Saturday , June 23 2018
Home / مضامین / طلاق ثلاثہ مودی حکومت پر سپریہ سولے کا خاموش وار

طلاق ثلاثہ مودی حکومت پر سپریہ سولے کا خاموش وار

محمد ریاض احمد
لوک سبھا میں بی جے پی حکومت نے بڑے ہی جوش و ولولہ کے ساتھ طلاق ثلاثہ مخالف نہ صرف بل پیش کیا بلکہ اسے منظور بھی کروایا لیکن راجیہ سبھا میں اسے منہ کی کھانی پڑی۔ چونکہ راجیہ سبھا میں برسر اقتدار ہندوتوا جماعت کو اکثریت حاصل نہیں اس لئے ایوان بالا میں بل کا منظور ہونا تقریباً ناممکن ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اسے سلیکٹ کمیٹی سے رجوع کیا جائے گا۔ لوک سبھا میں بل کی پیشکشی اور ندائی ووٹوں کے ذریعہ منظوری پر مودی جی اور ان کے کابینی رفقاء نے اس انداز میں خوشی کا اظہار کیا جیسے کسی کٹر دشمن پر فتح حاصل کرلی ہو۔ حالانکہ پارلیمنٹ میں طلاق ثلاثہ بل پیش کرکے مودی حکومت نے کوئی بڑا تیر نہیں مار لیا۔ سپریم کورٹ پہلے ہی طلاق ثلاثہ کو غیر دستوری قرار دے چکی تھی۔ ہندوستان میں طلاق اور شوہروں کی جانب سے چھوڑی ہوئی بے یار و مددگار خواتین کے اعداد و شمار پر ایک نظر دوڑائیں تو یقینا ہم ہندوستانیوں کے سر شرم سے جھک جائیں گے۔ لیکن افسوس مودی حکومت نے شاید ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اور ہندوؤں میں اپنی مقبولیت اور ساکھ برقرار رکھنے کے لئے طلاق ثلاثہ پر پابندی کا بل پارلیمنٹ میں پیش کیا جبکہ حقیقت میں اسے مسلم خواتین اور مسلمانوں سے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ مسلم خواتین سے تو دور اس حکومت کو ان 20 لاکھ سے زائد ہندو خواتین کی فکر نہیں جنھیں ان کے شوہروں نے دوسروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ ایسی عورتوں میں وزیراعظم نریندر مودی کی بیوی جیشودا بین بھی شامل ہیں جو آج پاسپورٹ حاصل کرسکتی ہیں نہ ہی انھیں فراہم کی جانے والی سکیورٹی کے بارے میں تفصیلات جاننے کا انھیں حق حاصل ہے۔ بہرحال یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ ہندوستان فی الوقت بے شمار پیچیدہ و سنگین سماجی و معاشرتی مسائل میں گھرا ہوا ہے۔ ان مسائل میں مادر شکم میں ہی بچیوں کا قتل، جہیز ہراسانی اور جہیز کے نام پر دلہنوں کو زندہ جلادینے کے علاوہ بچہ مزدوری، لڑکیوں و خواتین کے اغواء و عصمت ریزی کے ساتھ ساتھ فرقہ پرستی، تعصب و جانبداری، بیر وزگاری اور جہالت شامل ہیں۔ تاہم مودی اور ان کے کابینی رفقاء ان پیچیدہ مسائل سے پہلوتہی اختیار کرتے ہوئے غیر ضروری مسائل پر وقت ضائع کررہے ہیں۔ پارلیمنٹ میں طلاق ثلاثہ پر پابندی سے متعلق بل پر این سی پی رکن سپریہ سولے نے جو نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے سربراہ شردپوار کی دختر ہیں، بڑی ہی سنجیدگی اور بناء چیخ و پکار کے مودی حکومت کو شرمسار کردیا اور ہندوستانیوں کو بتادیا کہ مودی حکومت طلاق ثلاثہ کے نام پر صرف اور صرف مسلمان کمیونٹی کو نشانہ بنارہی ہے۔ انھوں نے پارلیمنٹ میں اپنے خطاب میں یہ واضح کردیا کہ ہندوستان میں صرف طلاق ثلاثہ کا مسئلہ ہی نہیں ہے جسے اس قدر اہمیت دی جارہی ہے۔ ہندوستان بے شمار پیچیدہ سماجی مسائل میں گھیرا ہوا ہے۔ مادر شکم میں ہی بچیوں کا قتل (بچیوں کو مادر شکم میں ہی قتل کرنے کے لئے پیدائش کے فوری بعد بھی قتل کئے جانے کے ہمارے ملک میں ہر سال ہزاروں واقعات پیش آتے ہیں اور ایسے واقعات 99.9 فیصد ہندوؤں میں پیش آتے ہیں۔ جہیز ہراسانی، جہیز کے نام پر دولہنوں پر تشدد اور خواتین کے قتل جیسے مسائل کا ہمارے ملک کو سامنا ہے۔ اس سے قطع نظر کہ وہ آپ ہندو، مسلم، پارسی اور عیسائی ہیں ہندوستانی عورتوں کو بڑے چیلنج اور سماجی مسائل کا سامنا ہے۔ انھوں نے پارلیمنٹ کو اپنے خاندانی اور ریاستی پس منظر سے بھی واقف کروایا۔ ان کا کہنا تھا کہ خوش قسمتی سے آج ایک ماڈرن اور وسیع النظر، وسیع الذہن اور وسیع القلب خاندان میں پیدا ہوئیں۔

جہاں تک ہندوستان میں بچیوں اور خواتین کی حالت زار کا سوال ہے، بچیوں کو تعلیم یافتہ شہروں اور خاندانوں میں بھی صرف اس لئے موت کے گھاٹ اُتارا جارہا ہے کیوں کہ وہ لڑکی پیدا ہوئی۔ ان حالات میں سنگین و پیچیدہ مسائل سے نمٹنے کی بجائے میں نہیں سمجھتی کہ ایک مخصوص کمیونٹی کو الگ تھلگ کردینا چاہئے۔ ملک میں انسداد جہیز اور گھریلو تشدد کے خلاف قانون سازی کی گئی، کیا ان قوانین سے جہیز ہراسانی اور گھریلو تشدد سے ہونے والی خواتین کی اموات کا سلسلہ رُک گیا ہے؟ میاں بیوی کا جھگڑا ایک گھریلو معاملہ ہے۔ عدالتوں کا رُخ کرنے کے بجائے اسے کونسلنگ صلح و صفائی کے ذریعہ حل کیا جانا چاہئے۔ اس ضمن میں سپریہ سولے نے ایک اچھی بات کہی وہ یہ تھی کہ مہاراشٹرا میں میاں بیوی کے جھگڑوں کو کیرتن کونسلنگ کے ذریعہ حل کیا جاتا ہے۔ ایسے ہی مسلمانوں میں علماء یا دارالقضاۃ اس قسم کی کونسلنگ کرکے ان جوڑوں کی ازدواجی زندگی کو بچاتے ہیں۔ سپریہ سولے کے مطابق صرف قانون سازی سے ہی سماجی تبدیلی نہیں آتی۔ ان کے خیال میں سماجی تبدیلیاں اس وقت آتی ہیں جب میڈیا، قانون ساز ادارے، قانون ساز سماجی مصلح سب کے سب ملکر کام کریں۔ پارلیمنٹ میں اپنے خطاب میں سپریہ سولے نے بہت ہی سلجھے ہوئے انداز میں یہ کہہ کر مودی حکومت کو گھیرا کہ اس بل میں ایک ہی نشست میں تین مرتبہ طلاق کہنے والے شوہر کو جیل میں ڈالنے یعنی تین سال قید کی سزا دینے والی بات سمجھ سے بالاتر ہے۔ سب سے پہلے یہ جان لینا چاہئے کہ میاں بیوی کا جھگڑا ایک دیوانی معاملہ ہے۔ لیکن حکومت نے اس بل کے ذریعہ اسے فوجداری بنادیا ہے۔ جس شخص کو آپ بیوی کو طلاق ثلاثہ دینے پر تین سال کے لئے جیل میں ڈال رہے ہیں ہوسکتا ہے کہ وہ ایک خراب شوہر ہو لیکن وہ ایک اچھا باپ بھی ہوسکتا ہے۔ اگر باپ کو جیل ہوگی تو یہ بھی ممکن ہے کہ ان کے بچوں کو اسکول میںیہ کہہ کر تنگ کیا جائے گا کہ تمہارا باپ جیل میںہے اس سے بچوں پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ شادی شدہ جوڑوں کے جھگڑوں و اختلافات دور کرنے میں کونسلرس ہی اچھا رول ادا کرسکتے ہیں (حکومت نے یہ سوچا ہی نہیں ہے) اپنے خطاب کے ابتداء میں سپریہ سولے نے بہت ہی متانت سے کہاکہ سارا ایوان طلاق ثلاثہ کے مسئلہ پر مودی حکومت کی تائید کرتا ہے لیکن ہر فیملی کو مجرموں کے کٹہرے میں نہیں کھڑا کیا جانا چاہئے اور اس قانون کو فوجداری بنانے سے سارا خاندان متاثر ہوگا۔

سپریہ سولے نے جو ایک مائیکرو بیالوجسٹ ہیں ایوان کو اپنے مخصوص انداز میں یاد دلایا کہ وہ مہاراشٹرا جیسی ایک ترقی پسند ریاست سے آئی ہیں۔ شیواجی اس ریاست میں پیدا ہوئے۔ شاہو مہاراج نے اسی سرزمین سے خواتین کی تعلیم اور انھیں مساویانہ حقوق فراہم کرنے کی وکالت کی، راج ماتا جیجاو (شیواجی کی ماں) اہلیہ پاولکر تارا رانی، چاند بی بی (یہ وہی چاند بی بی ہیں جو 1590 ء ۔ 1580 ء سلطنت بیجاپور اور 1596-1599 سلطنت احمد نگر کی ملکہ یا سلطانہ رہیں۔ چاند بی بی تاریخ میں چاند خاتون اور چاند سلطانہ کے نام سے بھی یاد کی جاتی ہیں۔ وہ فن سپہ گری میں غیر معمولی مہارت رکھتی تھیں ان کی دلیری بہادری کے قصے مہاراشٹرا میں آج بھی زبان زد خاص و عام ہیں۔ چاند بی بی نے اکبر کے دو فرزندان کو شکست دی تھی اور اکبر اعظم کا بڑی بہادری سے مقابلہ کیا تھا لیکن اس بہادر خاتون کو اپنوں کی غداری نے اکبر کے مقابلہ میں ناکام کیا۔ 1936ء میں اس بہادر مسلم خاتون پر سلطانہ چاند بی بی کے نام سے ایک فلم بھی بنائی گئی تھی) ساوتری بائی پھولے، فاطمہ شیخ، آنندی بائی جوشی، تارا بائی شنڈے جیسی خواتین کی ایک طویل فہرست ہے جنھوں نے خواتین کے مساویانہ حقوق، تعلیم کی تائید و حمایت کرتے ہوئے ریاست اور ملک کی خدمت کی۔ (جہاں تک فاطمہ بی شیخ کی خدمات کا سوال ہے انھیں بلاشبہ 19 ویں صدی کی پہلی مسلم ٹیچر کہا جاتا ہے۔ یہ وہی فاطمہ شیخ ہیں جنھوں نے ہندوستان میں دلت مسلم اتحاد کی بنیاد ڈالی۔ 1850 ء میں دلت مسلم اتحاد کی ایک تاریخ جیوتی راؤ پھولے ساوتری بائی پھولے اور فاطمہ شیخ نے رقم کی۔ فاطمہ شیخ نے دلتوں اور مسلمانوں میں علم کی شمع روشن کی۔

جس وقت جیوتی راؤ اور ساوتری پھولے نے دلتوں کو زیور علم سے آراستہ کرنے کا بیڑا اُٹھایا تب اعلیٰ ذات کے ہندوؤں نے ان کی شدت سے مخالفت کی۔ انھیں گاؤں سے نکالا گیا، ایسے آزمائشی وقت میں عثمان شیخ اور ان کی بہن فاطمہ بی شیخ نے ان دو نوں کا نہ صرف ساتھ دیا بلکہ 1848 ء میں جیوتی با اور ساوتری پھولے نے عثمان شیخ کے گھر میں پہلا اسکول قائم کیا جس پر پونہ کے اعلیٰ ذات کے ہندو چراغ پا ہوگئے یہاں تک کہ جیوتی پر قاتلانہ حملے کئے۔ ان تینوں پر پتھر برسائے جاتے تھے اور گوبر انڈیلا جاتا تھا لیکن دلت ۔ مسلم اتحاد اور کمزور طبقات کے حصول علم کے مخالفین کا تشدد ان پر کوئی اثر نہ کرسکا) سپریہ سولے نے مودی حکومت پر طنز کرتے ہوئے یہ بھی کہاکہ طلاق ثلاثہ بل قانون سازی کیلئے ہی پیش نہیں کیا گیا بلکہ صرف مسلم خواتین کے لئے ہی نہیں بلکہ بلا لحاظ مذہب و ملت تمام خواتین کے لئے یہ ایک جذباتی پل ہے۔ ان کے خطاب کے دوران مرکزی وزیر قانون روی شنکر پرساد ، دیگر مرکزی وزراء اور بی جے پی ارکان پارلیمان یہ سمجھنے سے قاصر تھے کہ سپریہ سولے بل کی تائید کررہی ہیں یا شال میں لپیٹ کر مودی حکومت پر خاموش طمانچہ رسید کررہی ہیں۔ ایوان میں سپریہ سولے نے ممبئی ایرپورٹ پر ان کے ساتھ پیش آئے ایک واقعہ کا تذکرہ کرتے ہوئے بالراست طور پر یہ تک کہہ دیا کہ سپریم کورٹ طلاق ثلاثہ کو غیر دستوری قرار دے چکی تھی ایسے میں حکومت کا ایوان میں بل پیش کرنا بیوقوفی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ممبئی ایرپورٹ میں وہ سکیورٹی چیکنگ کے لئے قطار میں کھڑی تھیں، ساتھ ہی سیدہ فائزہ رخسانہ نامی ایک مسلم خاتون بھی تھیں، میں نے ان سے پوچھا طلاق ثلاثہ بل کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ اس خاتون نے کہاکہ سپریم کورٹ جو کرنا تھا وہ کردیا، آپ لوگ اپنا وقت ضائع کررہے ہو۔ آپ مجھے یعنی عورتوں کو Larital Rape پر مساویانہ انصاف کیوں نہیں دیتے۔ سپریہ سولے نے اپنے خطاب میں بی جے پی وزراء اور ارکان پارلیمان کی جانب سے دفعہ 141 اور 142 کے بارے میں دی گئی دلیلوں کے حوالے سے یہ کہہ کر سرکاری بنچوں کو شرمسار کردیا کہ ان کی دلیلوں میں کافی تضاد تھا۔ انھوں نے گھریلو تشدد کے قانون 498A کا بھی حوالے دے کر سوال کیاکہ یہ قانون اب کس قدر اثرانگیز رہا۔ آج ازدواجی مسائل کے حل کے لئے قانون سازی کی نہیں کونسلنگ کی اور عدالتوں کی نہیں اچھے کونسلرس کی ضرورت ہے۔ اپنی تقریر میں سپریہ سولے نے جب شکم مادر میں بچیوں کے قتل کی بات کہی تو ہمیں یو پی اے حکومت میں مرکزی وزیر بہبود خواتین و اطفال رہ چکی رینوکا چودھری کا وہ بیان یاد آگیا جس میں انھوں نے یہ کہہ کر ہندو معاشرہ میں لڑکیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے بدترین سلوک کی پول کھول کر رکھ دی تھی۔ 15 ڈسمبر 2006 ء کو میڈیا رپورٹس میں رینوکا چودھری کے حوالے سے بتایا گیا تھاکہ گزشتہ 20 برسوں کے دوران ہندوستان میں 10 ملین بچیوں کو صرف اس لئے قتل کردیا گیا کیوں کہ وہ لڑکیاں پیدا ہوئی تھیں۔ اُس دوران یونیسف کی ایک رپورٹ بھی جاری ہوئی تھی جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ہندوستان میں ہر دن زائداز 7000 بچیاں پیدا ہوتی ہیں۔ رینوکا چودھری نے یہ دل دہلا دینے والا انکشاف کیا تھا کہ بچی پیدا ہوکر جب رونے کیلئے منہ کھولتی ہے تو ماں باپ، دادا دادی، نانا نانی اور اس کے دوسرے رشتہ دار اس معصوم کے منہ میں خاک ڈال کر یا دوسرے ظالمانہ طریقوں سے موت کے گھاٹ اُتار دیتے ہیں۔ کاش مودی حکومت مسلم عورتوں سے جھوٹی ہمدردی کی بجائے ہندو معاشرہ میں لاکھوں بچیوں کے قتل کو روکنے کے لئے سخت قانون بناتی۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT