Thursday , November 23 2017
Home / شہر کی خبریں / طلاق پر سپریم کورٹ کا فیصلہ شریعت محمدی میں مداخلت کے مترادف

طلاق پر سپریم کورٹ کا فیصلہ شریعت محمدی میں مداخلت کے مترادف

حکومت کو علماء سے مذاکرات کرنے کا مشورہ، شرعی فیصلہ بورڈ کا اجلاس، علماء کا خطاب
حیدرآباد 27 اگسٹ (پریس نوٹ) 3 طلاق پر سپریم کورٹ کا فیصلہ شریعت محمدیؐ میں کھلی مداخلت ہے۔ شریعت محمدیؐ کو سمجھنے کے لئے حکومت علماء سے بات کرے۔ جو مسلمان قرآن و حدیث کے قوانین کے انکار کا مرتکب ہو اور اس کے بدل نئے قوانین کی حمایت کرے وہ کفر کا مرتکب ہوا۔ مسلم سماج سے اس کا تعلق باقی نہیں رہے گا۔ شرعی فیصلہ بورڈ کی اسٹیرنگ کمیٹی کے اجلاس میں جو آج صداقت ہاؤز قدیم ملک پیٹ پر منعقد ہوا، مسلم جماعتوں، علماء مشائخین، مفتی حضرات اور وکلاء نے اس بات کا اعلان کیا۔ شرعی فیصلہ بورڈ کی اسٹیرنگ کمیٹی نے 3 طلاق پر سپریم کورٹ کے فیصلے سے پڑھنے والے اثرات اور فیصلے کے بعد الیکٹرانک میڈیا کے رول پر بھی تفصیلی جائزہ لیا۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ کا خیرمقدم نہیں کیا جاسکتا۔ یہ فیصلہ شریعت میں مداخلت ہے۔ 3 طلاق کو اللہ کے رسول ﷺ اور پھر خلفائے راشدین کے زمانے میں بھی طلاق مانا گیا البتہ طلاق دینے والا گنہگار ہے۔ مگر طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ دستور ہند نے مذہبی آزادی عطا کی ہے اور شریعت میں مداخلت یا بحث کا کسی کو حق نہیں ہے۔ سماجی مسائل کو شریعت میں تبدیل کرکے درست نہیں کیا جاسکتا۔ شرعی فیصلہ بورڈ کی اسٹیرنگ کمیٹی نے کہاکہ دراصل مسلم مخالف طاقتیں اس وقت ملک کو بھگوا رنگ میں رنگنے کی کوشش کررہی ہیں اور حکومت کے ذمہ دار بی جے پی کے قائدین یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کی باتیں بھی کررہے ہیں۔ شرعی فیصلہ بورڈ نے حکومت سے کہاکہ وہ شریعت کو سمجھنے کے لئے علماء کرام سے گفتگو کریں۔ شرعی فیصلہ بورڈ کا مکمل اجلاس ستمبر کے پہلے ہفتہ میں منعقد ہوگا۔ جس میں مفتیام کرام، علماء، دینی و ملی جماعتوں کے سربراہ وکلاء شرکت کریں گے۔ شرعی فیصلہ بورڈ میں تحریک مسلم شبان کے علاوہ جماعت اسلامی تلنگانہ و اے پی، جمعیۃ العلماء تلنگانہ و اے پی، سنی علماء بورڈ، جمعیۃ اہل حدیث، وحدت اسلامی کے ساتھ دیگر جماعتیں اور نامور وکلاء ، مفتیان، مشائخین، دانشور حضرات موجود ہیں۔ 65 رکنی شرعی فیصلہ بورڈ میں خصوصی مدعوئین کو مدعو کیا جارہا ہے۔ اسٹیرنگ کمیٹی کے اجلاس میں اہم نکتہ کو ایجنڈے میں شامل کرنے پر اتفاق ہوا کہ کوئی بھی مسلمان اگر قرآن و حدیث کے قوانین کے خلاف نئے قوانین کی بات کرے یا قرآن و حدیث کے قوانین کا انکار کرے تو وہ کافر قرار دیا جائے گا۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مسلمان مایوس نہ ہوں، حالات کا مقابلہ کریں ، شریعت کے تحفظ کے لئے ہروقت کمربستہ رہیں اور شریعت پر سختی سے عمل کریں۔ اپنے عائلی مسائل طلاق، خلع، نان و نفقہ، وراثت کے معاملات میں شرعی فیصلہ بورڈ، شرعی فیصلہ کمیٹیوں، دارالقضاء ت، علماء سے رجوع ہوں تاکہ شریعت کی روشنی میں فیصلہ ہو۔ ایک نشست میں 3 طلاق دینے سے گریز کریں۔ ٹھہر ٹھہر کر طلاق دیں، 3 ماہ میں طلاق دیں یا ایک طلاق دے کر اپنی بیوی کو پھر رجوع کرنے کا موقع باقی رکھیں۔ اجلاس میں جناب محمد مشتاق ملک صدر تحریک مسلم شبان و کنوینر شرعی فیصلہ بورڈ مفتی حسن الدین امیر شریعت جامعۃ المؤمنات، جناب عثمان شہید ایڈوکیٹ صدر مسلم فرنٹ، مفتی منظور احمد، جناب محمد اظہرالدین سکریٹری جماعت اسلامی، مولانا حامد حسین شطاری سنی علماء بورڈ ، جناب فاروق علی خاں ایڈوکیٹ، جناب عمران ایڈوکیٹ، جناب ایم اے غفار نائب صدر شبان، مولانا حافظ شیخ حسین نظامی، جناب سید عارف قادری، جناب محمد بن عبداللہ، جناب علی مکی و دیگر نے شرکت کی۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT