Friday , November 24 2017
Home / Top Stories / طلاق ثلاثہ غیر دستوری، ظالمانہ: الہ آباد ہائیکورٹ

طلاق ثلاثہ غیر دستوری، ظالمانہ: الہ آباد ہائیکورٹ

ہندوستان کو ایک قوم بننے سے روکنے والا عمل، مسلم خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی

الہ آباد۔8 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) الہ آباد ہائی کورٹ نے ’’طلاق ثلاثہ‘‘ کے عمل پر شدید برہمی ظاہر کرتے ہوئے اس عمل کو ظالمانہ، خوار کرنے والا اور غیر دستوری قرار دیا۔ سردست طلاق دے دینا نہایت ہی سنگدلانہ حرکت ہے۔ یہ عمل ہندوستان کو ایک قوم بننے سے روکتا ہے۔ ہندوستان میں مسلم قانون کا اطلاق ہورہا ہے اور یہ شرعی قوانین حضرت پیغمبر اسلام یا قرآن مجید کی تعلیمات کے عین جذبہ کے مطابق ہے۔ اسی طرح طلاق دینے کے معاملہ میں بیوی کے حق کو سلب کرتے ہوئے اس شرعی قانون کی غلط تشریح کرکے اس پر عمل کیا جارہا ہے۔ گزشتہ ماہ دیئے گئے اپنے فیصلہ میں جسٹس سنیت کمار کی واحد رکنی جج کی بنچ نے یہ بھی احساس ظاہر کیا کہ اسلام میں طلاق کی اجازت ہے اور یہ اجازت صرف نازک صورت میں دینا ہوتا ہے جب میاں بیوی کے درمیان مصالحت کرانے اور صلاح صفائی کی تمام کوشیں بے فیض ثابت ہوجائیں۔اس کوشش کے بعد ہی دونوں فریق اپنی شادی کو طلاق یا خلع کے ذریعہ توڑ سکتے ہیں۔ سمجھا جاتا ہے کہ مسلم شوہر کو سارے اختیارات اور فیصلہ سازی کا یکطرفہ حق حاصل ہے

جس کی وجہ سے وہ فوری طلاق دے دیتا ہے۔ اس کے اس عمل میں شرعی اصول کو ملحوظ نہیں رکھا جاتا۔ یہ بھی غلط بات ذہن نشین کرلی گئی ہے کہ ایک مسلم شوہر کو قرآن کے قوانین کے تحت مکمل آزادی حاصل ہے۔ اس کو کوئی روک ٹوک نہیں ہے لہٰذا وہ اپنی شادی کو ختم کرسکتا ہے۔ قرآن مجید میں شوہر کو یہ بھی تلقین کی گئی ہے کہ اسے اپنی بیوی کو طلاق دینے سے پہلے کن کن باتوں کو ملحوظ رکھنا ہوتا ہے۔ جب تک اس کی بیوی اس کی فرمانبردار اور نیک شعار بااعتماد رفیق بن کررہتی ہے تو وہ طلاق دینے کا پیمانہ نہیں ہے۔ عدالت نے 5 نومبر کو دیئے گئے اپنے احکام میں یہ ریمارک کئے۔ شرقی قانون میں مرد کو ترجیحی حق دیا گیا ہے کہ وہ اگر اپنی بیوی کی پاک دامنی یا خراب کردار کے باعث شادی شدہ زندگی سے ناخوش ہے تو ازدواجی زندگی کو منقطع کرسکتا ہے لیکن اس سلسلہ میں سنگین وجوہات کے بغیر کوئی بھی مرد ایک طلاق کے ناپسندیدہ عمل کو منصفانہ قرار نہیں دے سکتا۔ عدالت نے یہ تاثرات ظاہر کرتے ہوئے 23 سالہ خاتون حنا کی درخواست کو مسترد کردیا اور اس کے جو اس سے عمر میں بڑا اور 30 سال کا ہے اس نے اپنی بیوی کو طلاق ثلاثہ دینے کے بعد اس سے شادی کی تھی۔ یہ جوڑا مغربی اترپردیش کے ضلع بلند شہر سے تعلق رکھتا ہے۔

س نے عدالت سے رجوع ہوکر پولیس کو ہدایت دینے کی خواہش کی اور حنا کی والدہ کو بھی پابند کرنے کے لئے زور دیا گیا تاکہ وہ درخواست گزاروں کو ہراساں کرنا بند کردیں۔ تاہم عدالت نے یہ واضح کردیا کہ یہ کوئی متنازعہ بات نہیں ہے۔ درخواست گزار کے وکیل کا استدلال ہے کہ یہ جوڑا بالغ ہے اور اپنی پسند کا شریک حیات منتخب کرنے کا آزادی رکھتا ہے۔ ان کی زندگی گزارنے کے حق کو چھینا نہیں جاسکتا۔ عدالت نے کہا کہ اس مسئلہ میں عمر کا کوئی قید نہیں ہے۔ عدالت نے مسلم پرسنل لا بورڈ پر ریمارک کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ معاورائے دستور اتھاریٹی کام کررہا اور ملک میں خود کی عدالت چلارہا ہے۔ اسی دوران طلاق ثلاثہ پر الہ آباد ہائی کورٹ کے تاثرات کا خیرمقدم کرتے ہوئے حکومت اور خواتین کے لاء بورڈ نے کہا کہ الہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ ایک قابل خیرمقدم قدم ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے ہائی کورٹ کے تاثرات کو مسترد کردیا اور کہا کہ اس مسئلہ پر قطعی فیصلہ سپریم کورٹ کرے گا۔ شیوسینا سربراہ ادھائو ٹھاکرے نے خبردار کیا کہ طلاق ثلاثہ کے مسئلہ کا شاہ بانو کیس کی طرح حشر نہیں کیا جانا چاہئے۔ ووٹ بینک کی سیاست کی خاطر اس اہم مسئلہ کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہئے۔ عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیر اطلاعات و نشریات ایم وینکیا نائیڈو نے کہا کہ خواتین کو انصاف ملنا چاہئے اور اس پر ہر ایک کا اتفاق ضروری ہے۔ آل انڈیا مسلم ویمن پرسنل لا بورڈ کی چیرپرسن شائستہ عنبر نے آج کہا کہ طلاق ثلاثہ کا عمل سراسر غیر منصفانہ ہے۔ یہ ایک ظلم ہے ، اللہ کے کسی بھی قانون میں ظلم و زیادتی نہیں پائی جاتی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مسلم خواتین کو دستور کی بنیاد کے علاوہ شرعی قانون کے تحت انصاف ملے گا۔ مملکتی وزیر برائے بہبود اطفال و خواتین کرشنا راج نے کہا کہ خواتین کی مصیبت کوئی نہیں سمجھ سکتا۔ ہائی کورٹ نے اس سلسلہ میں اچھا قدم اٹھایا ہے، اس سے خواتین کے حوصلے بلند ہوں گے۔

TOPPOPULARRECENT