Sunday , January 21 2018
Home / کھیل کی خبریں / طویل مدتی کپتان کا موقع نہ ملنے پر افسوس :سچن

طویل مدتی کپتان کا موقع نہ ملنے پر افسوس :سچن

نئی دہلی 15 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ریٹائرڈ کرکٹر و افسانوی بیسٹمین سچن تنڈولکر نے انکشاف کیا ہے کہ طویل مدت تک ہندوستانی کرکٹ کپتان کا موقع نہ ملنے پر انہیں افسوس ہے اور ان کی کپتانی کے دوران در پیش رہے سخت چیلنجوں پر بھی انہیں رنج ہے۔ سچن تنڈولکر ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے و مرتبہ مختصر مدت تک کپتان رہے لیکن کپتان کی حیثیت سے وہ زیادہ کامیا

نئی دہلی 15 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ریٹائرڈ کرکٹر و افسانوی بیسٹمین سچن تنڈولکر نے انکشاف کیا ہے کہ طویل مدت تک ہندوستانی کرکٹ کپتان کا موقع نہ ملنے پر انہیں افسوس ہے اور ان کی کپتانی کے دوران در پیش رہے سخت چیلنجوں پر بھی انہیں رنج ہے۔ سچن تنڈولکر ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے و مرتبہ مختصر مدت تک کپتان رہے لیکن کپتان کی حیثیت سے وہ زیادہ کامیاب ثابت نہیں ہوسکے تھے حالانکہ ان کا 24 سالہ کرکٹ کیرئیر انتہائی کامیاب و تابناک رہا ہے۔ سچن نے 1996 میں پہلی مرتبہ ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان بنائے گئے تھے لیکن 1997 سے ان کی ٹیم نے ناقص مظاہرہ کا آغاز کردیا تھا چنانچہ وہ کپتانی سے ہٹا دیئے گئے تھے ۔ سچن نے ان واقعات کا تذکرہ کرتے ہوئے آج کہا کہ بحیثیت کپتان انہیں ایک طویل وقت نہ ملنے پر سخت افسوس ہے ۔ سچن نے یہاں ’’انڈیا ٹوڈے‘‘ کانکلیو سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’میرے لئے کرکٹ ایک ٹیم ورک ہے کوئی انفرادی کام نہیں ہے ۔ ایسے مرحلے بھی ہوتے ہیں جہا ںکپتان کو کھیلنا پڑتا ہے ۔ کپتان کو رہنمائی کرنا پڑتا ہے فیلڈ پر اہم فیصلے کرنا پڑتا ہے لیکن بالآخر وہ بیٹسمین ہی نہیں جنہیں میدان پر اترتے ہوئے رن بنانا ہوتا ہے اور بولرس کو ہی بولنگ کرنا ہوتا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ’’مجھے بھی پہلے وقت صرف 13-12 ماہ بعد ہی کپتان سے ہٹا دیا گیا تھا ۔ یہ افسوسناک بات ہے کیونکہ آپ یہ سوچ کر کپتان کا انتخاب کریت ہیں کہ وہ اپنی ٹیم کو آگے لے جائے گا اور اگر مدت زیادہ طویل نہ ہوتو اس کو کامیابی کی شرح صفر ہوجاتی ہے ۔ اگر آپ چار میچ کھیلتے ہیں ۔ دو میں شکست ہوتی ہے تو کامیابی کی شرح 50 فیصد رہتی ہے‘‘ انہوں نے کہا کہ میری معیاد زیادہ ویل نہیںتھی جس پر مجھے افسوس ہے ۔ تنڈولکر جنہوںنے 2013 میں کرکٹ سے کنارہ کشی اختیار کی تھی خود اپنی کپتانی کا تقابل 2011 کے دوران ہندوستانی کے آسٹریلیا اور انگلینڈ میں انتہائی مایوس کن اور ناقص مظاہرہ سے کیا ۔ تنڈولکر نے مزید کہا کہ کرکٹ میری نظر میں ایک ٹیم اسپورٹس ہے اور جب میں کپتان تھا چند سخت دورے کئے گئے ۔ ہم ویسٹ انڈیز گئے تھے جو بہتر ٹیم تھی ۔ ہم جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا بھی گئے تھے جہاں کئی ایک سخت چیلنجس تھے جن کا میں سامنا کیا ہوں‘‘۔

TOPPOPULARRECENT