Thursday , November 23 2017
Home / Top Stories / طلاق ثلاثہ پر سپریم کورٹ کے فیصلہ کا جائزہ لینے کمیٹی بنانے کا فیصلہ

طلاق ثلاثہ پر سپریم کورٹ کے فیصلہ کا جائزہ لینے کمیٹی بنانے کا فیصلہ

شریعت میں مداخلت مسلمانوں کیلئے ناقابل برداشت
حکومت ہند کے ناپاک ارادوں کو ناکام بنانے ملک گیر مہم ، مسلم پرسنل لاء بورڈ کا اجلاس
بھوپال ۔ /10 ستمبر (پرویز باری) آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے آج ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے طلاق ثلاثہ پر سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلہ کا جائزہ لینے کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ۔ یہ کمیٹی سپریم کورٹ کے فیصلہ کے سنگینیوں اور خرابیوں کا جائزہ لے گی ۔ اگر اس فیصلہ میں شریعت کے ساتھ کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ اور مداخلت کی جارہی ہے تو اس کا بھی جائزہ لیا جائے گا ۔ کمیٹی اپنے جائزے میں اسلامی شریعت کے اندر اصلاحاتی پروگرام کو فروغ دینے کیلئے طور طریقوں اور عملی اقدامات کا بھی مشورہ دے گی ۔ مسلمانوں میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کے پروگرام کو فروغ دینے پر بھی غور کیا جائے گا ۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے مجلس عاملہ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا ۔ اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مجلس عاملہ کے ارکان نے کہا کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جانب سے مختلف سطحوں پر مختلف پروگراموں کا آغاز کیا جائے گا تاکہ مسلم مرد و خواتین کو شریعت کی تعلیم دیتے ہوئے شریعت کے دائرے میں اپنی ازدواجی زندگی کو برقرار رکھنے کی تلقین کی جائے گی ۔ مختلف تنظیموں کے ذریعہ سے ان کی مدد بھی کی جائے گی ۔ بورڈ نے مطلقہ خواتین کی مدد کو یقینی بنانے کیلئے مناسب اقدامات کا بھی جائزہ لیا ۔

حکومت پر یہ بھی زور دیا گیا کہ وہ اس مقصد کیلئے وقف بورڈس کو مالیاتی اعانت جاری کریں ۔ عاملہ کمیٹی کے رکن کمال فاروقی نے بورڈ کی جانب سے واضح طور پر یہ بیان دیا کہ شریعت میں مداخلت کو مسلمان ہرگز برداشت نہیں کرسکتے اور نہ ہی مسلمان اپنے پرسنل لاء پر کئے جانے والے اس طرح کے حملوں کو برداشت کریں گے ۔ حکومت ہند کے مقاصد اور ارادوں کی روشنی میں انہوں نے کہا کہ حکومت کے ناپاک ارادوں کو ناکام بنانے کیلئے ملک گیر سطح پر مسلمانوں میں بیداری مہم شروع کی جائے گی ۔ اٹارنی جنرل کی جانب سے سپریم کورٹ میں داخل کردہ بیان کی مخالفت کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جو شادیاں عدالت کی مداخلت کے بغیر ہوں انہیں غیردستوری قرار دیا جانا چاہئیے ۔مسلمانوں کے پرسنل لاء پر کسی بھی قسم کے حملے کو ہم پسند نہیں کرتے اور اس کی شدید مخالفت کریں گے اور اپنے موقف سے حکومت کو واقف کرواتے ہوئے دستور ہند میں مسلمانوں کو دی گئی ضمانت پر عمل کرنے کیلئے زور دیا جائے گا ۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ شعبہ خواتین کی کنوینر ڈاکٹر اسماء ظہیرہ نے کہا کہ بورڈ کا موقف شریعت کے مطابق قابل اطلاق ہے ۔ 4 سنی مکتبہ فکر کے مدارس پر بھی یہ شریعت لاگو ہوتی ہے کہ طلاق ثلاثہ بہت بڑا گناہ ہے لیکن یہ طلاق قابل عمل ہے ۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ سے قبل بھی آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اپنی بات رکھی ہے اور /16 اپریل 2017 ء کو اس سلسلے میں جاری کردہ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ جو لوگ طلاق ثلاثہ کو اختیار کرتے ہیں ان کا سماجی بائیکاٹ کیا جانا چاہئیے ۔ اسی دوران ظفریاب جیلانی نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بارے میں کہا کہ روزانہ کی اساس پر کارروائی کی جانی چاہئیے ۔ بابری مسجد کیس میں کئی دستاویزات کا ہنوز ترجمہ کیا جانا باقی ہے ۔ اس طرح کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی ۔ سپریم کورٹ نے اس سلسلے میں بہت کم وقت دیا ہے تاہم بورڈ کی جانب سے اس معاملے سے نمٹنے کی کوشش کی جائے گی ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT