Wednesday , September 19 2018
Home / شہر کی خبریں / طلبہ کی زندگیوں سے کھلواڑ، 12 فیصد تحفظات سے فرار

طلبہ کی زندگیوں سے کھلواڑ، 12 فیصد تحفظات سے فرار

انصاف اور حقوق کے تحفظ میں ریاستی حکومت یکسر ناکام: اتم کمار ریڈی

حیدرآباد ۔ 3 فبروری (سیاست نیوز) صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اتم کمار ریڈی نے وعدے کے مطابق بی سی ای کوٹہ کے تحت مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا چیف منسٹر سے مطالبہ کیا۔ مقامی اداروں میں بی سی طبقات کو آبادی کے تناسب سے 50 فیصد تحفظات فراہم کرنے پر زور دیا۔ فیس ریمبرسمنٹ کی ادائیگی کے معاملے میں طلبہ کی زندگیوں سے کھلواڑ کرنے کا حکومت پر الزام عائد کیا۔ آج سرور نگر انڈور اسٹیڈیم میں بی سی ودیارتھی گرجنا جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے اتم کمار ریڈی نے یاد دلایا کہ انتخابی مہم میں کے سی آر نے ٹی آر ایس کو اقتدار حاصل ہونے کے اندرون 4 ماہ مسلمانوں کو تعلیم و ملازمتوں میں 12 فیصد تحفظات بی سی، ای کوٹہ کے ذریعہ فراہم کرنے کاو عدہ کیا تھا۔ اقتدار کے 44 ماہ مکمل ہوچکے ہیں۔ چیف منسٹر نے مسلمانوں سے کئے گئے وعدے کو پورا نہیں کیا جس سے مسلمانوں میں حکومت کے خلاف ناراضگی پائی جاتی ہے۔ کانگریس حکومت نے 2008ء میں تاریخی فیصلہ کرتے ہوئے فیس ریمبرسمنٹ اسکیم متعارف کراتے ہوئے ایس سی، ایس ٹی، بی سی اور اقلیتی طلبہ کو اعلیٰ تعلیم فراہم کرنے کے مواقع فراہم کیا تھا۔ تاہم گذشتہ 4 سال سے ٹی آر ایس حکومت فیس ریمبرسمنٹ کے بقایاجات کی اجرائی کو روک دیا ہے۔ اقتدار حاصل کرتے ہی عام خاص اسکیم کو مشروط بناتے ہوئے طلبہ کے حقوق چھین لئے گئے اور 10 ہزار بینکس حاصل کرنے والے طلبہ کو ہی اس اسکیم سے فائدہ پہنچانے کا ٹی آر ایس حکومت نے فیصلہ کیا ہے، جس سے غریب و پسماندہ طلبہ کے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی جو خواہش تھی اس کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے۔ اتم کمار ریڈی نے بغیر کسی شرط کے مکمل فیس ادا کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا۔ اس مسئلہ کو اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں اٹھانے کا اعلان کیا۔ فیس ریمبرسمنٹ کے 2000 کروڑ روپئے کے بقایا جات فوری کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کنٹراکٹرس کیلئے 20 ہزار کروڑ روپئے کے فنڈس جاری کررہی ہے مگر طلبہ سے کسی قسم کی کوئی ہمدردی کا اظہار نہیں کررہی ہے۔ صدرتلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی نے تحریک تلنگانہ میں طلبہ کی خدمات کو ناقابل فراموش قرار دیتے ہوئے کہا کہ تحریک میں حصہ لینے والوں کا احترام کرنے کے بجائے ٹی آر ایس حکومت تمام شعبوں میں انہیں فراموش کررہی ہے۔ ایوانوں میں بی سی طبقات کو تحفظات فراہم کرنے کیلئے اگر بی جے پی پارلیمنٹ میں بل پیش کرتی ہے تو کانگریس پارٹی اس کی بھرپور تائید و حمایت کرے گی۔ آبادی کے تناسب سے بی سی طبقات کو تحفظات فراہم کرنے پر زور دیا۔ تعلیم اور ملاززتوں میں موجود بی سی تحفظات کو 25 فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد تک توسیع دینے مقامی اداروں میں موجود 33 فیصد تحفظات کو 50 فیصد تک بڑھانے پر زور دیا۔ حکومت وعدوں سے انحراف کرتے ہوئے سماج کے تمام طبقات سے انصاف کرنے اور ان کے حقوق کا تحفظ کرنے کیلئے سونیا گاندھی نے علحدہ ریاست تشکیل دیا ہے۔ تاہم کے سی آر فیملی نے تلنگانہ کو خانگی لمیٹیڈ میں تبدیل کردیا ہے۔ انہوں نے بی سی ویلفیر اسوسی ایشن کے صدر و رکن اسمبلی آر کرشنیا کو بی سی طبقات کا چمپیئن قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہر اسمبلی اجلاس میں بی سی طبقات کے مسائل کو حکومت کے سامنے پیش کیا ہے مگر حکومت اس کو ہمیشہ نظرانداز کرتی آئی ہے۔ ریاست کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کے معاملے میں صرف زبانی خرچ سے کام لیتے ہوئے اس کی جھوٹی تشہیر کی جارہی ہے۔ ٹی آر ایس حکومت تمام محاذوں میں ناکام ہوچکی ہیں۔ جب بھی ریاست میں انتخابات منعقد ہوں گے عوام سبق سکھائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT