Thursday , November 15 2018
Home / اداریہ / طلاق پر قانون سازی کا مسئلہ

طلاق پر قانون سازی کا مسئلہ

مسلم خواتین اور وزیراعظم مودی نظم و نسق کے درمیان غیر متوقع طور پر ایک تصادم کی صورتحال پیدا ہونے والے حالات کو ہوا دی جارہی ہے ۔ مسلم گروپس نے مذہبی معاملوں میں حکومت کی مداخلت کا سوال اٹھایا ہے ۔ کیوں کہ طلاق کے بارے میں حکومت کو مسلم مذہبی امور میں در اندازی کا حق حاصل نہیں ہے ۔ طلاق کو قانون کے خلاف امتیازی اور توہین آمیز معاملہ متصور کیا جاتا ہے ۔ حکومت اس عمل پر پابندی کے لیے پارلیمانی سرمائی سیشن میں باقاعدہ قانون لانے کی تیاری کررہی ہے ۔ سپریم کورٹ نے اس سال اگست میں طلاق ثلاثہ کے عمل کو غیر دستوری قرار دیا تھا ۔ ججس کی نظر میں یہ عمل ایک خاتون کے حقوق کی خلاف ورزی ہے ۔ ان تمام بحث کے باوجود طلاق ثلاثہ کا عمل اپنی جگہ برقرار ہے ۔ یہ بحث بھی برقرار ہے کہ حکومت کو شرعی امور میں مداخلت کرنے کے بجائے مسلم معاشرہ میں اصلاحات کے عمل کو تیز کرنا چاہئے ۔ مسلمانوں میں اس نا پسندیدہ عمل کو روکنے کے لیے شعور بیداری پیدا کرنا ضروری ہے ۔ طلاق ثلاثہ پر پابندی کے خلاف اپنی بحث کو موثر بنانے والوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کی توثیق کرتے ہوئے مسلم معاشرہ کو اپنی شرعی زندگی کی روشنی میں طلاق ثلاثہ کے بارے میں اصلاحات لانے پر غور کرنا چاہئے ۔ شریعت کے حوالے سے یہ بات واضح ہے کہ طلاق ثلاثہ کو قرآن مجید میں بھی ایک گناہ کا عمل قرار دیا ہے ۔ جس سے اجتناب کی تلقین بھی کی گئی ہے ۔ مگر حالیہ برسوں میں جن حکمران طاقتوں کو مسلم امور میں دراندازی میں دلچسپی ہے ۔ انہیں اس مسئلہ کو مسلم طبقہ کی تضحیک کے لیے استعمال کرنے کا موقع مل گیا ہے جب سے مرکز میں بی جے پی زیر قیادت مودی حکومت آئی ہے ، مسلم معاملوں کو متنازعہ دائرہ میں گھسیٹا جاکر مسلم طبقہ کو نشانہ بنایا جانا ایک معمول کا عمل بن گیا ہے ۔ مودی نظم و نسق کو صرف مسلم خواتین کے طلاق کے مسئلہ سے دلچسپی ہے جب کہ مسلم خواتین کے ساتھ دیگر شعبوں میں ہونے والی زیادتیوں کا خیال نہیں ۔ اس ملک میں بلکہ خود وزیراعظم نریندر مودی کی آبائی ریاست گجرات میں 2002 کے فسادات کے دوران سینکڑوں مسلم خواتین کی عصمت ریزی کی گئی ، کئی مسلم خواتین بیوہ بنادی گئیں اور کئی خواتین کی کوکھ اجاڑ دی گئی ۔ انہیں آج تک انصاف نہیں مل سکا ۔ یہ ایک ایسی سچائی ہے جس پر حکمراں طاقت نے چشم پوشی اختیار کرلی ہے مگر اس کو صرف طلاق کے معاملہ میں دلچسپی ہے تاکہ وہ مسلم معاشرہ کو ذہنی طور پر اذیت دے کر اپنے سیاسی مقاصد میں کامیابی حاصل کرسکے ۔ اس حکومت کو طلاق مسئلہ پر بحث کرنے اس پر پابندی عائد کرنے کی فکر ہے لیکن مسلم خواتین کے مسائل ، سرکاری سطح پر ہونے والی نا انصافیوں اور زیادتیوں کی شکایات کی سماعت سے کوئی سروکار نہیں ہے ۔ جو حکومت اس ملک کے دستور کی بات کرتی ہے اس نے دستور میں خواتین کو دئیے گئے یکساں حقوق کو نظر انداز کردیا ہے ۔ گجرات فسادات سے متاثرہ خواتین کا آج تک کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔ ان میں سے کئی خواتین سڑکوں پر ایک زندہ لاش کی طرح جی رہی ہیں ، بعض خواتین کو بندھوا مزدور بنالیا گیا ہے ۔ گجرات کی تقریباً 89 بستیوں کو تباہ کردیا گیا اور یہاں رہنے والے لوگوں کی حالت غیر انسانی کیفیت سے دوچار ہے اور یہ گجرات کی سنگین صورتحال کی عکاسی کرتی ہے مگر مرکز کی حکومت کو یہ حقیقت ہرگز نظر نہیں آتی ۔ مسلم طبقہ سے ہٹ کر دیگر طبقات کی خواتین کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کی جانب مودی نظم و نسق کی توجہ ہی نہیں جاتی ، ملک کے قبائلی علاقوں میں خواتین کے ساتھ جس طرح کی زیادتیاں ہورہی ہیں اس کا نوٹ نہیں لیا جاتا ۔ حکومت کی ذمہ داریوں کا دائرہ وسیع تر ہوتا ہے ۔ اگر وہ اپنی قومی ذمہ داری کو محدود کر کے صرف شرعی امور میں دراندازی کو ہی اپنا حق حکمرانی سمجھتی ہے تو یہ مسئلہ کو نازک بنانے کا باعث ہوگا ۔ پارلیمنٹ میں طلاق مسئلہ پر کوئی بھی قانون پیش کرنے سے پہلے حکومت کو تمام فریقین سے مشاورت کرنی چاہئے ۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ کی آڑ میں حکومت عجلت میں قدم اٹھائے گی تو اس مسئلہ کو مزید پیچیدہ بنانے کی بھی وہی ذمہ دار ہوگی ۔ شریعت کو کسی بھی دنیاوی قانون کے ذریعہ کالعدم کرنے کی کوشش غلط ہوگی ۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ کی بنیاد پر حکومت یہ بل پیش کرسکتی ہے لیکن اسے یہ خیال رکھنا ضروری ہے کہ طلاق کا مسئلہ مسلم پرسنل لا کے دائرہ کار کا حصہ ہے اور حکومت کے ایک حق کے لیے دوسرے بنیادی حقوق کو سلب کرنے کی کوشش کرنا چاہتی ہے ۔ اس معاملہ میں حکومت کی مداخلت پر مسلم طبقہ کے ذمہ داروں نے اب تک غور و خوص بھی کیا ہے اور یہ بات زیر بحث ہے کہ آیا حکومت کو شریعت میں مداخلت سے روکنا چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT