Tuesday , December 19 2017
Home / شہر کی خبریں / طلبہ و نوجوانوں کو مولانا ابوالکلام آزاد کی زندگی کو نمونہ بنانے کا مشورہ

طلبہ و نوجوانوں کو مولانا ابوالکلام آزاد کی زندگی کو نمونہ بنانے کا مشورہ

مظہرایجوکیشنل سوسائٹی و اردو فورم کی مولانا آزاد ڈے تقریب، جناب عامر علی خان اور دیگر کا خطاب

حیدرآباد ۔ 21 نومبر (دکن نیوز) جناب عامر علی خان نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست نے کہا کہ ممتاز مجاہد آزادی و مفسر قرآن مولانا ابوالکلام آزاد کی شخصیت سے نئی نسل بھی پوری طرح واقف ہوچکی ہے۔ انہوں نے اپنی ساری زندگی انتھک جدوجہد و محنت دین اور ملک کی سلامتی کیلئے لگادی۔ اس لئے جب بھی مورخ ان کے بارے میں لکھے گا تو وہ ضرور یہ الفاظ لکھے گا کہ وہ ایک فرض شناس، قوم پرست اور باکردار مسلمان قائد، صحافی اور ممتاز مجاہد آزادی تھے۔ انہوں نے کم عمری میں پیشہ صحافت کو اختیار کیا اور اس میں عروج حاصل کیا جسے دنیا ان کی موت کے بعد بھی یاد کررہی ہے۔ اس لئے کہ انہوں نے پیشہ صحافت کے وقار کو بلندی عطا کی۔ یہی وجہ ہیکہ اس وقت کے سورما نے بھی ان کی عزت و قدردانی میں کوئی کسر باقی نہ رکھی۔ وہ آج یہاں ان ہی کے نام سے موسوم مولانا ابوالکلام آزاد انسٹیٹیوٹ، باغ عامہ (نامپلی) میں طلباء، نوجوانوں کے بڑے اجتماع سے مخاطب تھے۔ واضح رہیکہ یہ تقریب مولانا ابوالکلام آزاد ڈے کے ضمن میں منعقد ہوئی جس کا اہتمام تلنگانہ اردو فورم و مظہر ایجوکیشنل سوسائٹی نے کیا۔ محمد اسمعیل الرب انصاری المعروف اردو انصاری صدرنشین تلنگانہ اردو فورم و مظہر ایجوکیشنل سوسائٹی نے صدارت کی۔ اس تقریب میں مرد و خواتین، طلباء و نوجوانوں سے ہال تنگ دامنی کا شکوہ کررہا تھا۔ جناب عامر علی خان نے طلباء و نوجوانوں کو تلقین کی کہ مولانا آزاد کی زندگی کو نمونہ بنائیں اس لئے کہ ان میں کئی روپ اللہ نے عطا کئے تھے جس کو مولانا نے بروئے کار لاکر خدمت خلق کا عظیم کام انجام دیا۔ محمد اسمعیل الرب انصاری المعروف اردو انصاری نے کہا کہ مولانا ابوالکلام آزاد نے نہ صرف تحریر کے ذریعہ وہ نمایاں کام انجام دیا بلکہ وہ ایک شعلہ بیان مقرر رہے اور انہوں نے عربی، اردو، فارسی اور دیگر زبانوں میں عبور و مہارت حاصل کی۔ آزادی ہند کے لیڈروں کی صف میں آزاد نے بھی شامل ہوکر جیل کی صعوبتیں برداشت کیں، اس لئے کہ ان کے نزدیک ملک کی آزادی عزیز تھی نہ کہ مفادات۔ انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس آج کے قائدین ایک دوسرے کی چاپلوسی، شکایات و غیبت، حاکم وقت کے اردگرد پھرنا اور اتحاد و اتفاق کو قائم نہ کرنے کی بناء آج رہنما کہلاتے ہوئے بھی دردر کی ٹھوکریں کھارہے ہیں۔ ماضی کے قائدین میں وسیع النظری کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ مولانا حافظ محمد صابر پاشاہ امام مسجد حج ہاؤز کی تلاوت قرآن سے جلسہ کا آغاز ہوا۔ اس موقع پر حامد علی خان، ڈاکٹر محمد خواجہ قادری لکچرر انوارالعلوم کالج، محمد اعظم علی، محمد عبدالخالق انوارالعلوم کالج و دیگر موجود تھے۔ اس جلسہ میں نوجوان، طلباء نے اس بات کا پرجوش طور پر عہد کیا کہ مولانا ابوالکلام آزاد کی جدوجہد اور ان کے اصولوں و ضوابط کو قائم و دائم رکھیں گے۔ مولانا ابوالکلام آزاد کے اس جلسہ میں سامعین کی جانب سے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری ریاست تلنگانہ بھر میں 12 فیصد تحفظات کو یقینی بنائے اور ضروری کارروائی فوری طور پر انجام دیں اس لئے کہ ان تحفظات کی عمل آوری کی وجہ سے مسلمانوں ملازمتیں، اسکالر شپ کی فراہمی، مکانات اور دیگر عوامل سے استفادہ حاصل کرسکیں گے۔ محمد مسعود علی کنوینر مولانا ابوالکلام آزاد ڈے نے مہمانوں کا استقبال کیا۔

TOPPOPULARRECENT