Friday , November 24 2017
Home / Top Stories / طلاق ثلاثہ پر سپریم کورٹ فیصلہ، مختلف گوشوں میں اختلاف رائے

طلاق ثلاثہ پر سپریم کورٹ فیصلہ، مختلف گوشوں میں اختلاف رائے

بی جے پی کو دس کروڑ مسلم خواتین کی تائید حاصل کرلینے کی خوش فہمی، مختلف شخصیتوں کا ردعمل

ممبئی23،اگست(سیاست ڈاٹ کام )سپریم کورٹ کے ذریعے گزشتہ روز طلاق ثلاثہ پر دیئے جانے والے فیصلہ پرمسلمانوں کے مختلف مسلک اور طبقات میں اختلاف پایا جارہاہے ،وہیں مسلم ممبرپارلیمنٹ کے اس معاملہ پر علیحدہ علیحدہ ہیں۔ معروف وکیل اور راجیہ سبھا میں این سی پی ممبرایڈوکیٹ مجید میمن اور کانگریس کے راجیہ سبھا رکن حسین دلوائی کے بیانات الگ الگ سمت میں نظرآتے ہیں۔مجید میمن اسے ایک اختلافی اورتقسیم شدہ فیصلہ قراردیا ہے جبکہ حسین دلوائی فیصلہ کو تاریخی بتاتے ہوئے مسلمانوں کو اس فیصلے کو تسلیم کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ایڈوکیٹ مجید میمن نے کہا کہ سپریم کورٹ کی پانچ ججوں پر مشتمل بنچ میں سے تین ۔دوکے اختلافی فیصلہ کے بعد ملک بھر میں شریعت ،اسلام ،قانون ،مسلم خواتین کی حفاظت پر بحث شروع ہوچکی ہے ،بی جے پی اس خوش فہمی ہے کہ تقریباً دس کروڑ مسلم خواتین کے حقوق کی حفاظت کا ذمہ انہوں نے اپنے سرلیا تھا اور کامیابی کے ساتھ انہوں نے راحت دلائی ہے ۔اس لیے مستقبل میں یہ ایک مخصوص ووٹ بینک کی صورت میں بی جے پی کی جانب ڈھلک جائے گا ۔انہوں نے مزید کہا کہ حقیقت اس کے برعکس ہے ،اوّل یہ لڑائی بی جے پی کی نہیں ہے، بلکہ چند نام نہاد مسلم خواتین سماجی کارکن جو ٹیلی ویزن چینلوں پر بیٹھ کر مسلم خوتین کے لیے ہمدردی کے دعوے کرتے ہیں،حالانکہ اس لیے فیصلہ کے تحت ہندوستان کی دس کروڑ مسلم خواتین کی زندگی پر اثرانداز ہوگا۔مجید میمن کے مطابق اس فیصلہ کے قبل انہوں نے مرکزی لاء کمیشن کے سامنے میمورنڈم پیش کیا تھا

اور یہ بات ان کے روبرو رکھی گئی تھی کہ تین طلاق کے پیچیدہ مسئلہ کے متعلق متاثرین نہ تو بی جے پی ہے اور نہ ہی وہ مٹھی بھر خودساختہ خواتین ہیں جوکہ اپنے آپ کومسلمانوں کی خیرخواہ بتاتی ہیں ،حقیقت تین طلاق کا معاملہ قانونی کم ترجیحی طورپر مذہبی اور سیاسی رُخ اختیار کرلیا ہے ،یعنی پہلے مذہب ،سماجیت اور پھر قانون آتا ہے ۔قانون کا تیسرا نمبر ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک تقسیم شدہ فیصلہ ہے جوکہ تین ۔دوکے تناسب سے سامنے آیا ہے ،تین فاضل ججوں جسٹس نریمان، جسٹس للت اور جسٹس جوزف کے خیالات اور نتائج کو قانونی شکل دیتا ہے اورآرئیکل 141کے تحت یہ ملک کا قانون مناجائے گا ،جس میں انہوں نے دوفاضل ججوں چیف جسٹس کھیر اور جسٹس عبدل نذیر سے اختلاف کیا ہے اورتین طلاق کو کالعدم قراردیا ہے۔مسلم معاشرے میں کافی عرصے اس بات پر ناراضگی ظاہر کی گئی تھی کہ پہلے تو طلاق بذات خودایک ناخوشگوار درگزر امر ہے اور اس پرغصے کے عالم میں بغیر کی وقفہ سے مکمل طورپر تین طلاق ناجائز اورانسانیت کے خلاف ہے ،قرآن مجید کے فرمان یا مذہبی اصول کے مطابق اسے ہرگز صحیح نہیں مانا جاسکتا ،اس عمل کو اس فیصلہ کے ذریعے معطل قراردیا گیا جومسلم معاشرے کے لیے ایک بہت بری شکست نہیں مانا جاسکتا ہے ،جہاں تک کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ میں مداخلت کی بات ہے ،جسٹس کھیہر اور جسٹس نذیر نے بالکل صفائی کے ساتھ بات پیش کی ہے کہ مذہبی حقوق جو آئین میں درج ہیں ،وہ کسی طرح بھی بنیادی حقوق سے کم نہیں اس لیے مذہبی حقوق کی پامالی کسی زاویے سے جائزنہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اس فیصلہ کا اثر زمین پر کتنا ہوتا ہے ،اس کا پتہ چلے اور درحقیقت کیا دس کروڑ مسلم خواتین اس فیصلہ تسلیم کرتی ہیں اور حمایت کریں گی اس کا پتہ لگانا ہوگا۔بہرحال اس فیصلہ کے بعد یونیفارم سول کوڈ کی سازش جوموجودسرکار زوروشور کے ساتھ خفیہ طورپر کررہی ہے ،اس کو اس سے بڑا دھچکا پہنچا ہے ،مسلم معاشرے ،علماء کرام ،سیاست داں اور دانشوران قوم کو چاہے ئے کہ جذبات میں بیان بازی نہ کریں بلکہ 500صفحات پر مشتمل اس فیصلہ کے قانونی ماہرین کے ذریعے مطالعہ کے بعد ایک صحیح فیصلہ کریں۔جس سے قوم وملت کا وقار اور سماجی حیثیت کوئی داغ نہ پائے ۔اسی طرح کانگریس کے راجیہ سبھا ممبر حسین دلوائی کا موقف بالکل مختلف ہے ،انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کو تاریخی فیصلہ قراردیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ فیصلہ کو مسلمان خندہ پیشانی سے تسلیم کریں گے ۔حسین دلوائی نے سخت لہجہ میں کہا کہ حقیقت میں مسلم خواتین ایک عرصے سے اس کا شکار بن رہی تھیں اوراب اس بات کی امید بنی ہے کہ قانون کی تشکیل کے بعد انہیں انصاف ملے گا۔انہوں نے کہا کہ عدالت کے فیصلہ کا مطالعہ کرنے کے بعد وہ مزید اقدامات کریں گے اور اس سے قبلء وہ راجیہ سبھا میں ایک طلاق ثلاثہ کے خلاف ایک پرائیوٹ بل پیش کرچکے ہیں اور اس میں طلاق ثلاثہ کو بندکرنے کے لیے قانون بنانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔حسین دلوائی نے کہاکہ مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ اسے تسلیم کرلیں اور مسلمان ہی نہیں بلکہ ر تمام فرقوں کو اپنے معاشرے میں عورتوں کے حقوق دینے کی پہل کی جاناچاہئے تاکہ انہیں مساوات کا احساس ہوسکے ۔جسین دلوائی کا کہنا ہے کہ یہ ایک اچھا فیصلہ ہے فی الحال سپریم کورٹ نے کن نکات کو پیش کیا ہے ،اس کا پتہ نہیں چلا ہے جبکہ چیف جسٹس کھیر اورجسٹس نذیرنے اعتراض کیا ،پھر بھی یہ اسے خواتین کے ساتھ انصاف سے مترادف قراردیا جاسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT