Tuesday , November 21 2017
Home / ہندوستان / طلاق ثلاثہ پر اکثریتی فیصلے کی اہم جھلکیاں

طلاق ثلاثہ پر اکثریتی فیصلے کی اہم جھلکیاں

نئی دہلی ۔ 22 اگست (سیاست ڈاٹ کام) طلاق ثلاثہ پر سپریم کورٹ کی دستوری بنچ کے 3:2 اکثریتی فیصلہ کی اہم جھلکیاں حسب ذیل ہیں ۔
٭ طلاق ثلاثہ کا عمل قرآنِ مقدس کے بنیادی اصولوں کے مغائر ہے اور اس سے اسلامی شریعت کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔
٭ طلاق ثلاثہ ’’اعلانیہ طور پر من مانی‘‘ ہے کیونکہ کوئی مسلم شوہر ’’عجیب منچلے‘‘ انداز میں رشتہ ازدواج کوتوڑ سکتا ہے‘‘۔
٭ جسٹس کورین جوزف نے کہا کہ چیف جسٹس اف انڈیا (جسٹس ے ایس کیہر) سے اس بات پر اتفاق کرنا نہایت مشکل ہے کہ طلاق ثلاثہ کو زیربحث مذہبی طبقہ کا اٹوٹ حصہ تصور کیا جائے اور یہ کہ یہ طریقہ کار مسلم پرسنل لاء کا حصہ بھی ہے۔
٭ جسٹس کورین جوزف کے ان نظریات سے بنچ میں شامل دیگر دو ججوں جسٹس ار ایف نریمن اور جسٹس یو یو للت نے بھی اتفاق کیا جو اس فیصلہ کا اکثریتی حصہ ہیں۔
٭ چونکہ طلاق ثلاثہ فوری اور ناقابل تنسیخ نوعیت کی ہے چنانچہ شوہر اور بیوی کے درمیان صلح صفائی اور مفاہمت کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
٭ طلاق ثلاثہ دستور کی( مساویانہ حقوق) دفعہ 14 کے تحت بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دی گئی ہے۔
٭ جسٹس کورین جوزف نے کہا کہ قرآن مقدس ہی قانون کا پہلا ذریعہ ؍ مصدر ہے اور اس کو ہی اولین اہمیت دی جائے۔
٭ جسٹس نریمن نے کہا کہ ’’طلاق ثلاثہ دراصل طلاق کی ایک قسم ہے جو قانون کے تحت قابل اجازت ہے لیکن اس کے ساتھ ہی حنفی مسلک اگرچہ اس کو گناہ کے مترادف تصور کرتا ہے جس کے باووجد اس (عمل) کو برداشت بھی کرتا ہے۔
٭ جسٹس جوزف نے کہا کہ محض اس لئے کہ کسی طریقہ پر طویل عرصہ سے عمل درآمد کیا جاتا ہے تو اس کو جائز قرار نہیں دیا جاسکتا جب اس کو ناقابل اجازت قرار دیا جاتا ہے۔

 

’’تاریخی فیصلہ، بنیاد پرستوں کے منہ بند‘‘ : اندریش کمار
نئی دہلی ۔ 22 اگست (سیاست ڈاٹ کام) آر ایس ایس کے سینئر لیڈر اندریش کمار نے طلاق ثلاثہ پر سپریم کورٹ کے فیصلہ کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس (فیصلہ) نے اسلامی بنیاد پرستوں کے منہ بند کردیا ہے اور اب اس مسئلہ پر مناسب قانون وضع کیا جانا چاہئے۔ اندریش کمار نے جو آر ایس ایس سے ملحقہ مسلم راشٹریہ منچ (ایم آر ایم) کے سرپرست اعلیٰ بھی ہیں، کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ اس ’’غلط رواج‘‘ سے متاثرہ خواتین اور ان کے بچوں کو سہارا دینے کیلئے خصوصی مراکز قائم کرے تاکہ ان خواتین کو خودمکتفی اور ان کے بچوں کو تعلیم یافتہ بنایا جاسکے۔ اندریش کمار نے اخباری نمائندوں سے کہا کہ ’’ملک بالخصوص خواتین کیلئے آج تاریخی دن ہے۔ سپریم کورٹ نے آج ہندوستان کی 9 کروڑ خواتیان کے سب سے بڑے سماجی مسئلہ کو حل کردیا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کے ساتھ ہی ان مسلم بنیاد پرستوں کے منہ بند ہوگئے ہیں جو اسلام کے مقدس صحیفہ کی غلط تشریح کے ذریعہ خواتین کا استحصال کررہے تھے اور اس عمل معلظہ کے ذریعہ خواتین کو ہراساں کررہے تھے۔

TOPPOPULARRECENT