Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / طلاق ثلاثہ پر سپریم کورٹ کے فیصلہ پر مسلم ادارے نتیجہ اخذ کرنے سے محروم

طلاق ثلاثہ پر سپریم کورٹ کے فیصلہ پر مسلم ادارے نتیجہ اخذ کرنے سے محروم

مسلم عائلی مسائل کے نام ڈرافٹ بل کی تیاری ، بھارتیہ مسلم مہیلا آندولن کی سازش
محمد مبشر الدین خرم
حیدرآباد۔11ستمبر۔طلاق ثلاثہ پر ابھی سپریم کورٹ کے فیصلہ پر کوئی نتیجہ اخذ کرنے سے مسلمانوںکے ادارے محروم ہیں اور جن لوگوں نے طلاق ثلاثہ مسئلہ پر کامیابی حاصل کی ہے ان لوگوں نے اپنا اگلا مشن شروع کردیا ہے اور وہ ’مسلم عائلی مسائل‘ کے متعلق ڈرافٹ بل تیار کرتے ہوئے ملک بھر کی خواتین ارکان پارلیمان سے ملاقات کرتے ہوئے صورتحال کو اپنی ہمنوا بنانے کی کوشش کرنے لگی ہیں۔ بھارتیہ مسلم مہیلا آندولن کی جانب سے تیار کیا گیا ڈرافٹ بل مسلم علماء و دانشوروں اور ملک کے مسلمانوں کے لئے لمحہ فکر ہے کیونکہ سپریم کو رٹ کے فیصلہ کے بعد مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جانب سے موقف کے اظہار اور حکمت عملی کے متعلق فیصلہ میں جو مدت لگائی گئی اس مدت کے دوران بھارتیہ مسلم مہیلا آندولن کی جانب سے ایسا ڈرافٹ بل تیار کیا گیا ہے جس میں شرعی قوانین میں مکمل ترمیم کی سفارشات کی جا رہی ہیں اور طلاق ثلاثہ کے ساتھ ساتھ اب تعدد ازدواج پر پابندی عائد کرنے اور ترکہ کے مسائل پر خواتین کے ساتھ نا انصافی کی دہائی دی جانے لگی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ تعدد ازدواج ‘ حلالہ پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کی گئی ہے اور قانون سازی کے دوران ترکہ میں مساوی تقسیم کے علاوہ گود لینے اور آغوشی اولاد کے متعلق اسلامی قوانین میں ترمیم کی بھی سفارش کی جا رہی ہے۔ طلاق ثلاثہ مسئلہ پر سپریم کورٹ کے فیصلہ کے فوری بعد مختلف گوشوں سے یہ کہا جا رہا تھا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ کوئی مداخلت کے مترادف نہیں ہے اور اس فیصلہ کا احترام کیا جانا چاہئے ۔ اب جبکہ بھارتیہ مسلم مہیلا آندولن کی جانب سے ڈرافٹ منصوبہ بل تیار کرتے ہوئے ان امور کو شامل کیا جا چکا ہے تو یہ بات وضح ہوچکی ہے کہ حکومت کی جانب سے کی جانے والی قانون سازی کے دوران اس بل میں کی گئی سفارشات کو بھی مسلم خواتین کے مطالبہ کے طور پر قبول کرنے کے سلسلہ میں مشاورت کرتے ہوئے عائلی قوانین میں مداخلت کی راہ ہموار کی جائے گی۔ملک کی موجودہ صورتحال میں طلاق ثلاثہ کے فیصلہ کے فوری بعد جو حالات پیدا ہوئے تھے اس کے بعد سب کی نظریں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے اجلاس پر مرکوز تھیں لیکن اس اجلاس نے طویل مدت کے بعد بھی وہی بات کہی جو ابتداء سے کہی جا رہی تھی اور حزب مخالف کی تیاریوں کا جائزہ لینے کی زحمت گوارہ نہیں کی گئی اور جس وقت یہ اجلاس جاری تھا اسی وقت بھارتیہ مسلم مہیلا سبھا کی جانب سے تیار کیا گیا ڈرافٹ بل منظر عام پر آیا لیکن اس بل پر کوئی توجہ نہیں دی گئی جس میں طلاق ثلاثہ کے سلسلہ میں عدالتی احکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ طلاق ثلاثہ کے علاوہ دیگر ناانصافیوں سے بھی مسلم خواتین کو محفوظ کرنے کی ضرورت ہے اور اب جبکہ سپریم کورٹ نے حکومت کو قانون سازی کے احکام جاری کئے ہیں تو ایسی صورت میں حکومت کو تعدد ازدواج‘ حلالہ‘ ترکہ میں مساوی حصہ‘ گود لی گئی اولاد کو حصہ اور دیگر امور کے متعلق بھی قانون سازی کیلئے متوجہ کروایا جانے لگا ہے۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق بھارتیہ مسلم مہیلا آندولن کے اس ڈرافٹ بل کے ساتھ بعض دیگر تنظیمیں بھی جو ملک کے مختلف علاقو ںمیں خواتین کے حقوق کیلئے کام کرتی ہیں ان کی جانب سے مساجدمیں خواتین کی نماز کی ادائیگی کے علاوہ دیگر امور کے متعلق بھی ڈرافٹ بل تیار کئے جانے لگے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ ملک میں موجود بیشتر مساجد میں مسلم خواتین کو داخلہ کی اجازت نہیں دی جاتی جو کہ ان کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے اسی لئے قانون سازی کے دوران اس مسئلہ کو بھی شامل کیا جانا چاہئے اور مساجد میں داخلہ سے روکنے والوں کے خلاف فوجداری کاروائی کی گنجائش فراہم کی جانی چاہئے۔ بھارتیہ مسلم مہیلا آندولن نے جو ڈرافٹ بل تیار کیا گیا ہے اسے ‘Muslim Family Law 2017’کا نام دیا گیا ہے۔ اس ڈرافٹ بل میں خلع کے حصول کی خواہشمند خواتین کو علحدگی کا مکمل اختیار فراہم کرنے کے متعلق بھی قاونون سازی کا مشورہ دیا گیا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ اگر خواتین خلع طلب کرتی ہیں تو ایسی صورت میں انہیں شوہر کی جانب سے طلاق کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہئے بلکہ خلع کے مطالبہ کے ساتھ ہی علحدگی کا فیصلہ ہوجانا چاہئے ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT