Friday , December 15 2017
Home / شہر کی خبریں / طلبہ میں خودکشی کا بڑھتا رجحان افسوسناک

طلبہ میں خودکشی کا بڑھتا رجحان افسوسناک

تعلیمی اداروں کو طلبہ پر ذہنی دباؤ ڈالنے سے گریز کا مشورہ
حیدرآباد۔/18اکٹوبر، ( سیاست نیوز) طلبہ میں خودکشی کے بڑھتے رجحانات افسوسناک ہیں۔ خانگی تعلیمی اداروں کی جانب سے طلبہ پر ڈالے جانے والے بوجھ اور دباؤ کی وجہ سے طالب علم انتہائی اقدام کرنے پر مجبور ہورہے ہیں۔ خاص کر انٹرمیڈیٹ کی تعلیم کے ساتھ ساتھ خصوصی کوچنگ حاصل کرنے کیلئے ہاسٹلوں میں قیام کرنے والے طلبہ پر تعلیمی ادارے اور ان کے انسٹرکٹرس غیر معمولی دباؤ ڈال کر طلبہ کو پریشان کرتے ہیں۔ 13 اکٹوبر کو ایک طالبہ نے جو حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے ایک پروقار تعلیمی ادارہ سے تعلق رکھتی تھی پھانسی لیکر خودکشی کرلی۔ کالج انتظامیہ کی جانب سے تعلیم کیلئے ڈالے جانے والے غیر معمولی دباؤ کو وہ برداشت نہیں کرسکی۔طالبہ سمیکتا نے مادھا پور میں واقع اپنے کالج میں پھانسی لے لی تھی۔ضلع نظام آباد سے تعلق رکھنے والی بس ڈرائیور کی دختر نیٹ انٹرنس کیلئے کوچنگ حاصل کررہی تھی۔ خانگی تعلیمی اداروں اور کوچنگ سنٹرس میں طلبہ کو کوچنگ کے نام پر اذیت دی جاتی ہے۔ علی الصبح 4 بجے سے کوچنگ کلاسیس کا آغاز ہوتا ہے اور12 بجے دن انہیں کلاس روم میں ٹھونس دیا جاتا ہے۔ طلبہ کو نہ آرام ملتا ہے اور نہ نیند حاصل ہوتی ہے۔ تلنگانہ میں طلبہ کے اندر خودکشی کے بڑھتے واقعات کے خلاف رنجیو اچاریہ اسپیشل چیف سکریٹری برائے تعلیم نے ایک ہنگامی اجلاس منعقد کرتے ہوئے اپنے محکمہ کی جانب سے تعلیمی اداروں کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا۔ اجلاس میں طلبہ کی اموات کا نوٹ لیتے ہوئے اس بات کا پتہ چلایا گیا کہ طلبہ میں خودکشی کے رجحان کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے بڑی وجہ کارپوریٹ کالجس کی جانب سے ان پر غیر معمولی دباؤ ڈالا جانا بھی شامل ہے۔کئی سماجی تنظیموں نے بھی طلبہ کے اندر خودکشی کے بڑھتے رجحان کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے تعلیمی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ تعلیم کے نام پر معصوم ذہنوں کو اذیت دینے سے گریزکریں۔

TOPPOPULARRECENT