Thursday , August 16 2018
Home / مضامین / طلاق ِ ثلاثہ بل قانونی اور سیاسی پہلو

طلاق ِ ثلاثہ بل قانونی اور سیاسی پہلو

مجیدمیمن ایڈوکیٹ
(ممبر آف پارلیمنٹ، راجیہ سبھا)
گزشتہ دنوں مرکزی حکومت کے ذریعہ متعارف تین طلاق پر پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اس قدر شور وغوغا ہوا کہ اصل مسئلہ کہیں چُھپ سا گیا ہے۔ الزامات اور جوابی الزامات کا ایک لامتناہی سلسلہ چل پڑا ہے، جس سے افہام و تفہیم اور نتائج افزا حل کی جانب بڑھنے کا راستہ بظاہر مسدود نظر آتا ہے۔ ہوا یوں کہ مرکزی حکومت نے کچھ نا عاقبت اندیش یا متعصب مشیروں کے مشورہ پر جلد بازی میں پارلیمنٹ میں ایک ایسا بل پیش کیا جس کے نہ مقصد کا پتہ تھا، نہ منبع کا۔ اس کے مشمولات نہ تو عالمی قوانین کی نظیروں سے مربوط ہیں اور نہ ہی اس سلسلہ میں متعلقہ فریق یا متاثرین کی آراء سے استنباط کی کوئی کوشش نظر آتی ہے۔ سب سے بڑی بات تو ہے کہ اقلیتی طبقہ جو چیخ چیخ کر اپنے خصوصی مراعات اور حقو ق کی دہائی دیتا رہا، اس کے نمائندوں سے یہ دریافت کرنے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی گئی کہ آخر مجّوزہ قانون دستور کی رو سے انہیں حاصل مذہبی اور شرعی مراعات سے کیوں کر متصادم ہے۔
’دی مسلم وومین (پروٹیکشن آف رائٹس آن میرج ) بل 2017‘ کے نام سے مرکزی حکومت نے ایک بل لوک سبھا سے پاس کرا لیا۔اس اعتراض کا کوئی فائدہ نہیں کہ سیکولر جماعتوں نے بل کی خاطر خواہ مخالف نہیں کی ۔ ان جماعتوں کا لوک سبھا میں کوئی متاثر کن ووٹ فیصد ہے ہی نہیں، اس کے باوجود ان جماعتوںکے نمائندوں نے پرزور انداز میں اپنے تحفظات ظاہر کیے اور اس بل میں ترمیم کی مختلف تجویزیں بھی پیش کیں اور کم ووٹوں کی باعث لوک سبھا میںاس بل کو روک نہیں سکیں۔چنانچہ یہ بل جب راجیہ سبھا میں پیش ہوا، جہاں حزب مخالف فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے ، تو بی جے پی کو چھوڑ کر دیگر تمام پارٹیوں نے متفقہ ریزولوشن پیش کیا کہ اس بل کی اہمیت اور دور دس نتائج کے پیش نظر اسے راجیہ سبھا میں پاس کرنے سے پہلے سلیکٹ کمیٹی کو بھیجا جائے۔ سلیکٹ کمیٹی بل کے جملہ نکات کا بغور مطالعہ کرتی ہے، قانونی ماہرین سے رائے لیتی ہے اور متعلقہ فریق سے گفتگو کرتی ہے اور اپنی رپورٹ پیش کرتی ہے۔ اب اسے حکومت کی ہٹ دھرمی ہی کہیںگے کہ وہ بل کو سلیکٹ کمیٹی میں بھیجنے کے بجائے اسے ڈائرکٹ راجیہ سبھا میں پاس کرانا چاہتی ہے۔ کچھ اُڑتی ہوئی خبر یہ بھی آئی کہ شاید حکومت آرڈیننس کے ذریعہ اس قانون نا فذ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، مگر بظاہر ایسا ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ29 جنوری سے بجٹ سیشن شروع ہورہا ہے اور آئندہ مارچ تک کا شیڈول آچکا ہے۔کوئی بھی آرڈیننس تبھی لایا جا تا ہے جب کہ پارلیمنٹ سیشن میں نہ ہواور ویسے بھی یہ بل اب راجیہ سبھا کی امانت ہے
آرڈیننس ہو یا بل ، یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ جب سپریم کورٹ نے 22؍ اگست 2017 کے اپنے 3:2 کے اکثریتی فیصلہ کی رو سے تین طلاق کو پہلے ہی کالعدم قرار دے دیا ہے، تو اسی کو پھر سے دہرانے کی کیا ضرورت ہے۔ اصولاً سپریم کا تین طلاق کے ضمن میں دیا گیا مذکورہ فیصلہ آئین کی دفعہ 141کے تحت قانون تسلیم کیا جاتا ہے اور یہ قانون پورے ملک کے سبھی مسلمان شوہروں پر لاگو بھی ہوتا ہے ۔ اس قانون کی رو سے اگر کوئی مسلمان شوہر اپنی بیوی کو تین طلاق دیتا ہے تو تو وہ طلاق واقع ہی نہیں ہوتی ہے اور اس طرح سے متعلقہ شوہر و بیوی کے درمیان نکاح برقرار اور شوہر و بیوی کا درجہ اور رشتہ بدستور قائم رہتا ہے۔ اس واضح قانون کے نافذالعمل رہتے ہوئے سرکار کی دخل اندازی اور اسی بنیادپر ایک نیا قانون بنانا بے معنی ہے۔ یہی اعتراض جب معزز ممبران ِ راجیہ سبھا نے درج کرایا تو مرکزی وزیر ارون جیٹلی نے ایوان میں کھڑے ہوکر کہا کہ چونکہ 22؍ اگست کے مذکورہ فیصلہ میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ طلاق ثلاثہ کو معطل رکھنے کا یہ حکم چھ ماہ کے لیے ہے اور اس چھ ماہ کے دوران یعنی 22؍ فروری 2018 سے پہلے سرکار اس سے متعلق ایک قانون بنالے اور چونکہ چھ ماہ پورے ہونے کو آ ئے ہیںاوراس بل سیلکٹ کمیٹی میں بھیجنے کا وقت نہیں بچا ہے، اس لیے سرکار اس بل کو ڈائرکٹ ایوان میں پیش کررہی ہے۔ یہ بیان ایوان کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔ سپریم کورٹ کے جس حکم کا ذکر وزیر موصوف نے کیا تھا وہ محض دو ججوں کا اقلیتی فیصلہ تھا، جو تین ججوں کے اکثریتی فیصلہ کے سامنے اسی وقت کالعدم (overrule) ہوگیا تھا، اس لیے اصل فیصلہ کے مطابق تین طلاق ہمیشہ کے لیے باطل قرار دے دی گئی ہے اور سپریم کورٹ نے سرکار پرا یسی کوئی ذمہ داری عائد نہیں کی ہے جس کی رو سے ایک نیا قانون بنانا ضروری ہو۔ اب تین طلاق کے سو معاملے سامنے آئیں یا ہزار،یہ قانون کا پختہ نظریہ ہے کہ ایسی حرکت سے نکاح برقرار رہتا ہے اور جب نکاح باقی ہے تو سرکار کیوں پریشان ہے، سمجھ سے باہر ہے۔
بل کی دفعہ 4 میں جس تین سال کی سزا کا ذکر ہے، وہ تعجب خیز بھی ہے اور مضحکہ انگیز بھی اور ایسی کوئی نظیر دنیا کے کسی قانون میں نہیں ہے کہ اس جرم کی سزا دی جائے جو واقع ہی نہیں ہوا۔ سپریم کورٹ کے مذکورہ قانون کی رو سے 22 ؍ اگست 2017 کے بعد تین طلاق کہہ دینا بکواس بازی یا بے معنی عمل سے زیادہ کچھ نہیں ہے اور اس ے نکاح پر کوئی اثر نہیں ہوتا ہے تو کوئی احمق ہی ہوگا جو تین طلاق دے اور کوئی دے بھی تو اس کے ارادہ کے مطابق یکلخت بیوی کے اوپر علیحدگی کا پہاڑ نہیں ٹوٹتا (جیسا کہ مذکورہ فیصلہ سے پہلے ہوتا تھا) تو اس بے معنی حرکت کی سزا اور وہ بھی تین سال کی سزا دینے کا کیا مطلب ہے؟این ڈی اے حکومت کا یہ غیر متوازن بل تو تین طلاق کی صورت میں علیحدگی نہ ہونے کے باوجود میاں بیوی میں علیحدگی کرا کے ہی دم لینا چاہتا ہے۔ اس بل کی رو سے تین طلاق کی صورت میں بیوی اپنے شوہر سے اخراجات مانگ سکتی ہے، مگر ملکی قانون کی رو سے خرچہ اس وقت ہی مل سکتا ہے جب کہ بیوی اپنے خاوند سے علیحدہ رہ رہی ہو۔ اگر وہ اسی گھر میں سسرالیوں کے ساتھ رہتی ہے تو وہ maintenance کی مجاز نہیں ہے۔مضحکہ خیز بات یہ بھی ہے کہ جو شوہر جیل میں ہوگا اورکمائے گا نہیں تو وہ خرچہ کیسے دے گا۔یہی سوال ایوان میں جب پوچھا گیا تو وزیر قانون کا جواب تھاکہ مجسٹریٹ سے ضمانت لی جاسکتی ہے۔ اب انہیں کون بتائے کہ غریب آدمی جس کے جیل رہتے ہوئے خرچہ دینے کی اہلیت زیرِ غور ہے وہ قانونی معاملات کے اخراجات اور زرِضمانت کا انتظام بھلا کیسے کرے گا۔
تین طلاق کے قانون کے باوجوداگر کوئی احمق یہ عمل کرتا ہے اور جیل کی سزا پاتا ہے یا کسی بھی شوہرکو تین طلاق کے قانون کے تحت سزا ہوجاتی ہے تو اس سے بعید نہیں کہ وہ جیل میںرہتے ہوئے تین بار میں جائز طریقہ سے اپنی بیوی کو طلاق نہ دے دے اور اس طرح سے خانہ آبادی کے بجائے خانہ بربادی کے آثار صاف محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ پھر تو یہ سزا ڈر اور خوف پیدا کرنے کے بجائے اکسانے اور مہمیز دینے والا مذاق بن کر رہ جائے گی۔یہ اکساوہ سزا کی صورت میں شوہر کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بیوی سے بدظن کر کے اس کو قطع تعلق پرآمادہ کرنے تک ہی محدود نہیں ہے، بلکہ بیوی کے ہاتھ میں ایک ایسا ہتھیار دینے کے مترادف ہے جس کو استعمال کرنے میں فائدہ کم ، نقصان زیادہ ہے۔ ذرا سی ناراضگی ، نا اتفاقی پر یا محض بدنیتی اور غیر کے اکساوے پر بیوی شوہر کے خلاف اس قانون کا استعمال کر سکتی ہے۔ مثال کے طور پر بل کے موجودہ ڈرافٹ کی دفعہ7 کے مطابق طلاق ثلاثہ کا اقدام ایک کوگنزیبل اور نان بیلیبل جرم ہے، یعنی پولیس یا حکومت ازخود (بغیر متاثرہ کی شکایت کے) تین طلاق کے ملزم کے خلاف کیس رجسٹر کرنے، گرفتار کرنے اور تفتیش کرنے کی مجاز ہے اورگرفتاری کے بعد رہائی کی صورت بس یہی ہے کہ اسے مجسٹریٹ کی عدالت سے ہی ضمانت مل سکتی ہے۔ اس قانون کا بے جا اور غلط استعمال کے اندیشہ سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ پہلے تو کسی بھی ایرے غیرے کی شکایت پر پولیس گرفتار کر سکتی ہے اور اسی طرح بیوی کو بھی اکسا وے یا ڈراوے کے ذریعہ شوہر کے خلاف بیان دینے پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔ آئے دن محبوب کے ساتھ مل کر یا زمین جائداد کے چکر میں قتل تک کے واقعات سننے میں آتے ہیں، کیا عجب کہ جہیزو ریپ کے قوانین کے غلط استعمال طرح اس قانون کا بھی استعمال مرد کو ٹھکانے لگانے کے لیے کیا جائے۔ اس گفتگو کا ہرگز یہ نتیجہ نہیں نکالنا چاہیے کہ تمام مرد حضرات دودھ کے دھلے ہیں، لیکن چند مردوں کے ظلم اور جہالت سے لڑنے کے لیے بجائے اس کے کہ خواتین کے ہاتھوں کو مضبوط کیا جاتا، ان کو اپنے ہی پیروں پر کلہاڑی مارنے پرآمادۂ پیکار کیا جا رہا ہے۔ بہتر یہ ہوگا کہ اس طرح سے ممنوع طلاق کے بعد بیوی کو یہ اختیار دیا جائے کہ وہ سسرال ہی میں رہنا چاہے گی یاعلیحدگی اختیار کرے گی۔اسی طرح شوہر کے خلاف کسی قانونی کاروائی کرنے کا فیصلہ بھی صرف اور صرف بیوی کے اختیار میں ہونا چاہیے نہ کہ اسے cognisable offence بنایا جائے۔
اس بل میں ایسا کوئی پیمانہ نہیں جس کی بنا پر یہ ثابت کیا جاسکے کہ تین طلاق دی بھی گئی ہے یا نہیں، گو یا شہادت کے باب میں یہ بل بالکل کورا ہے۔ ایسے میں حکومت کی منشا پر سوال اٹھنا لازمی ہے کہ کہیں وہ مسلم خواتین کے نام نہاد حقو ق کی دہائی دے کر خاوند او رزوجہ کے کھٹے میٹھے رشتوں میں زہرگھولنا اور خاندان کا شیرازہ بکھیرناتو نہیں چاہتی ہے۔چھوٹی موٹی گھریلو نا اتفاقیوں کے توے پرتعصب کی روٹیاں سینکنا ،خاندان کو توڑنا، مسلم مردوں سے جیلوں کو بھرنا اور مسلم عورتوں اور بچوںدربدر بھٹکنے پر مجبور کرنا اخلاقی پستی اور انسانی حقو ق کی پامالی کی بدترین شکل ہے اور اس کی ہر سطح پر مذمت اور مخالفت ہونی چاہیے۔

TOPPOPULARRECENT