Saturday , September 22 2018
Home / شہر کی خبریں / طلباء و طالبات ایک قدم بڑھیں تو میں دو قدم آگے بڑھوں گا

طلباء و طالبات ایک قدم بڑھیں تو میں دو قدم آگے بڑھوں گا

محنت لگن کے ساتھ تعلیم اور ہنر پر توجہ دیں، ہونہار طلباء کی سیاست مدد کریگا:عامر علی خان
حیدرآباد ۔ 25 نومبر (سیاست نیوز) محنت، لگن، جستجو کامیابی کی کلید ہے۔ خداداد صلاحیتیں رکھنے والے مسلم طلبہ کی حوصلہ افزائی کرنے کا روزنامہ سیاست نے بیڑہ اٹھایا۔ تعلیم اور ہنر اپنانے والوں کا منزل دامن پھیلا کر استقبال کرتی ہے۔ عثمانیہ کالج کرنول میں منعقدہ سیاست اور مائناریٹیز یوتھ کنونشن میں بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے نیوزایڈیٹر روزنامہ سیاست جناب عامر علی خان نے ان خیالات کا اظہار کیا۔ پرنسپل عثمانیہ کالج نعمت اللہ بیگ نے کنونشن کی صدارت کی۔ اس موقع پر آئی سی ڈی ایس کے انچارج سید سمیع الدین مزمل، عطا اللہ خان لکچرر، جونیر لکچررس امتحان کے ٹاپر لقمان، شیماکوچنگ سنٹر کے سربراہ مجیب الرحمن، رائلسیما ودیارتھی پورٹا سیمتی کے صدر روی کمار کے علاوہ طلباء و طالبات کی بھاری تعداد موجود تھی۔ عامر علی خان نے بتایا کہ روزنامہ سیاست نے ان طلبہ کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کی ہے جنہوں نے تعلیم اور ہنر میں اپنے جوہر دکھائے۔ ہندوستان کی آزادی کے وقت سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کا تناسب 42 فیصد تھا جو اب گھٹ کر 0.47 فیصد ہوگیا ہے۔ ہر شعبہ میں مسلمانوں کو ایک منظم سازش کے تحت دور کردیا گیا۔ آگے بڑھنے اور کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرنے کیلئے مسلمان تعلیم حاصل کریں اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوائے۔ جب مسلمان تعلیم سے دور ہوئے تو ملازمتوں سے محروم ہوگئے۔ خلیج کے دروازے کھلے تو مسلمانوں میں خوشحالی آئی ہے لیکن نوجوانوں کو اپنی ساری توجہ تعلیم پر مرکوز کرنی چاہئے۔ جدید دور کی تعلیم نے کال سنٹرس کے دروازے کھول دیئے، جن کے پاس صلاحیتیں تھیں انہیں ملازمتیں حاصل ہوگئی۔ مسلمان صرف حصول تعلیم تک محدود نہ رہے بلکہ ہنر کو بھی اپنائے۔ دونوں شعبوں میں انمول رول ادا کرنے والوں کی کامیابی قدم چومتی ہے۔ عامر علی خان نے روزنامہ سیاست کی تعلیمی، سماجی، فلاحی سرگرمیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ 2004-17ء تک 13 سال میں سیاست کی تربیت سے 940 نوجوانوں بشمول 2 لڑکیوں کو پولیس میں ملازمت فراہم ہوئی ہے۔ روزنامہ سیاست کرنول کے مسلم طلبہ کو بھی پولیس تقررات کی تربیت دینے تیار ہے۔ اس کے ساتھ ہی ووکیشنل کورسیس کی بھی سیاست کی جانب سے تربیت دی جاتی ہے، جس میں چاکلیٹ کی تیاری، پاٹ پینٹنگ اور مہندی ڈیزائننگ سے متعلق 30 کورسیس کی بھی تربیت حاصل ہیں۔ اس کے علاوہ نوجوانوں میں صلاحیتوں کو ابھارنے پر انٹرویو کیلئے خود اعتمادی پیدا کرنے کیلئے اسکیل ڈیولپمنٹ کی تربیت بھی فراہم کرتا ہے۔ یہ بھی ہفتہ10 دن کی تربیت کرنول کے طلبہ کو فراہم کرنے کا نیوزایڈیٹر سیاست نے پیشکش کیا اور کہا کہ مسلم طلبہ ایک قدم آگے بڑھتے ہیں تو وہ دو قدم آگے بڑھنے کیلئے تیار ہے۔ شیما کوچنگ سنٹر کے سربراہ مجیب الرحمن نے کرنول کے طلبہ کی محنت اور مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ طلبہ ایمانداری اور دیانتداری سے محنت کررہے ہیں مگر اس کا پھل نہیں مل رہا ہے۔ کرنول میں سرکاری سطح پر اردو کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ اردو سرکاری میڈیم اسکولس میں کئی جائیدادیں مخلوعہ ہیں مگر ان پر تقررات نہیں ہورہے ہیں۔ اردو میڈیم جائیدادوں میں مختص کردہ جائیدادوں پر کوئی تقررات نہیں ہورہے ہیں۔ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اردو کے مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کیلئے علحدہ ڈی ایس سی منعقد کریں اور کرنول کے مسلم لڑکے و لڑکیوں کی تعلیمی شعبہ میں مدد کرنے کی نیوزایڈیٹر روزنامہ سیاست جناب عامر علی خان سے اپیل کی۔ پرنسپل عثمانیہ کالج نعمت اللہ بیگ نے کرنول کے مسلم طلبہ کا تعاون کرنے کیلئے آگے بڑھنے والے عامر علی خان سے اظہارتشکر کرتے ہوئے کہا کہ روزنامہ سیاست ملت کی ہمدردی کی بہت بڑی فیکٹری ہے۔ طلبہ پہلے خود اعتمادی پیدا کریں۔ اپنی محنت سے ہی کسی کو بھی اونچا مقام حاصل ہوتا ہے۔ ہمارے اسلاف کی قربانیاں اور تجربے، نوجوان نسل کیلئے مشعل راہ ہے۔ مایوسی کو کبھی زندگی پر حاوی ہونے نہ دیں۔ نیوز ایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خان نے ذہین طلبہ کی مدد کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔ وقت کو قیمتی بنائیے۔ روزنامہ سیاست کے تعاون کا بھرپور فائدہ اٹھائیے۔ لکچرر سید سمیع الدین مزمل نے عثمانیہ کالج کے فاونڈر ڈاکٹر عبدالحق کو خراج عقیدت پیش کی۔ ان کی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ موصوف کو مدراس کے جس کالج نے داخلہ دینے سے انکار کردیا تھا اپنی قابلیت سے وہ اسی کالج کے پرنسپل بن گئے۔ انہوں نے روزنامہ سیاست کی ملی خدمات بالخصوص عامر علی خان کے عوامی خدمات کے جذبہ کو ناقابل فراموش قرار دیا۔ رائلسیما ودیارتھی پورٹا سمیتی کے صدر روی کمار نے مسلمانوں کے ڈسپلن سے متاثر ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ یہ حقیقت ہے حکمرانوں نے مسلمانوں کو تمام شعبوں میں نظرانداز کردیا۔ صرف ووٹ بینک کی طرح استعمال کیا۔ حیدرآباد کے بعد کرنول میں مسلمانوں کی دوسری بڑی آبادی ہے مگر کرنول کے مسلمانوں سے ناانصافی ہورہی یہ۔ مسلمانوں کے ہر تحریک اور احتجاج میں حصہ لیتے ہوئے اپنی جانب سے مکمل تعاون کرنے کا تیقن دیا اور کہا کہ روہنگیائی مسلمان بھی ہماری طرح انسان ہیں۔ مسلمان ملک کے وفادار ہیں مگر ان پر غدار ہونے کا فرقہ پرستوں کی جانب سے جھوٹا الزام عائد کیا جارہا ہے۔ پرنسپل عثمانیہ کالج اور دوسرے اسٹاف نے عامر علی خان کو لائبریری کے علاوہ دوسرے ڈپارٹمنٹس کا معائنہ کروایا۔

TOPPOPULARRECENT