Sunday , November 19 2017
Home / Top Stories / طویل ’خلیجی بحران‘ کسی کے بھی مفاد میں نہیں

طویل ’خلیجی بحران‘ کسی کے بھی مفاد میں نہیں

صدر ترکی رجب طیب اردغان کی دو روزہ دورہ خلیج سے قبل پریس کانفرنس
استنبول ۔23جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) طویل مدتی خلیجی بحران جو قطر کو الگ تھلگ کردینے کے نتیجہ میں پیدا ہوا ہے ‘ کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے ۔ صدر ترکی رجب طیب اردغان نے آج اس علاقہ کا اہم دورہ شروع کرتے ہوئے یہ بیان دیا ۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران کو مزید طوالت دینا کسی کے بھی مفاد میں نہیں ہے ۔ وہ استنبول ایئرپورٹ پر دو روزہ دورہ سعودی عرب ‘ کویت اور قطر پر روانہ ہونے سے پہلے پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔ انہوں نے ’’ دشمنوں ‘‘ پر الزام عائد کیا کہ وہ بھائیوں کے درمیان کشیدگی پیدا کرنا چاہتے ہیں ۔ 5جون کو سعودی عرب ‘ بحرین اور متحدہ عرب امارات اور مصر نے قطر سے اپنے تعلقات منقطع کرلئے اور اُس پر الزام عائدکیا کہ وہ انتہا پسندی کی مدد کررہا ہے اور عرب ممالک کے شیعہ حریف ایران کے ساتھ اپنے تعلقات میں اضافہ کررہا ہے ۔ قطر نے ادعا کی تردید کردی اور سختی سے کہا کہ وہ پوری صف آرائی کے دوران ترکی کی بھرپور تائید کرتا رہا ہے ۔ قطر کا بحران ترکی کو ایک نازک موقف میں پہنچاچکا ہے اور اردغان بار بار کہہ چکے ہیں کہ وہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ یہ تنازعہ ختم ہوجائے ‘ جتنی جلدی ممکن ہوسکے تنازعہ کا خاتمہ ہوجائے ۔ گذشتہ چند سالوں سے قطر ترکی کا مشرق وسطی میں نمبر ایک حلیف ملک بن گیا ہے ۔ ترکی اور قطر نے گہری قربت پیدا ہوچکی ہے ۔ دونوں ایک دوسرے کے موقف کی تائید کرتے ہیں اور شام کے تنازعہ میں دونوں نے صدر بشارالاسد کی بھرپور مخالف کی ہے ۔ اہم بات یہ ہے کہ ترکی قطر میں فوجی اڈہ قائم کرنے والا اس علاقہ میں واحد ملک ہے ‘ اس نے بحران کے آغاز سے وقت سے اپنا موقف کا دفاع کیا ہے ۔ اس کے فوجی اڈے پر 150فوجی تعینات ہیں ۔ رجب طیب اردغان نے کہا کہ بحران کے آغاز سے ہی ہم امن اور استحکام کی تائید میں ہیں ۔ یکجہتی اور مذاکرات چاہتے ہیں لیکن ترکی کو یوروپی یونین اور امریکہ سے سخت مقابلہ درپیش ہے ‘ حالانکہ ترکی نہیں چاہتا کہ اپنے تعلقات سعودی عرب سے بگاڑ لیں ۔ سعودی عرب کا بحران کی یکسوئی میں اہم کردار ہے ۔ اردغان نے سعودی عرب کی تنقید پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ امیر کویت کی ثالثی کی کوشش کی تائید کرتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT