Tuesday , September 25 2018
Home / ہندوستان / طوفان زدہ افراد کیلئے 4854 کروڑ روپئے منظوری کا مطالبہ ، اپوزیشن کا بائیکاٹ

طوفان زدہ افراد کیلئے 4854 کروڑ روپئے منظوری کا مطالبہ ، اپوزیشن کا بائیکاٹ

چینائی۔8 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) اپوزیشن پارٹیوں کے ڈی ایم کے زیر قیادت اجلاس سے بائیکاٹ کے دوران گورنر ٹاملناڈو بھوری لال پروہت نے آج ریاستی اسمبلی کے اجلاس سے پہلی بار خطاب کیا اور مرکز پر زور دیا کہ 4854 کروڑ روپئے سمندری طوفان اوکھی سے متاثرہ افراد کی بازآبادکاری کے لیے منظور کیے جائیں۔ ایوان میں پہنچتے ہی تمام ارکان نے گورنر کا استقبال کیا جس کے بعد انہوں نے خطاب شروع کیا۔ ان کی تقریر کے آغاز کے فوری بعد اپوزیشن کے قائد ایم کے اسٹالن بعض مسائل اٹھانے کے لیے اپنی نشست سے اٹھ کر کھڑے ہوگئے۔ گورنر نے ایک لمحہ توقف کیا اور اسٹالن سے اپنی نشست سنبھال لینے کی درخواست کی تاہم کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اسٹالن کی تائید ان کی پا رٹی کے ارکان اسمبلی کررہے تھے اور اپنے قائد کو تقرار کی اجازت دینے کے مطالبہ پر مبنی نعرہ بازی کررہے تھے۔ کچھ دیر بعد ڈی ایم کے کے کارگزار صدر اور ان کی پارٹی کے ارکان نے واک آئوٹ کیا۔ کانگریس ارکان اور انڈین یونین مسلم لیگ کے واحد رکن اسمبلی نے ان کی تقلید کی۔ شورو غل کے مناظر کے دوران اناڈی ایم کے قائد ٹی ٹی وی دیناکرن جو پلیل بار ایوان اسمبلی میں داخل ہوئے، خاموشی سے بیٹھے ہوئے تھے۔ بعدازاں گورنر نے خطاب جاری رکھتے ہوئے آنجہانی چیف منسٹر جئے للیتا کی بصیرت کی ستائش کی جس کی وجہ سے مرکزی حکومت نے طوفان سے متاثرہ افراد کی بازآبادکاری کے لیے 133 کروڑ روپئے جاری کیے۔ وزیراعظم نریندر مودی کے سیلاب زدہ کنیا کماری کے دورے پر اظہار تشکر کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ مرکز کو اپنی ٹیم کو ٹاملناڈو کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کرنے کی ہدایت دینی چاہئے تاکہ نقصان کا تخمینہ کیا جاسکے۔ دریائے کاویری کے پانی کے حساس مسئلہ پر گورنر نے کہا کہ ریاست مرکز پر اس دیرینہ جائزہ مطالبہ کی یکسوئی کے لیے زور دیتی رہے گی۔ حکومت پہلے ہی پے کمیشن 2017ء کی سفارشات پر عمل آوری کرچکی ہے جس سے سالانہ 14719 کروڑ روپئے کا اضافی بوجھ عائد ہورہا ہے۔ گورنر نے مرکز پر زور دیا کہ چینائی میٹرو ریل پراجیکٹ کے دوسرے مرحلہ کا عاجلانہ بنیادوں پر نفاذ کیا جائے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT