Saturday , December 16 2017
Home / ہندوستان / طلبہ کیخلاف کارروائی پر دوپولیس ملازمین برطرف

طلبہ کیخلاف کارروائی پر دوپولیس ملازمین برطرف

چیف سکریٹری کی زیرقیادت کمیٹی کا قیام ، یونیورسٹی سانحہ پر گورنر کا اقدام

وارانسی ۔ 25 ستمبر ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) حکومت اُترپردیش نے آج تین ایڈیشنل سٹی مجسٹریٹ اور دو ملازمین پولیس کو بنارس ہندو یونیورسٹی کے طلبہ پر لاٹھی چارج کے سلسلے میں جو ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران کیا گیاتھا ، برطرف کردیا ۔ اسٹیشن آفیسر لنکا پولیس اسٹیشن راجیو سنگھ کو برطرف کرکے پولیس لائینس بھیج دیا گیا ۔ اسٹیشن آفیسر جئے پورہ پولیس اسٹیشن سنجیو مشرا کو اُن کے مقام پر منتقل کیا گیا ۔ سرکل آفیسر بھلوپورہ نویش کٹیار کو علحدہ کردیا گیا ہے ۔ سرکل آفیسر کوتوالی ایودھیا پرساد سنگھ کو اُن کے مقام پر تعینات کیا گیا ہے۔ وارانسی ضلع اطلاعاتی عہدیدار نے کہاکہ تین ایڈیشنل سٹی مجسٹریٹس منوج کمار سنگھ ، سشیل کمار گونڈ اور جگدمبا پرساد سنگھ کو بھی علحدہ کردیا گیا ہے ۔ متعدد طلبہ بشمول خواتین اور دو صحافی لاٹھی چارج میں زخمی ہوگئے تھے ۔ بنارس ہندو یونیورسٹی میں ہفتہ کی رات احتجاجی مظاہرہ کیا گیا تھا جو پرتشدد ہوگیا۔ یہ احتجاجی مظاہرہ مبینہ طورپر لڑکیوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے خلاف کیا گیا تھا ۔ لکھنو سے موصولہ اطلاعات کے بموجب اُترپردیش کے گورنر رام نائیک نے آج کہاکہ چیف سکریٹری کی زیرقیادت ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے جو بنارس ہندو یونیورسٹی کے احاطہ میں لڑکیوں کو چھیڑنے کے واقعہ کے خلاف احتجاجی مظاہرے اور اس پر پولیس کے لاٹھی چارج کی تحقیقات کرے گی ۔ کئی طلبہ بشمول خواتین اور دو صحافی پولیس کے لاٹھی چارج میں زخمی ہوگئے تھے۔ ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو اس واقعہ کی تحقیقات کرے گی ۔ رام نائیک نے ذرائع ابلاغ کے سوالات کا جواب دینے کیلئے یہ اقدام کیا ہے۔ گورنر نے واقعہ کو غمناک قرار دیا ۔ چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ نے پہلے ہی واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا ہے ۔ تشدد کے پیش نظر یونیورسٹی کی پوجا تعطیلات کل سے 2 اکٹوبر تک دیدی گئی ہیں۔ قبل ازیں تعطیلات کا آغاز 28 ستمبر سے ہونے والا تھا لیکن تشدد کی وجہ سے قبل از وقت تعطیلات دیدی گئیں۔ تشدد اُس وقت بھڑک اُٹھا جبکہ احتجاج کرنے والے بعض طلبہ چاہتے تھے کہ وائس چانسلر سے ہفتہ کی رات اُن کی قیامگاہ پر ملاقات کریں ۔ پولیس کے بموجب اور یونیورسٹی ذرائع کے مطابق وہ وائس چانسلر کی قیامگاہ پر پہنچے تھے لیکن یونیورسٹی کے چوکیداروں نے اُنھیں روک دیاتھا ۔ بعد ازاں بیرونی افراد بھی سنگباری میں طلبہ کے ساتھ شامل ہوگئے ، صورتحال پر قابو پانے پولیس نے لاٹھی چارج کیا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT