Thursday , September 20 2018
Home / مضامین / طلاق غلیظہ۔ پیشِ منظر۔ پسِ منظر

طلاق غلیظہ۔ پیشِ منظر۔ پسِ منظر

عثمان شہید ، ایڈوکیٹ
ہندوستانی مسلمانوں کے کلچر، تہذیب، زبان، ثقافت ، تاریخ، مذہب، دستوری حقوق اور وجود کی آر ایس ایس بدترین دشمن ہے۔ آر ایس ایس کے وجود کا عین مقصد ہندوستان کو ہندو راشٹرا کے قالب میں ڈھالنا ہے جس کے لئے وہ 1921ء سے تگ و دو کررہی ہے۔
تاریخ ہند کے صفحات اس امر کی غمازی کررہے ہیں کہ سب سے پہلے پنجاب میں مقامی آریہ سماجیوں نے ’ ہندو مفاد ‘ کی حفاظت کیلئے 1907ء میں ہندو مہا سبھا کی داغ بیل ڈالی جبکہ وقت کی کوکھ سے آر ایس ایس نے جنم نہیں لیا تھا۔
ایککی مردم شماری میں پنجاب کے آریہ سماجیوں نے پہلی مرتبہ خود کو آریہ لکھوانے کے بجائے ہندو لکھوایا۔ یہ تبدیلی اس وقت عمل میں آئی جبکہ سوامی دیانند سرسوتی کی آریہ سماج تحریک مقبولیت حاصل کرچکی تھی۔ اس تحریک کے آغاز سے قبل ہی ہم آپ کو مختصراً بتاتے چلیں کہ ہندوستان کا قدیم ترین مذہب بدھ مت آریاؤں کیلئے ایک بہت بڑا چیلنج بنا ہوا تھا۔ آریا ہندوستان کے اصل باشندے نہیں ہیں۔ جب وہ ہندوستان میں دَر آئے تو ان کا مقابلہ یہاں کے اعلیٰ باشندے دراوڑیوں سے ہوا۔ انہوں نے دراوڑیوں کو جنوبی ہند کی طرف ڈھکیل دیا۔ بعد ازاں انہوں نے بدھ مذہب کا مقابلہ کیا۔ آریاؤں کی قیادت برہمن کررہے تھے۔ انہوں نے بدھ مذہب کو ختم کرنے کیلئے ضم ASSIMILATE کرنے کی چال چلی جو برہمن ازم کی خاصیت ہے۔ یعنی بدھ مت کی اصل شکل کو بگاڑ کر اس کو ہندو مذہب میں کچھ اس طرح حذف کرنا کہ اصل کا وجود باقی نہ رہے۔ انہوں نے اس کام کیلئے منظم اندازمیں کوشش کی اور کامیاب رہے۔ انہوں نے گوتم بدھ کو شیو کا اوتار قرار دیا اور اس کی پوجا شروع کردی۔ پھر نتیجہ یہ نکلا کہ بدھ مذہب یا گوتم بدھ ہندو مذہب کا جُز بن کر رہ گئے اور ان کی اصل تعلیمات وقت کے دھارے میں بہہ گئیں۔
یہی چال فاتح سندھ محمد بن قاسم کے سندھ کو فتح کرنے کے بعد اس کی مردانگی کے ساتھ بھی چلی گئی۔ اس کے بھی بُت بناکر پوجا شروع کردی گئی تاکہ اسلام کو بھی ہندو مذہب میں ضم کردیا جائے۔ لیکن اُفقِ ہند پر آفتاب اسلام اس لئے طلوع نہیں ہوا تھا کہ اس کو طاغوت کے اندھیرے ہضم کرلیں۔ اسلام کو ASSIMILATE کرنے کی سعی مذموم آج تک بھی جاری ہے لیکن :
فانوس بن کے جس کی حفاظت ہوا کرے
وہ شمع کیا بُجھے جسے روشن خدا کرے

اسلام کے اُجالے نے طاغوتی طاقتوں کے اندھیرے کو لرزہ براندام کردیا۔ مسجدوں کی تعمیر، میناروں کا وجود، اذانوں کی آوازیں، نمازیوں کے سجدے، اسلامی مساوات و اخوت کے چرچے کچھ اس طرح ہندوستانی سماج پر اثر انداز ہوئے کہ ہندو سماج کی بنیادیں ہل کر رہ گئیں اور اسلام کا اُجالا تیزی سے پھیلنے لگا۔ ایسے میں اسلام کا مقابلہ کرنے کیلئے ہندو طاقتوں نے 1915ء میں ’’ ہندو مہا سبھا ‘‘ قائم کی۔ ہندو مفاد کا دفاع اور حفاظت اس تنظیم کا مقصد تھا۔1920ء میں اس تنظیم نے مسلمانوں کو ہندو بنانے کیلئے شدھی سنگھٹن تحریک کا آغازکیا۔
اسلامی حقوق و قوانین سے کما حقہ معلومات نہ رکھنے والے نو مسلم اس دامِ ہمرنگ زمیں کا شکار ہوگئے۔ ہریانہ کے ضلع روہتک میں مولا جاٹ مسلمانوں کو ہندو بنانے کی رسم زور و شور کے ساتھ کھلے عام انجام دی گئی جو ہندو مسلم کشیدگی کا باعث بن گئی۔
ہندو مہا سبھا کے آٹھویں سیشن میں جو 1927ء میں ہوا تھا نعرہ دیا گیا کہ ’’ ہندو دھرم خطرے میں ہے ‘‘ اور اسلام کے وجود کو ہندوؤں کے کیلئے ایک عظیم خطرہ قرار دیا گیا۔ ہندوؤں کو غلط باور کرایا گیا بالخصوص نوجوانوں کے ذہن کو یہ کہہ کر زہر آلود کیا اور انہیں مسلم شمن بنایا گیا کہ اسلام کی تلوار جب تک تمہارے سر پر لٹکتی رہے گی تمہارا دھرم، تمہاری سنسکرتی، تمہاری پرم پرا ، خطرے میں ہے اس لئے اسلام کے وجود کو مٹانا ہوگا۔ اس کے اُصولوں اور قوانین اور پیغمبر اسلام ؐ کی شبیہ کو اس طرح بگاڑنا ہوگا کہ تمہاری نسلیں ان سے نفرت کرنے لگیں اور ہندوستان سے اسلام کا وجود مٹ جائے جیسے اسپین میں ہوا تھا۔ اس کے لئے ’’ستیارتھ پرکاش‘‘ ،’’ رنگیلا محمد ( نعوذ باللہ )‘‘ جیسی کتابوں کے علاوہ بنکم چٹرجی کی تصنیف ’’ آنند مٹھ ‘‘ منظر عام پر لائے گئے۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ ایک نیم عسکری تنظیم کی ضرورت بھی محسوس کی گئی۔
گول والکر نے اپنے کتابچے “We’Our Nationhood defined ” میں تحریر کیا ہے کہ ’’ ہمارا جغرافیہ ہندوستان ہے جہاں ہندو نسل‘ ہندو مذہب پر عمل پیرا ہے۔ بھارت ہندو راشٹرا ہے اس کو طاقتور بنانے کیلئے ایک ملک گیر تنظیم ہونا چاہیئے‘‘ آر ایس ایس کی یہ سوچ ہے کہ جو ہندو نہیں وہ ہندوستانی یا بھارتی نہیں۔ ہندوستان میں رہنے والے ہندو بن کر رہیں، ہندوؤں کے جیسے رہیں یا پھر ہندوؤں کے تابع رہیں۔

اپنے عزائم کی تکمیل کلئے آر ایس ایس نے سیاسی اقتدارحاصل کرنا چاہا اور ن سنگھ کی بنیاد ڈالی جو آج بھارتیہ جنتا پارٹی BJP کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ اس لئے موہن بھاگوت نے2014 کے پارلیمانی انتخابات میں حصہ لیتے ہوئے مودی کا ساتھ دیا اور واضح الفاظ میں کہا کہ : ’’ بھارت ہندو راشٹرا ہے اور یہاں رہنے والے تمام ہندو ہیں کوئی اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتا۔‘‘
انہوں نے بی جے پی کی سیاسی فتح کے بعد اعلان کیا کہ ’’ہندوتوا ‘‘ میں اتنی طاقت ہے کہ وہ دیگر مذاہب کو ہضم ASSIMILATE کرسکتا ہے۔ لیکن جب ہندوتوا نے ہضم کرنا چاہا تو اسلام اس کے گلے کی ہڈی بن گیا۔
1987ء میں آر ایس ایس کی قراردادوں کے مجموعے ’’ سنکلپ ‘‘ میں موجود ہے کہ سنگھ یکساں سیول کوڈ کی حمایت اور مسلم پرسنل لا کی مخالفت کرتا ہے۔
اس قرارداد کی روشنی میں یہ حقیقت عیاں ہوجاتی ہے کہ سیاسی اقتدار کے حصول کے بعد یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کیلئے مسلم پرسنل میں مداخلت، طلاق ثلاثہ پر ہماری ہی بھٹکی ہوئی خواتین کے ذریعے وار بی جے پی کا پہلا قدم ہے ۔ نہ کہ مسلم خواتین پر ترس کھا کر انہیں سماجی انصاف دلانا۔
بی جے پی ایک طرف ہندو ووٹ بینک مستحکم کررہی ہے جس کا ثبوت ہے یو پی الیکشن میں کسی بھی مسلم امیدوار کو ٹکٹ نہیں دیا گیا۔ دوسری طرف یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کے ذریعے اسلامی قوانین کا خاتمہ ۔ یکساں سیول کوڈ۔ جسٹس کرنن کے الفاظ میں ہندو لاء کی بدلی ہوئی شکل ہے۔
قرآن مجید میں طلاق ثلاثہ یا طلاق غلیظہ کا ذکر نہیں ہے۔
لیکن اس مسئلے پر علماء کرام ، مفتیان عظام اور فقیہان عرب و عجم کا اجماع ہے کہ ایسی طلاق گناہ ہے لیکن واقع ہوجاتی ہے اور زوجین میں رشتہ ازدواج منقطع ہوجاتا ہے۔
ہندوستانی مسلم سماج میں ایسی طلاق کو مسلسل تنقیدوں کا نشانہ بنایا گیا۔ اہل حدیث فرقے کے علماء نے تو کہہ دیا کہ تین بار طلاق صرف ایک ہی طلاق گنی جائے گی۔
حیرت تو ہمیں اس بات پر ہے کہ سُنی مذہبی علماء ، مشائخین، مفتیان کرام اور مولوی حضرات نے ایسی طلاق کو طلاق بدعت قرار دیتے ہوئے مسلمانوں سے کیوں نہیں کہا کہ مسلمانوں جب تم قرآن مجید کو زندہ معجزہ تسلیم کرتے ہو ، اس کو اللہ تعالیٰ کا کلام کہتے ہو ، اس کے ہر لفظ کو قابل تعمیل و قابل تعظیم سمجھتے ہو پھر قرآن میں بتائے ہوئے طلاق کے طریقے عمل کے مطابق بیوی کو طلاق کیوں نہیں دیتے؟۔
ہم طلاق ثلاثہ کے مخالف نہیں ہیں لیکن یہ کہتے ہیں کہ پہلے تو ہم اپنی بیویوں کو ہرگز ہرگز طلاق نہ دیں، ناگزیر حالات میں طلاق ضروری ہے تو طلاق حسن یا طلاق احسن دیں۔
سپریم کورٹ نے طلاق ثلاثہ کو غیر دستوری قرار دیتے ہوئے اس کو کالعدم کیا بلکہ ایسی طلاق دینے والے شوہر کے خلاف قانون سازی کیلئے مرکزی حکومت کو اندرون چھ ماہ ہدایت بھی دی ۔

اس فیصلے کی مطابعت میں مرکزی حکومت نے مسلم خواتین بل لوک سبھا میں پیش کیا اور منظور کروالیا۔ جس کی رو سے تین طلاق بیک وقت دینے والے شوہر کو تین سال کی سزا کا مستحق قرار دیا گیا۔ اور اس کو پابند بھی کیا گیا کہ وہ اپنی بیوی اور اپنے بچوں کو اس اثناء میں نفقہ بھی ادا کرتا رہے۔
اب انہیں کون سمجھائے کہ مقید شوہر کس طرح کما سکتا ہے ؟ کس طرح نفقہ کی ادائیگی کرسکتا ہے؟
اس کے بعد مرکزی وزیر قانون نے تعدد ازواج پر روک لگانے کیلئے قانون مدون کرنے کا اشارہ بھی دے دیا بشرطیکہ ’’ مسلم خواتین ‘‘ اس کے لئے آندولن ( تحریک ) شروع کریں۔
بی جے پی کی صفوں میں موجود نام نہاد مسلم خواتین ایسی تحریک شروع بھی کرسکتی ہیں، خواہ ان کا ٹھکانہ جہنم ہی کیوں نہ ہو۔ انھیں آخرت کی کوئی پرواہ نہیں وہ بھول گئیں کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور ان کے اعمال کا حساب لیا جائے گا۔اللہ اپنی آیتوں کو جھٹلانے یا انکار کرنے والوں کو معاف نہیں کرے گا، انہیں جہنم رسید کرے گا ہمیشہ کیلئے۔
مسلمانو! اپنی آنے والی نسلوں کو بیدار کرنے کیلئے خود بیدار ہوجاؤورنہ تمہاری نسلوں کو سور کا گوشت کھانے پر مجبور کردیا جائے گا، انھیں شراب پینا پڑے گا۔مسجدوں کے دروازے ان پر بند کردیئے جائیں گے ، انہیں اپنے نام تبدیل کرنا ہوگا۔قبرستانوں پر بلڈوزر چلادیئے جائیں گے تاکہ تمہارے آباء و اجداد کا نام و نشان تک باقی نہ رہے۔
( پھر نہ کوئی عثمان شہید باقی رہے گا نہ عبدالمنان
نہ عبدالرحمن، محمد سلیم، محمد کلیم )

TOPPOPULARRECENT