طلبہ کو روزگار سے مربوط کرنے صنعتی اداروں سے یادداشت مفاہمت

صنعتی اداروں کے مندوبین کا اردو یونیورسٹی میں اجلاس، طلبہ کے لیے رہبری و تربیت ناگزیر

صنعتی اداروں کے مندوبین کا اردو یونیورسٹی میں اجلاس، طلبہ کے لیے رہبری و تربیت ناگزیر
حیدرآباد ۔ 13 ۔ فروری : ( پریس نوٹ) : جناب ظفر سریش والا، چانسلرکے ہمراہ صنعتی اداروں سے وابستہ افراد پر مشتمل ایک وفد نے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کا دورہ کیا ۔اس اجلاس میں یونیورسٹی اور صنعتی اداروں کے درمیان یادداشت مفاہمت پر دستخط کیے گئے۔ ان میں بنانی سیمنٹ، بمبئی اسٹاک ایکسچینج، سناتن ایجوکیشن پرائیویٹ لمیٹڈ شامل ہیں۔ اس کے ذریعہ اردو یونیورسٹی کے طلبہ کو صنعتی اداروں میں ٹریننگ اور روزگار کے حصول میں مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ والیو ایبل ایجوکیمنٹ پرائیویٹ لمیٹڈ اور آئی ایس ٹی ٹی ایم ٹیکنالوجی بزنس اسکول آف حیدرآباد نے ایم او یو (MoU) ڈرافٹس پر تبادلہ خیال کیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جناب ظفر سریش والانے کہا کہ اردو یونیورسٹی کے طالب علموں کو صنعتوں سے ہم آہنگ کرنے انہیں آئی آئی ٹیز، آئی آئی ایمس کے طرز پر انہیں تربیت فراہم کرنی ہوگی۔ ان کے صلاحیتوں کو مزید اجاگر کرنے کے لیے صنعتی اداروں سے یونیورسٹی کا الحاق کافی فائدہ بخش ہوگا۔ جناب ظفر سریش والا نے صنعت سے جڑے افراد اردو یونیورسٹی مدعو کیا تاکہ یہاں کے طلبہ کو بہ آسانی روزگار یا انٹرن شپ یا ٹریننگ سے مربوط کیا جاسکے۔ میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ یہاں کے طلبہ میں با اعتمادی اور مہارت کو فروغ دینا چاہتے ہیں انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ جلد ہی مزید صنعتی اداروں کو مانو آنے کی دعوت دیں گے۔ جوائے گھوش، منیجنگ ڈائرکٹر بنانی سیمنٹ لمیٹڈ نے پیشہ ورانہ تعلیم پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ سیمنٹ کی تیاری بظاہر سادہ اور آسان نظر آتی ہے لیکن اسے تیار کرنے کے لیے پیچیدہ عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں سیمنٹ، جست اور دیگر صنعتوں کے لیے ہنرمند افراد کی ضرورت پڑتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اردو یونیورسٹی کے طلبہ کو تربیت دیں گے اور ایک پلیٹ فارم فراہم کریں گے تاکہ وہ اپنے کیریئر کو بہتر بناسکیں۔ پروفیسر محمد عبید اللہ، پروفیسوریل چیئر، فیکلٹی آف اکنامکس اینڈ میاملیٹ، اسلامک یونیورسٹی، ملیشیا و مشیر اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹیٹیوٹ، اسلامک ڈیولپمنٹ بینک، جدہ نے نشاندہی کی کہ اسلامک بینکنگ اور فینانس سیکٹر مانو طلبہ کے لیے کافی مفید ثابت ہوگا۔ انہوں نے مانو اور اسلامک یونیورسٹی ، ملیشیاء کے درمیان رابطہ پیدا کرنے میں اپنا بھرپور تعاون دینے کی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ طور پر عالمی اسلامک فینانس مارکٹ تقریباً 1.6 ٹریلین امریکی ڈالر ہے جو اگلے چند برسوں میں 6 ٹریلین امریکی ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ صنعتی اداروں کے وفد میں ایک مندوب نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کے طلبہ اور اساتذہ میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں۔ صرف انہیں تھوڑا سے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔پروفیسر محمد میاں، وائس چانسلر نے صدارتی خطاب میں کہا کہ چانسلر صاحب کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کے باعث ہمارے طلبہ کو روزگار سے جوڑنے میں مدد ملے گی ۔ ڈاکٹر خواجہ محمد شاہد، پرو وائس چانسلر نے مہمانوں کا خیر مقدم کیا اور پروفیسر ایس ایم رحمت اللہ، رجسٹرار نے شکریہ ادا کیا۔ یونیورسٹی کے ڈین اور ڈائرکٹرس اس موقع پر موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT