Sunday , June 24 2018
Home / شہر کی خبریں / طلاق ثلاثہ پر قانون سازی ، شریعت میں مداخلت کے مترادف

طلاق ثلاثہ پر قانون سازی ، شریعت میں مداخلت کے مترادف

مسلم پرسنل لا بورڈ کی تجاویز پر عمل پیرا ہونے کا مشورہ ، سیرت النبیؐ اکیڈیمی کا ردعمل

حیدرآباد۔ 10 جنوری (پریس نوٹ) صدرنشین سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم اکیڈیمی مولانا سید غلام صمدانی عرف علی پاشاہ قادری نے طلاق ثلاثہ پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت دراصل شریعت میں مداخلت کے خواہاں ہے طلاق کے مسئلہ کا جب جائزہ لیا گیا تو سنسد نے اپنے حوالے میں طلاق کی سب سے کم شرح مسلمانوں کی بتائی جبکہ دیگر اقوام میں طلاق کا مسئلہ کثیر تعداد میں موجود ہے۔ چند شر پسند اسلام دشمن طاقتوں نے منصوبہ بند سازش کے تحت چند نام نہاد مسلم خواتین کو منظر عام پر لاتے ہوئے مذکورہ معاملہ کو اُچھالنا چاہتے ہیں حالانکہ نام نہاد خواتین کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ مولانا نے مزید کہا کہ طلاق ثلاثہ کے ضمن میں جو بل پیش کیا گیا ہے، اس میں تین سال کی سزا رکھی گئی جوکہ بالکل دستور و آئین کے خلاف ۔ انہوں نے کہا کہ جب تین سال کی سزا دینے کی بات کی گئی تو پھر کس طرح مسلم خواتین کے نان و نفقہ کا مسئلہ حل ہوگا اور اس کو کورٹ میں کس طرح ثابت کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم پرسنل لا بورڈ جو خالصاً مذہبی ادارہ ہے، جو قرآن و حدیث پاک کی روشنی میں اپنے طور پر عملی اقدامات کرتا ہے، لہذا ملت اسلامیہ کو چاہئے کہ وہ اس اہم ترین پرسنل لا بورڈ ادارہ کی نہ صرف تائید و حمایت کریں بلکہ پرسنل لا بورڈ کی تجاویز و مشورہ پر عمل پیرا ہوجائیں۔ سیرت اکیڈیمی ، سپریم کورٹ سے مذکورہ بل کے خلاف نہ صرف رجوع ہوگی، بلکہ ملک بھر میں مرکزی حکومت کے خلاف شدید احتجاج و دھرنے منظم کرے گی۔

TOPPOPULARRECENT