Sunday , January 21 2018
Home / شہر کی خبریں / طلبہ کو مرکز کی پری میٹرک اسکالرشپس دلانے کے نام پر رقم کی وصولی

طلبہ کو مرکز کی پری میٹرک اسکالرشپس دلانے کے نام پر رقم کی وصولی

شہر میں بعض تنظیمیں سرگرم، اسکالرشپس 2014 کی تاریخ کا ہنوز عدم اعلان

شہر میں بعض تنظیمیں سرگرم، اسکالرشپس 2014 کی تاریخ کا ہنوز عدم اعلان

حیدرآباد 10 اگسٹ ۔ اقلیتی طلبہ کیلئے سابق یو پی اے حکومت نے اول تا دہم (پری میٹرک اسکالرشپ اسکیم) کا آغاز کیا تھا جس کے تحت سرکاری و خانگی اسکولوں میں زیرتعلیم طلبہ کو سالانہ ایک ہزار تا 5000 روپئے کی اسکالرشپ فراہم کی جارہی ہے لیکن سال 2013 ء کی اسکالرشپ کی رقم اب تک اولیائے طلباء کے اکاؤنٹ میں نہیں آئی۔ حالانکہ حکومت نے اقلیتوں کی ترقی و بہبود کے لئے کروڑہا روپئے مختص کر رکھے ہیں۔ مرکزی حکومت کی پری میٹرک اسکالرشپ اسکیم کے لئے درخواستیں داخل کرنے کی کسی تاریخ کا اب تک اعلان بھی نہیں کیا گیا جبکہ مرکزی حکومت محکمہ اقلیتی بہبود یا اقلیتی مالیاتی کارپوریشنس نے اس سلسلہ میں کوئی اعلامیہ یا اعلان جاری نہیں کیا ہے۔ اس کے باوجود ہمارے شہر میں کچھ ایسی رضاکارانہ تنظیمیں سرگرم ہوگئی ہیں جو باضابطہ سرکاری و خانگی اسکولوں سے رجوع ہوکر نہ صرف اسکول انتظامیہ و ذمہ داران کو فارمس حوالے کررہے ہیں بلکہ فارموں کے ادخال کے نام پر فی طالب علم 100 تا 110 روپئے وصول کئے جارہے ہیں۔ حالانکہ اب تک مرکزی حکومت یا اس کے اداروں نے درخواست فارم کا کوئی فارمیٹ بھی جاری نہیں کیا ہے۔ ایسی ہی ایک تنظیم GRAIN (گراس روٹس ایکشن اینڈ انفارمیشن نٹ ورک) پرانی حویلی ہے جو انہی شراکت دار اداروں صفا بنجارہ ہلز، عوام گولکنڈہ، لوٹس حیدرآباد اور دیگر دو تنظیموں کے ساتھ مل کر اقلیتی اسکالرشپس مہم 2014 چلارہی ہے۔ اقلیتوں میں اسکالرشپس کے بارے میں شعور بیدار کرنا اچھی بات ہے لیکن اس بات کا پتہ چلا ہے کہ GRAIN اور اس کی شراکت دار ادارے شہر کے متعدد اسکول پہونچ کر اسکالرشپس دلانے کی کارروائی کے نام پر 100 تا 110 روپئے وصول کررہے ہیں اور اس ضمن میں انھیں مبینہ طور پر اسکولوں کے ذمہ داروں کا بھرپور تعاون حاصل ہے۔ پتہ چلا ہے کہ اب تک ان لوگوں نے مختلف اسکولوں سے 6 تا 7 ہزار فارمس وصول کئے اس طرح انھیں 6 تا 7 لاکھ روپئے حاصل ہوئے ہیں۔ جبکہ حقیقت میں دیکھا جائے تو فارمس کی خانہ پُری اور دستاویزات جیسے بونافائیڈ، راشن کارڈ، آدھار کارڈ پچھلی جماعت کی رپورٹ (پروگریس کارڈ) ، بینک اکاؤنٹ و پاس بُک کی نقول اور طالب علم کی دو تصاویر پیش کرنا اولیائے طلبہ کا کام ہے اور فارموں کے ادخال کی ذمہ داری اسکولوں کے انتظامیہ کی ہے۔ اگر کوئی اسکول انتظامیہ فارمس کے ادخال کے لئے رقم طلب کرتا ہے تو اس کے خلاف محکمہ تعلیمات سے شکایت کی جاسکتی ہے۔ دستاویزات کے زیراکس اور تفصیلات کے آن لائن اندراج کے لئے زیادہ سے زیادہ 30 تا 50 روپئے کے مصارف آتے ہیں۔ جبکہ روزنامہ سیاست اقلیتی طلبہ کو یہ خدمات مفت فراہم کرتا ہے۔ ایسے میں غریب اقلیتی طلبہ سے خدمت کے نام پر 100 تا 110 روپئے حاصل کرلینا اچھی بات نہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ کام اسکولوں کے ذمہ داروں اور بعض تنظیموں و اداروں کے ساتھ ساتھ اقلیتی مالیاتی کارپوریشن اور محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کے مبینہ ساز باز سے ہورہا ہے۔ ان تنظیموں کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ انھیں اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کے اعلیٰ عہدیداروں کی مبینہ طور پرسرپرستی حاصل ہے۔ سیاست ہیلپ لائن کے سید خالد محی الدین اسد کا اس بارے میں کہنا ہے کہ مرکزی حکومت کی پری میٹرک اسکالرشپس کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ گزشتہ سال کی رقم بھی طلبہ کو وصول نہیں ہوئی ہے۔ اُمید ہے کہ عنقریب تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔ اُنھوں نے بتایا کہ کچھ تنظیمیں اپنے فائدے کے لئے اس طرح کی مہم چلارہی ہیں۔ گزشتہ سال بھی اس طرح کے لوگوں نے انکم سرٹیفکٹ دلانے کے بہانے رقم وصول کرلی تھی لیکن حکومت نے ان انکم سرٹیفکٹس کو منسوخ کردیا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس مہم میں اسکولوں کے ذمہ داروں کے کیا مفادات وابستہ ہیں جبکہ اسکولوں کے انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ غریب اقلیتی طلبہ کی مدد کریں ان کی رہنمائی کریں۔ واضح رہے کہ مرکزی و ریاستی اسکالرشپس کیلئے سرپرستوں کی آمدنی سالانہ ایک لاکھ روپئے تک ہو۔ حاضری 75 فیصد اور حاصل نمبرات کم از کم 50 فیصد ہونے چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT