Wednesday , October 17 2018
Home / Top Stories / طلاق ثلاثہ پر شوہر کو تین سال قید، آرڈیننس منظور

طلاق ثلاثہ پر شوہر کو تین سال قید، آرڈیننس منظور

صدرجمہوریہ کی دستخط ، راجیہ سبھا میں بل کی تائید نہ کرنے پر کانگریس پر تنقیدیں، صنفی انصاف کی طرف بڑا قدم:روی شنکر پرساد

نئی دہلی ،19 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام)صدرجمہوریہ رامناتھ کووند نے آج رات تین طلاق پر پابندی کے آرڈیننس کی توثیق کرتے ہوئے اس پر دستخط کئے ۔ مرکزی کابینہ نے ایک آرڈیننس کو منظوری دیتے ہوئے بہ یک وقت تین طلاق کے عمل کو تعزیری جرم قرار دیا ہے، وزیر قانون روی شنکر پرساد نے چہارشنبہ کو یہ بات کہتے ہوئے اس اقدام کی ناگزیر ضرورت کا حوالہ دیا کیونکہ سپریم کورٹ کی جانب سے منسوخ یہ ’طلاق بدعت‘ ہنوز بلاتوقف جاری ہے۔ مجوزہ آرڈیننس کے تحت تین طلاق دینا غیرقانونی اور بے وقعت رہے گا اور یہ فعل شوہر کیلئے تین سال کی جیل کا موجب بنے گا۔ ایسے اندیشوں کو دور کرتے ہوئے کہ مجوزہ قانون کا بیجا استعمال کیا جاسکتا ہے، حکومت نے اس میں بعض حفاظتی نکات شامل کئے ہیں جیسے مقدمہ کے ٹرائل سے قبل ملزم کیلئے ضمانت کی گنجائش کا اضافہ کرنا۔ ان ترامیم کو کابینہ نے 29 اگسٹ کو منظوری دے دی تھی۔ پرساد نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس پارٹی کو موردالزام ٹھہرایا کہ اُس نے ووٹ بینک سیاست کی وجہ سے ’تحفظ حقوق مسلم خواتین بہ متعلق شادی‘ کے راجیہ سبھا میں معرض التواء بل کی منظوری میں تعاون نہیں کیا۔ انھوں نے آرڈیننس کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون کے معاملے میں کسی خاتون یا اُس کے خونی رشتے دار کو کسی پولیس اسٹیشن میں کیس درج کرانا ہوگا تاکہ اس جرم کو قابل گرفت بنایا جاسکے۔ یہ جرم مصالحت کے قابل ہے۔ متاثرہ خاتون آمادہ ہوتی ہے تو مجسٹریٹ کے روبرو مفاہمت بھی ہوسکتی ہے۔ پرساد نے میڈیا والوں کو بتایا کہ ’’یہ میرا سنجیدہ الزام ہے کہ کانگریس کی قیادت ایک خاتون کے پاس ہونے کے باوجود انھوں نے اس بل کی تائید نہیں کی (تھی)‘‘۔ طلاق ثلاثہ کے عمل کو ’’ظالمانہ اور غیرانسانی‘‘ قرار دیتے ہوئے پرساد نے کہا کہ تقریباً 22 ممالک نے تین طلاق کو ضابطہ کے تحت لایا ہے۔ تاہم، ہندوستان جیسے سکیولر ملک میں صریح ووٹ بینک سیاست کی وجہ سے صنفی انصاف کو بالکلیہ نظرانداز کردیا گیا۔ ’’میں دوبارہ سونیا جی سے اپیل کرتا ہوں کہ اس آرڈیننس کو ملک کے مفاد میں لایا گیا ہے تاکہ صنفی انصاف ہوسکے۔ میں آپ سے ووٹ بینک سیاست سے اوپر اُٹھنے اور اسے خواتین کیلئے انصاف کے مفاد میں منظوری میں مدد کرنے کی اپیل کرتا ہوں۔‘‘ مرکزی وزیر نے بہوجن سماج پارٹی لیڈر مایاوتی اور ترنمول کانگریس لیڈر ممتا بنرجی سے بھی اپیل کی کہ راجیہ سبھا میں زیرالتواء بل کی منظوری میں مدد کریں، جہاں حکومت کے پاس عددی طاقت کی کمی ہے۔ لوک سبھا نے پہلے ہی یہ بل منظور کردیا ہے۔ سپریم کورٹ نے گزشتہ سال تین طلاق کے عمل پر امتناع عائد کیا تھا۔ لیکن چونکہ یہ عمل اب بھی جاری ہے، اس لئے اسے تعزیری جرم بنانے کیلئے بل پیش کیا گیا تھا۔ یوں تو مجوزہ قانون اسے ’’ناقابل ضمانت‘‘ جرم بناتا ہے، لیکن ملزم ضمانت کیلئے مقدمہ کی سنوائی سے قبل بھی مجسٹریٹ سے رجوع ہوسکتا ہے۔ کسی ناقابل ضمانت جرم میں ضمانت پولیس کی جانب سے پولیس اسٹیشن میں ہی نہیں دی جاسکتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT