Thursday , June 21 2018
Home / مضامین / طلاق ثلاثہ کے خلاف سائرہ بانو کی لڑائی

طلاق ثلاثہ کے خلاف سائرہ بانو کی لڑائی

محمد مصطفی علی سروری
گیارہ اپریل سال 2001 ء کو اترپردیش کے شہر الہ آباد میں رضوان احمد کی شادی کاشی پور اترکھنڈ کی رہنے والی سائرہ بانو کے ساتھ بعوض مہر (10151/-) دس ہزار ایک سو اکیاون روپیوں کے انجام پائی تھی ۔ شادی کے بعد اس جوڑے کو دو اولادیں ہوئی ، پہلا لڑکا عرفان احمد ہے جس کی عمر آج 16 برس ہے۔ دوسری لڑکی ہوئی جس کا نام حمیرہ ناز رکھا گیا تھا اور آج اس لڑکی کی عمر 14 سال ہے۔
شادی کے بعد ہی رضوان احمد کو اس کی بیوی نے اصرار کرنا شروع کردیا تھا کہ وہ اس کے ساتھ ایک الگ گھر میں رہنا چاہتی ہے ، رضوان احمد ایک بلڈر کے ہاں کلرک کے طورپر کام کرتا تھا ، اپنی کم آمدنی کے باوجود بھی اس نے بیوی کی مرضی اور خوشی کیلئے الہ آباد کے ہی محلہ غوث نگر میں ایک کرایہ کا مکان لیکر اس میں شفٹ ہوگیا تھا۔ تھوڑے دن بعد سائرہ بانو نے فرمائش کردی کہ جب ہم لوگوں کو الگ ہی رہنا ہے تو کیوں نہ ہمارے امی ابا کے پاس جاکر رہیں گے۔ جب رضوان نے اپنی بیوی کی یہ بات ماننے سے انکار کردیا تب سائرہ بانو نے نئی نئی لڑائیاں شروع کردی اور بتلایا کہ اس کو شادی سے پہلے ایک ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا جس کے سبب مسلسل دوائیاں کھانی پڑتی ہے ۔ جب رضوان نے اترکھنڈ میں اپنے سسرال کے گھر میں جاکر گھر داماد بننے سے انکار کردیا تو سائرہ نے دھمکیاں دینی شروع کردی کہ وہ اپنے ہاتھ کاٹ کر یا زہر کھاکر خودکشی کرلے گی۔ رضوان احمد نے جب سائرہ بانو کے والد کو بتلایا کہ ان کی بیٹی اس طرح کی دھمکیاں دے رہی ہے تو انہوں نے اپنے داماد کو مشورہ دیا کہ اگر وہ دوبارہ ایسی حرکت کرے تو اس کو نیند کی گولیاں کھلادو کیونکہ شادی سے پہلے بھی اس کو اس طرح کی بیماری تھی ۔ جب رضوان اور سائرہ کے درمیان جھگڑا بڑنے لگا تو سائرہ کے والد اقبال احمد جو کہ اترکھنڈ میں ایک سرکاری ملازم ہے، رضوان کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی بیوی بچوں کو چھٹیوں میں ان کے پاس بھیج دیں ماحول بدلا تو طبیعت بھی ٹھیک ہوجائے گی۔ رضوان احمد نے اپنی بیوی اور دو بچوں کو سسرال میں چھوڑ دیا ۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ میاں بیوی کے جھگڑے بڑھتے گئے اور شادی کے 14 برس 6 ماہ بعد 10 اکتوبر 2015 ء کو رضوان احمد نے بالآخر اپنی بیوی سائرہ بانو کو باضابطہ طور پر گواہان کے روبرو طلاق دیکر “Deed of Divorce” بھیج دیا۔ اس طلاق نامے کے ساتھ مہر کی رقم 10151 روپئے اور عدت کا نفقہ 5500 روپئے ڈیمانڈ ڈرافٹ کی شکل میں روانہ کر دیا۔
قارئین اکرام آپ لوگ شائد یہ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ رضوان احمد اور سائرہ بانو کے قصے سے ہمیں کیا لینا دینا ہے اور اس طرح کے میاں بیوی کے جھگڑے اور پھر ان کے درمیان علحدگی یا طلاق کے قصے عام بات ہوگئی ہے ۔ جی ہاں میں بھی ابھی تک ایسا ہی سوچا کرتا تھا کہ ایسے قصے کہیں نہ کہیں ہوتے ہی رہتے ہیں ۔ مجھے ان سے کیا لینا دینا ، یہ میری حماقت اور غلطی تو ہی تھی ، میں اپنے اطراف و اکناف کے مسلمانوں کے مسائل کو میرے نہیں ان کے مسائل سمجھتا رہا اور پھر کیا ہوا یہ بھی جان لیجئے ۔ 28 ڈسمبر 2017 ء کو بی جے پی کی حکومت نے لوک سبھا میں طلاق ثلاثہ کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ایسی طلاق دینے والوں کو تین سال جیل کی سزا تجویز کرنے والا بل بنام The Muslim Women (Protection of Rights on Marriage) Bill 2017 پاس کروایا ، اس کا ایک اہم اور بنیادی سبب رضوان احمد اور سائرہ بانو کے درمیان ہونے والی طلاق ہی ہے۔
سائرہ بانو نے رضوان احمد کی جانب سے دی جانے والی طلاق کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے سال 2016 ء میں سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔
سائرہ بانو حالیہ عرصہ میں طلاق قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع ہونے والی پہلی خاتون تھی، اس کے بعد آفرین رحمن، گلشن پروین ، عشرت جہاں اور عطیہ صابری نام کی دیگر خواتین نے بھی انہیں اپنے شوہروں کی طرف سے دی جانے والی طلاق کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے تین طلاق کو غیر قانونی قرار دینے سپریم کورٹ سے درخواست کی چونکہ سائرہ بانو اور دیگر چار خواتین نے تین طلاق کو غیر قانونی قرار دینے کا مطالبہ کیا تھا تو ان پانچ عورتوں کی درخواست کو یکجا کرتے ہوئے سپریم کورٹ کی ایک پانچ رکنی بنچ نے جس کی قیادت چیف جسٹس آف انڈیا جگدیش سنگھ کھیر کر رہے تھے ۔ 22 اگست 2017 ء کو فیصلہ صادر کیا کہ تین طلاق دینا ایک غیر دستوری عمل ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے اس فیصلے میں مرکزی حکومت کو کہا کہ وہ اندرون چھ ماہ ایک قانون بنائے جو اس طرح کی طلاق کو روک سکے۔
سپریم کورٹ کے اس حکم / ہدایت کی پاسداری کرتے ہوئے مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ کے جاریہ اجلاس کے دوران ہی طلاق ثلاثہ کو غیر قانونی اور اس طرح طلاق دینے والے کو تین سال جیل کی سزا تجویز کرتے ہوئے قانون پیش کیا اور لوک سبھا میں اس کو منظور بھی کروالیا۔

سائرہ بانو نے بظاہر اپنا کیس جیت لیا اور رضوان احمد کی جانب سے دی جانے والی طلاق کو سپریم کورٹ سے کالعدم قرار دلوا دیا ۔ یہی نہیں اس کیس میں سپریم کورٹ کی پانچ رکنی بنچ نے 395 صفحات پر مشتمل فیصلہ بھی صادر کیا اور حکومت کو طلاق ثلاثہ کے خلاف قانون بنانے کا راستہ ہموار کیا۔ سائرہ کے والد ملٹری میں اکاؤنٹنٹ کا کام کرتے ہیں اور یہ لوگ کاشی پور اترکھنڈ کے کنٹونمنٹ علاقے کے آرمی کوارٹرس میں رہتے ہیں۔ سائرہ بانو کی ماں نے اخبار انڈین اکسپریس کی خاتون رپورٹر شالینی نائیر کو بتلایا کہ ’’سپریم کورٹ اگر ان کی بیٹی کو دی گئی طلاق کو غلط قرار دیتا ہے تو وہ پھر کورٹ سے رجوع ہوکر طلاق حاصل کرلیں گے‘‘۔ (بحوالہ انڈین اکسپریس 24 اپریل 2016 ء)
یہ تو ایک سائرہ بانو کی کہانی ہے ۔ پانچ خاتون درخواست گزاروں میں عشرت جہاں بھی شامل تھی ۔ جی ہاں وہی عشرت جہاں جس نے پارلیمنٹ میں طلاق ثلاثہ کے خلاف قانون سازی کے بعد بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی ۔ عشرت نے بھی اپنے شوہر کی جانب سے سال 2014 ء میں دوبئی سے فون پر دی جا نے والی طلاق کو کورٹ میں چیالنج کیا تھا ۔ سائرہ بانو کا مسئلہ یہ تھا اس کے لئے مقدمہ لڑنے کیلئے وکیل ایک غیر مسلم بالاجی سرینواس تھا جبکہ عشرت جہاں کولکتہ سے تعلق رکھتی ہے اور اس کی وکیل کا نام بھی جان لیجئے ، وہ ہیں نازیہ الٰہی خان۔
اتنا سب جاننے کے بعد ہم کیا کرسکتے ہیں۔ قارئین آپ کیلئے اور میرے لئے بڑا ہی آسان کام ہے ، ہم لوگ مل کر پہلے تو حکمرانوں کو گالی دے سکتے ہیں تو ایسا کرتے ہیں کہ آپ لوگ تھوڑا سا وقفہ لے لیجئے گا ، 10 منٹ تک اس تحریر کو پڑھنا روک دیجئے اور خوب جی بھر کر حکمرانوں ، مسلم دشمن حضرات کو کوس کوس کر اپنا جی ہلکا کرلیجئے۔ اس طرح کا بریک لینے کے بعد ذرا سوچئے آزادی کے بعد 70 برسوں سے ہم یہی کام تو کرتے آئے ہیں۔ ہر نقصان کیلئے دشمن کو اوروں کو مورد الزام ٹھہرانا اور پھر زیادہ کچھ سمجھ میں نہیں آئے تو یہودیوں کی سازش کہہ دینا۔ چلئے حکمرانوں کو بُرا بھلا بولنے کے بعد ہم کچھ دیر کیلئے طلاق ثلاثہ پر قانون بنانے کیلئے بھی اسرائیل اور یہودیوں کو ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ ارے جناب ہر مسئلہ کا حل نکالنا ہمارا پرانا کام ہے لیکن ایک منٹ کیلئے یہ بھی سوچئے کہ کیا اس طرح کسی کو اپنے خراب حالات کیلئے ذمہ دار قرار دینے سے مسائل حل ہونے والے ہیں۔ نہیں بالکل نہیں۔ تو پھر کیا کریں ، ارے ہاں ہم تو ان پانچ مسلم عورتوں کو تو بھول ہی گئے جن کو طلاق دینے پر یہ لوگ بجائے طلاق کو مان لینے کے عدالت سے رجوع ہوگئے۔ ٹھیک ہے آیئے ان پانچ مسلم عورتوں کو جتنا زیادہ ہوسکے برا بولیں گے۔ گندے القابات سے نوازیں گے ۔ ان عورتوں کو ہی نہیں بلکہ ان کی وکالت کرنے والے وکیلوں کو بھی خراب بولیں گے ۔ صحیح ہے بلکہ ان عورتوںکے گھر والوں کو بھی خراب قرار دیں گے ۔ ان سب کاموں کے علاوہ کیا ہم اپنے دامن بھی جھانکنے کی زحمت گوارا کریں گے۔

دور نہیں جایئے ، اپنے اڑوس پڑوس میں دیکھئے ، کتنے وکیل ایسے ہیں جو مسلم خواتین کو مسلم پرسنل لا کے خلاف عدالتوں میں اپیل کرنے میں قانونی مدد کرتے ہیں اور یہ وکیل کوئی اور نہیں خود مسلمان ہوتے ہیں۔ ہمارے محلوں کے پولیس اسٹیشن میں کتنی مسلم خواتین روزانہ سیڑھیاں چڑھتی اور شوہروں کے خلاف شکایات درج کرواتی ہیں ، کتنے مسلمان والدین ہیں جو اپنی لڑکیوں کو طلاق مل جانے کے بعد بھی ان کے دامادوں کے خلاف جہیز ہراسانی کا سنگین سے سنگین مقدمہ دائر کرنے قانون کے ہر طرح سے استعمال کرنے کیلئے پیسہ بہانے تیار ہوجاتے ہیں، تاکہ ’’سبق‘‘ سکھایا جائے ۔ کتنے ایسے مسلمان مرد حضرات ہیں جو بیویوں کو ان کا جائز و شرعی علحدگی کا حق دینے کے بجائے کورٹ کچیری کے چکر میںپھنسا کر عورتوں کو پریشان رکھنا چاہتے ہیں۔
میری دانست میں ہم مسلمانوں نے شریعت اسلامیہ کو حسب ضرورت استعمال کرنے کو عادت بنا ڈالا ، جب شریعت میں کچھ چیز اچھی لگی ، اس کو اپنالیا اور جو چیز ہم پر بار بنے اس کو ترک کردیا۔ اپنے بچوں کو دین اسلام سے واقف کروانا مسجد اور مدرسہ کے مولوی صاحب کی ذمہ داری نہیں ہے ، یہ کام والدین اور سرپرستوں کا ہے اور ملت کے قائدین علماء و دانشور بھی اپنا احتساب کریں کہ آخر کو خدائے تعالیٰ کی اس آزمائش سے باہر نکلنے صرف دعا کرنا ہے یا ہر مسلمان کو اپنی ذات سے کچھ اقدامات بھی کرنا ہے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ میں زیادہ سے زیادہ قانون داں اور اسلامی شعائر سے واقف مسلمانوں کو شامل کرنا ہوگا ۔ مجھے یہ نہیں سمجھ میں آیا کہ بورڈ طلاق ثلاثہ پر سپریم کورٹ میں اپنا موقف پیش کرنے کیلئے کانگریسی وکیل کپل سبل اور سلمان خورشید کی مدد کا طلبگار ہے۔ آخر مسلم پرسنل لا بورڈ مسلمانوں کو قانون کی تعلیم حاصل کرنے اور میدان وکالت میں دینی رجحان کے حامل اور شریعت اسلامی سے واقف وکلاء کی تعلیم و تربیت کو اپنی ترجیحات میں شامل کیوں نہیں کرتا ؟ آزادی کے بعد سے آج تک ہندوستانی مسلمانوں کو جتنے بھی مسائل درپیش ہوئے، ان کے حل کا واحد راستہ قانونی چارہ جوئی تھا۔ اگر بابری مسجد کی شہات کے بعد بھی مسلمان قانون کی تعلیم و تربیت پر توجہ مرکوز کرتے تو آج بہتر صورتحال ہوتی لیکن مسلم پرسنل بورڈ کی کارکردگی پر سوال اٹھانے والا میں کون ہوتا ہوں؟ اس سوال کا جواب عرض ہے کہ احتساب جب میرا ہوسکتا ہے اور مسلمانوں کا ہوسکتا ہے تو مسلم اداروں کا کیوں نہیں ۔ اپنی غلطیوں کو ہم نہیں تسلیم کریں گے تو کون کرے گا
خدارا اپنی ذات سے اوپر اُٹھ کر اپنے اڑوس پڑوس کا جائزہ لیجئے اور مسائل کو حل کرنے والوں کی حیثیت سے اپنی شناخت بنایئے اور اپنی اصل بنیاد اسلامی شناخت کو فراموش نہ کیجئے ۔ طلاق ثلاثہ کے خلاف عدالت سے بی جے پی نہیں بلکہ پانچ مسلم عورتیں ہی رجوع ہوئی ہیں، اس بات کو نہ بھولئے اور اپنے علاوہ دوسروں کیلئے بھی دعاء کیجئ

TOPPOPULARRECENT