Saturday , December 16 2017
Home / شہر کی خبریں / طلبہ کی صلاحیتوں کو نکھارنا، کامیاب معلم کی علامت

طلبہ کی صلاحیتوں کو نکھارنا، کامیاب معلم کی علامت

جامعتہ المومنات کا ٹیچر ٹریننگ پروگرام، مختلف شخصیتوں کا خطاب
حیدرآباد۔/15اکٹوبر، ( راست ) ممتاز عالم دین ریحانتہ الجیلانیہ حضرت علامہ ابو حمد موسیٰ بن عبدالجلیل الحجاج، العجاز ( شارجہ ) نے اردو گھر مغلپورہ میں جامعتہ المومنات کا ایک روزہ ریاستی تربیتی پروگرام (ٹیچر ٹریننگ ) برائے معلمات دینی مدارس و جامعات کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ معلم ، معاشرہ کے سدھار و بگاڑ کا ذمہ دار ہوتا ہے، ایک مرد تعلیم حاصل کیا تو فرد ہی حاصل کرتا ہے لیکن ایک لڑکی تعلیم یافتہ ہوجائے تو ایک خاندان سدھر سکتا ہے۔ استاذ کی نسبت انبیاء علیہم السلام سے ہوتی ہے کیونکہ اللہ نے انبیاء علیھم السلام کو انسان کی رہنمائی اور سدھار کیلئے بھیجا ہے۔ استاذ کو چاہیئے کہ وہ اس بات کا لحاظ رکھتے ہوئے کامل ٹیچر بننے کی کوشش کریں۔ پروفیسر ڈاکٹر سراج الرحمن نقشبندی نے کہا کہ دینی مدارس اسلام کے قلعے ہیں، اس کے اساتذہ ستون ہیں اور طلبہ دیوار ہیں اور والدین اس کے خمیر۔ دینی مدارس اسلام کی شناخت اور اسلامی عظمت کا مظہر ہیں، جو لوگ اسلام کو داغدار بنانے کی سازش کرتے ہیں تو دینی مدارس ہی دشمنوں کا دندان شکن جواب دیتے ہیں۔ آج ہماری تعلیم کا مقصد و محور مرکز حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہونا چاہیئے۔ پروفیسر ڈاکٹر سید علیم اشرف جائیسی نے کہا کہ ہر معلمہ پہلے طالبہ ہوتی ہے بعد میں معلمہ ہوتی ہے۔ اساتذہ کرام کا پیشہ دنیا میں سب سے باوقار اورمقدس ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر اشرف رفیع نے کہا کہ دینی مدارس کا افتخار ہے کہ انہوں نے وہاں چراغ جلائے ہیں جہاں روشنی نہیں۔ استاد ، ایک ایک لمحہ اپنے شاگرد کی فکر کریں۔ کلاس روم میں بچوں کے ذہن کو تشکیل دیا جائے۔ پروفیسر ڈاکٹر نجم السحر نے کہا کہ ہر بچہ کے اندر پیدائشی طور پر کچھ صلاحیتیں ہوتی ہیں استاد انہیں ابھاریں۔ ہر بچہ کی ذہنی نشوونما برابر نہیں ہوتی اس کو مد نظر رکھتے ہوئے استاد کو کام لینا چاہیئے۔ پروفیسر قمر سلطانہ نے کہا کہ طالبات کو قابل بنانا نشونما کرنا معلمات کا کام ہے۔ ایک بہترین معلمہ وہ ہے جو طالبات کے نفسیات سے واقف ہوں۔ معلمات کیلئے ضروری ہے کہ وہ تعلیم دینے سے پہلے سبق کا پلان بنائیں۔ ڈاکٹر اسلام الدین مجاہد نے کہا کہ علم کی تقسیم دو حصوں میں کی گئی ہے۔ ایک علوم طبعی اور دوسرے علوم سماجی۔ ہر مضمون کے استاذ کو اس مضمون میں مہارت ہونا ضروری ہے لیکن سماجی علم کے استاذ کو ساری دنیا کا مطالعہ کرنا چاہیئے۔الحاج میر سجاد حسین نے علم سائنس کی تدریس کا طریقہ بیان کیا اور کہا کہ معلم کو چاہیئے کہ طلبہکو کمرہ جماعت میں ہی مطمئن کریں اور اس کو اس بات کا یقین ہوجائے کہ میں اس مضمون کو آسانی کے ساتھ پڑھ سکتا ہوں۔ مرزا سعادت اللہ بیگ نے ریاضی کی تدریسی نہج بتایا۔ محمد یوسف نے سماجی علم کی تدریس پر روشنی ڈالی۔ جناب محمد حامد علی نے انگریزی تدریس کے نہج پر روشنی ڈالی۔ جناب فاروق علی خاں ایڈوکیٹ نے کہا کہ مثالی استاد وہی ہے جو طالبات و طلبہ کی نفسیات کو سمجھیں۔ الحاج نورالحق قادری نے کہا کہ علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے، ویسے ہی تعلیم کا دینا بھی ضروری ہے۔ پروگرام کا آغاز حافظہ رمیصاء افشین کی قرأت، قاریہ شفا ناز کی نعت شریف سے ہوا۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر مفتیہ ناظمہ عزیز مومناتی نے انجام دیئے۔ جبکہ خیرمقدمی کلمات ڈاکٹر مفتیہ رضوانہ زرین پرنسپل و شیخ الحدیث جامعتہ المومنات نے انجام دیئے۔ مفتی محمد حسن الدین صدر مفتی جامعتہ المومنات نے صدارت کی۔ دونوں شہروں کے علاوہ اضلاع آندھرا پردیش، کرناٹک، مہاراشٹرا سے لگ بھگ 300 سے زائد دینی مدارس و جامعات کی معلمات نے شرکت کی۔ اس پروگرام میں ڈاکٹر مفتی حافظ محمد مستان علی قادری، حافظ محمد صابر پاشاہ، الحاج محمد رحیم اللہ خاں نیازی، جناب ایم اے وحید، ڈاکٹر مفتی محمد کاظم حسین نقشبندی، مولانا صلاح الدین قادری، ڈاکٹر مفتی عبدالواسع احمد صوفی، مولانا محمد عمر، مولانا عبدالرحیم قادری شریک رہے۔ اختتام پروگرام معلمات کو توصیف نامہ بدست مہمان خصوصی عطاء کئے گئے۔

TOPPOPULARRECENT