Wednesday , September 26 2018
Home / شہر کی خبریں / !طلاق ثلاثہ : مسودہ بل منظور 

!طلاق ثلاثہ : مسودہ بل منظور 

مجھ پہ اب کوئی بھی پابندی نہیں
میں تو پہلے کی طرح آزاد ہوں

!طلاق ثلاثہ : مسودہ بل منظور
طلاق ثلاثہ مسئلہ پر مودی حکومت نے مسودہ قانون کو منظوری دے کر بروقت تین طلاق دینے کو غیرقانونی، ناجائز قرار دینے قدم اٹھایا ہے۔ اس قانون کے تحت اگر کوئی مسلم شخص اپنی اہلیہ کو تین طلاق دیتا ہے تو اسے 3 سال کی جیل کی سزاء ہوگی۔ یہ قانون صرف طلاق ثلاثہ یا طلاق بدعت پر قابل اطلاق ہوگا۔ حکومت اپنی تمام خرابیوں اور 3 سالہ ناکام کارکردگی کا ملبہ صرف مسلمانوں کے مسائل کا سہارا لے کر انڈیل رہی ہے۔ اس مسودہ قانون کا عنوان میریج بل پر مسلم خواتین کے حقوق کا تحفظ ہے۔ مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ میں دلچسپی رکھنے مرکز کی بی جے پی حکومت نے اپنی فرقہ وارانہ پالیسیوں کے ذریعہ مسلم خواتین پر جو حالات لائے جارہے ہیں اس کو نظرانداز کردیا جارہا ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ مسلمان اپنے اطراف چھپے دشمنوں کو جاننے کے باوجود بھی ان کے خلاف آواز اٹھانے سے گریز کررہے ہیں۔ آج ان کی خاموشی کل ایک بڑی تباہی کا سبب بنے گی۔ واقعی آج کے حالات پوری فکرمندی اور درد دل سے ہندوستان میں سیکولرازم کا اغواء کرلینے والی طاقتوں اور ناقص کارکردگی کے ذریعہ خطرات پیدا کرنے والی طاقتوں کے اقدامات سے پیدا ہونے والے مضمرات کی طرف قوم کی توجہ دلائی جانے کی ضرورت ہے۔ پارلیمنٹ کے سرمائی سیشن کے دوران حکومت نے طلاق ثلاثہ پر پابندی کا مسودہ قانون منظور کرلیا ہے۔ گذشتہ ماہ مرکزی حکومت نے تمام ریاستوں کو مکتوب لکھ کر ان سے خواہش کی تھی کہ وہ اس مسودہ بل پر اپنی رائے پیش کریں اور پارلیمنٹ کے جاریہ سیشن میں بل کو متعارف کروایا جائے گا۔ گذشتہ اگست میں سپریم کورٹ کے فیصلہ پر بھی وزیراعظم نریندر مودی نے ایک وزارتی گروپ تشکیل دیا تھا۔ بی جے پی اپنے سیاسی انتخابی پروپگنڈہ کو اس قدر شور کے ساتھ پھیلایا ہیکہ اب ہندوستانی مسلمانوں اور ان کے شرعی امور میں مداخلت کو ان کے حقوق کے تحفظ کے لئے کی جاری کوششوں کا حصہ قرار دیا جاتا ہے۔ مودی حکومت ملک میں مسلمانوں پر ذہنی ایمرجنسی نافذ کرنے کی کوشش ہی ہے۔ مسلمانوں کو اپنے سامنے ہونے والی تبدیلیاں دکھائی نہیں دے رہی ہیں۔ ان کے ذہن کند ہوگئے ہیں یا کند بنادیئے گئے ہیں۔ ان کے سامنے ہونے والی تبدیلیاں بھی انہیں دکھائی نہیں دے رہی ہیں۔ مسلم خواتین کے حقوق کے تحفظ کے راستے یہ حکومت مسلمانوں کے شرعی امور میں مداخلت کرنے ان کی زندگی پر بریک لگانے اور انہیں مایوسیوں اور ناامیدیوں کے علمبردار بناکر بہت پڑی تباہی کی طرف لے جانے کی سازش ہورہی ہے۔ مودی حکومت کو مسلم مسائل کے ذریعہ ایک خاص مشن پر گامزن دیکھا جارہا ہے۔ مسلمانوں کے اصل مسائل پر توجہ دینے کے بجائے صرف اس مسئلہ پر توجہ دی جارہی ہے جو تنازعہ کی طرف سے جاری ہے۔ مسلم خواتین کے حقوق کے تحفظ کی باتیں کرنے والوں کے ہاتھ آیا مسلم خواتین کے خون سے رنگے ہوئے ہیں تو اس طرح کے اقدامات مشکوک اور سازشی پہلو کا حصہ معلوم ہوتے ہیں۔ اس حکومت میں ہندوستان کے سیکولر چہرے پر اتنے نقش و نگار بنائے گئے ہیں کہ حکومت اس سیکولر چہرے سے مسلمانوں کو ڈرانے کے سواء اور کوئی کام نہیں لے گی۔ یہاں سیکولرزم کی آنکھوں میں اتنی مرتبہ سلائیاں پھیری جارہی ہیں کہ آگے چل کر ان آنکھوں کی جگہ دو ہولناک غار نظر آئیں گے اور طلاق ثلاثہ کے خلاف قانون سازی کے ذریعہ ملک کے سیکولرازم کی آنکھوں میں سلائیاں پھیرنے کی کوشش ہے۔ اس کے بعد مسلمانوں کے سامنے تاریکی ہی ہوگی اور اس تاریکی میں مسلمانوں کی آنے والی نسلوں کی پرورش کی جائے گی ذرا سوچئے ملک کے موجودہ حالات اور حکومت کی پالیسیاں کس طرح آگے بڑھ رہی ہیں۔ اس حکومت میں ملک کے سیکولرزم کو نفرت کی مافیا کے ذریعہ لہولہان کیا جارہا ہے۔ کونسا ایسا اقدام ہے جو اس سیکولر ملک میں ملک کے سیکولر عوام خاص کر مسلمانوں کی رگ رگ سے خون نچوڑنے کے لئے نہیں کیا گیا۔ مسلمانوں کو جس بات کا خدشہ اپنی تاریخ کو دیکھ کر ہوتا ہے وہی خوف پھر ان کے دامن سے لپیٹ رہا ہے کہ طلاق ثلاثہ پر پابندی کے نام سے پریشان کن حالات پیدا کئے جائیں گے اور مسلم نمائندے، علماء اور مذہبی قائدین کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرلینے والوں میں شامل ہوکر مسلمانوں پر ذہنی ایمرجنسی مسلط کرنے کی کوشش والی سرگرمیوں پر چپ ہیں۔
بینکوں میں جمع رقومات
ملک میں بینکوں اور اکاؤنٹ ہولڈرس کا رشتہ ایک مضبوط بھروسہ پر ٹکہ ہوا ہوتا ہے لیکن حکومت کی جانب سے کئے جانے والے حالیہ اعلانات نوٹ بندی، جی ایس ٹی کے بعد بینکوں میں ڈپازٹ رقومات کی ضبطی جیسے شبہات کو تقویت مل رہی ہے۔ حکومت نے پارلیمنٹ کے سرمائی سیشن میں ایک نیا بل متعارف کروانے کا فیصلہ کیا ہے جس کو فینانشیل ریزیولیشن اینڈ ڈپازٹ انشورنس (FRDI) کا نام دیا گیا ہے۔ اس بل کے ایک گوشہ نے بنک ڈپازیٹرس کو تشویش میں مبتلاء کردیا ہے۔ اس بل میں کہا گیا ہے کہ بچت کھاتے داروں کی جمع رقم محفوظ نہیں رہے گی۔ بینکوں میں اپنی رقم جمع کرکے اطمینان کی سانس لینے والے متوسط طبقہ کے ہندوستانیوں کو یہ خبرسناکر بے چین اور تشویش میں مبتلاء کردیا گیا جو ایک بنک اور کسٹمر کے درمیان پائے جانے والے بھروسہ کو توڑنے کے مترادف ہے۔ اعتماد شکنی کے ذریعہ کوئی بھی ادارہ یا فرد زیادہ دیر تک مستحکم نہیں رہ سکتا۔ جب سے حکومت نے ایف آر ڈی آئی بل کی بات کی ہے بنک ڈپازیٹرس کو خاص کر متوسط طبقہ کے لوگوں کو اپنی محنت کی کمائی ہوئی رقم کے سوخت کرلئے جانے کا ڈر ہے۔ حکومت نے اس تشویش کو دور کرنے کے لئے وضاحت بھی کی ہے لیکن FRDI بل کے اندر شامل بعض نکات نے عوام کے مالیاتی موقف کو ہی کمزور کردیا ہے۔ مالیاتی اداروں کو پانچ زمروں میں منقسم کرکے ان کے مالیہ کو جوکھم میں ڈالنے کا بھی اشارہ دیا گیا ہے ایسے میں بینکوں پر بھروسہ کرکے اپنی رقومات جمع کرانے والے عوام کو اپنی جمع پونجی نیک نیتی کے تعلق سے عوام کو کامل یقین دلانے کی ضرورت ہے۔ بینکوں میں جمع پونجی کی ضبط کرلئے جانے کی سوشیل میڈیا پر پھیلائی خبر کے بعد بینکوں کے سامنے دن بھر عوام کی قطار دیکھی گئی جو بینکوں نے اپنی جمع پونجی نکالنے کے لئے کھڑی ہے۔ ایک سال قبل بھی نوٹ بندی کا فیصلہ کرکے ملک کے متوسط طبقہ کے لوگوں کی کمر ہی توڑ دی گئی تھی اب مودی حکومت FRDI بل کے ذریعہ غریب اور متوسط طبقہ کے لوگوں کی نیندیں ہی اڑا دی ہیں۔ لہٰذا حکومت کو چاہئیکہ وہ بنک کھاتے داروں کے بھروسہ کو ٹھیس نہ پہنچائے۔ سوشیل میڈیا پر یہ جملے گشت ہورہے ہیں کہ پیسہ گھر میں رکھے تو چوری کا ڈر بنک میں رکھیں تو مودی کا ڈر!

TOPPOPULARRECENT