Sunday , December 17 2017
Home / شہر کی خبریں / طلاق ثلاثہ مذہبی مسئلہ نہیں ‘ سیاسی رنگ نہ دیا جائے

طلاق ثلاثہ مذہبی مسئلہ نہیں ‘ سیاسی رنگ نہ دیا جائے

اہم مسئلہ پر کانگریس نے طویل عرصہ تک خاموشی اختیار کی ۔ مرکزی وزیر وینکیا نائیڈو

حیدرآباد 30 اپریل ( پی ٹی آئی ) مرکزی وزیر ایم وینکیا نائیڈو نے آج واضح کیا کہ تین طلاق کا مسئلہ مذہبی نہیں ہے اور اس کی شریعت میں کوئی اجازت نہیں ہے ۔ انہوں نے یہ ریمارکس ایسے وقت میں کئے ہیں جبکہ اس مسئلہ پر ملک بھر میںمباحث چل رہے ہیں۔ مرکزی وزیر نے کانگریس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ اس مسئلہ پر کئی برسوں سے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے ۔ انہوں نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ طلاق ثلاثہ ایک مذہبی مسئلہ نہیں ہے کیونکہ اس کی شریعت میں کوئی اجازت نہیں ہے ۔ یہ مسئلہ مسلم خواتین کو دوسری خواتین کی طرح عزت و احترام کی زندگی فراہم کرنے کے مواقع سے متعلق ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ امتیاز کیوں کیا جاتا ہے ۔ یہ سلسلہ اب بند ہونا چاہئے اور اس کو سیاسی رنگ نہیں دیا جانا چاہئے ۔ سینئر کانگریس قائدین غلام نبی آزاد اور ملکارجن کھرگے کی جانب سے وزیر اعظم نریندر مودی پر طلاق ثلاثہ کے مسئلہ کو سیاسی رنگ دینے کے الزام کے تعلق سے سوال پر وینکیا نائیڈو نے کہا کہ اس مسئلہ پر وزیر اعظم نے کل جو کچھ بھی کہا ہے اس پر مسلم سماج کو غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کانگریس کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ پارٹی ہمیشہ اقلیتوں کے مفادات کی چمپئن ہونے کا دعوی کرتی ہے لیکن اس نے اقلیتوں کی خواتین کے حقوق اورم فادات کے تعلق سے کوئی اقدام نہیں کیا تھا ۔ یہ سوال عدم مساوات اور خواتین سے امتیاز سے متعلق ہے ۔ یہ سب کچھ مذہب کی بنیاد پر ہو رہا ہے ۔ کانگریس کو جواب دینا چاہئے کہ اس مسئلہ پر وہ اتنے برسوں سے کیوں خاموش رہی ہے ۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ومیر اعظم نریندر مودی نے پہلے ہی خود ساختہ گاو رکھشکوں کے تعلق سے اظہار خیال کردیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کچھ سیاسی قائدین اور کچھ مخصوص گوشے ہر مسئلہ پر اظہار خیال کرنے کو اپنی عادت بناچکے ہیں۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں پر رکاوٹوں والا ایجنڈہ اور طریقہ کار اختیار کرنے کا الزام عائد کیا اور ادعا کیا کہ اپوزیشن جماعتیں ہر ہر مسئلہ پر حکومت کے خلاف گمراہ کن اطلاعات کی مہم چلا رہی ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اپوزیشن جماعتیں ‘ حکومت کو ملنے والی عوامی تائید کو ہضم نہیں کر پا رہی ہیں اور اسی لئے اس کے خلاف منفی پروپگنڈہ چلایا جا رہا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT