے ملک بھر میں بڑی مہم چلائی جارہی ہے ۔ بورڈ کے نمائندے تمام مدرسوں اور مساجد تک پہونچتے ہوئے عوام کو جہیز اور تین طلاق جیسی سماجی برائیوں سے دور رہنے کا مشورہ دیں گے ‘‘ ۔ مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی نے مزید کہا کہ اس ضمن میں کئے گئے کام پر ہونے والی پیشرفت کے بارے میں رپورٹ طلب کی جائے گی۔
اور اس بنیاد پر آئندہ سال کے لئے منصوبہ بنایا جائے گا ۔ ’’تین طلاق چونکہ کم تعلیمیافتہ افراد میں عام ہے چنانچہ بورڈ وہی علاقوں میں سخت محنت کے ساتھ کام کرتا رہے گا ۔ مدرسوں کے طلبہ اور اساتذہ کو اس مہم میں مبلغین کی حیثیت سے شامل کیا جائے گا ۔ جن کا اصل کام جہیز اور تین طلاق کی لعنتوں کے خلاف پیام کو عام کرنا ہوگا ۔ اگر طلاق کی ضرورت درپیش ہوتی تو پہلے کسی عالم دین سے رابطہ اور مشاورت کرنا ہوگا اور تین طلاق سے دور رہنا ہوگا ‘‘ ۔ بورڈ کے ترجمان نے مزید کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران اس مہم کو تقویت حاصل ہوئی ہے ۔ بورڈ اس ضمن میں سوشیل میڈیا کے دیگر ذرائع بھی استعمال کررہا ہے۔ مولانا سجاد نعمانی نے کہا کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ تین طلاق کا سخت مخالف ہے لیکن بعض صورتوں میں ہی تین طلاق کو قبول کیا جاتا ہے ۔ بعض دیگر صورتوں میں خود خواتین بھی تین طلاق طلب کیا کرتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ’’جو لوگ مسلم معاشرے سے بخوبی واقف نہیں ہیں یہ سمجھتے ہیں کہ تین طلاق صرف مردوں کی طرف سے دی جاتی ہے یہ خیال بالکل غلط ہے ‘‘ ۔ سپریم کورٹ نے فوری طلاق کے متنازعہ طریقہ کار کو گزشتہ سال اگست میں غیر دستوری اور جانبدارانہ قرار دیتے ہوئے کالعدم و منسوخ کردیا تھا ۔ بعدازاں حکومت نے مسلم خواتین (تحفظ حقوق برائے شادی) بل پیش کیا تھا جو /28 ڈسمبر کو لوک سبھا میں منظور کرلیا گیا ۔ اس بل میں تین طلاق کو ایک ایسا جرم قرار دیا گیا ہے جس کے ارتکاب پر شوہر کو تین سال کی جیل ہوسکتی ہے ۔ راجیہ سبھا میں گزشتہ ماہ اس بل کی پیشکشی کے بعد بعض سیاسی جماعتیں بل کی مخالفت کررہی ہیں ۔ ایوان بالامیں بی جے پی کو اکثریت حاصل نہیں ہے اور حکومت اس مسئلہ پر بحث چاہتی ہے ۔ لیکن اپوزیشن نے اس بل کو قانونی بنانے سے قبل تنقیح کے لئے سلیکٹ کمیٹی سے رجوع کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ وزیر پارلیمانی امور اننت کمار نے بل کی منظوری کے لئے تمام سیاسی جماعتیں سے تعاون طلب کیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT