Monday , December 18 2017
Home / شہر کی خبریں / طلبہ کے آدھار اندراج سے تلنگانہ میں 66.54 فیصد خواندگی ریکارڈ

طلبہ کے آدھار اندراج سے تلنگانہ میں 66.54 فیصد خواندگی ریکارڈ

کئی اسکولس میں بنیادی سہولتوں کی عدم سہولت کا اعتراف ، وزیر تعلیم کا کونسل میں بیان
حیدرآباد۔24ما رچ(سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں خواندگی کا فیصد 66.54ہے اور قومی سطح پر خواندگی کا فیصد 73فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر و ریاستی وزیر تعلیم مسٹر کڈیم سری ہری نے تلنگانہ قانون ساز کونسل میں وقفہ سوالات کے دوران قائد اپوزیشن جناب محمد علی شبیر ‘ مسٹر دامودر ریڈی‘ مسٹر کے راجگوپال ریڈی اور مسٹر پی سدھاکر ریڈی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست میں تمام طلبہ کو آدھار سے مربوط کیا جا رہا ہے جس کے سبب یہ بات سامنے آنے لگی ہے کہ اب تک ریاست کے بیشتر اسکولوں میں فرضی داخلوں کارجحان جاری تھا اور فرضی ناموں کے اندراج کے ذریعہ یہ تاثر دیا جاتا تھا کہ اسکول میں داخلو ںکا عمل جاری ہے۔ مسٹر کڈیم سری ہری نے قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل کی جانب سے پیش کردہ ترک تعلیم کے اعداد و شمار کو غیر درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ طلبہ کے اندراج کیلئے آدھار کا لزوم عائد کئے جانے کے بعد جو صورتحال سامنے آئی ہے اس کے سبب یہ اعداد و شمار پیش کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت تلنگانہ میں خواندگی کے فیصد کو بہتر بنانے کیلئے متعدد اقدامات کر رہی ہے جس میں سروا سکھشا ابھیان اور ساکشر بھارت منصوبہ پر عمل آوری کے علاوہ تعلیم بالغاں کا نظم شامل ہے۔ مسٹر کڈیم سری ہری نے بتایا کہ ریاستی حکومت اس بات کا اعتراف کرتی ہے کہ ریاست میں کئی ایسے اسکول موجود ہیں جہاں بنیادی سہولتیں موجود نہیں ہیں لیکن حکومت کی جانب سے اس بات کو ممکن بنانے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں کہ ریاست کے تمام اسکولوں میں کم از کم ایک کارکرد بیت الخلاء اور پانی کی سربراہی کا نظم موجود رہے۔ سوال پر مباحث کے دوران ارکان قانون ساز کونسل نے حکومت کی جانب سے کے جی تا پی جی مفت تعلیم کے علاوہ دیگر وعدوں کی یاددہانی کرواتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت ان وعدوں کو فراموش کرنے لگی ہے جس کے سبب ریاست میں خواندگی کا فیصد گھٹتا جا رہا ہے۔ریاستی وزیر تعلیم نے اپوزیشن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت اپنے تمام منصوبوں کو بہتر انداز میں عملی جامہ پہنانے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ ریاست کے خواندگی کے فیصد میں بہتری لائی جا سکے۔ مسٹر کڈیم سری ہری نے بتایا کہ حکومت اور محکمہ تعلیم سرکاری اسکولوں کے معیار اور انفراسٹرکچر کی فراہمی کے متعلق سنجیدہ اقدامات میں مصروف ہے جس کے مثبت نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT