Thursday , December 13 2018

طیّب انصاری

 

میرا کالم مجتبیٰ حسین
تین چار سال پہلے اردو کے البیلے شاعر اور دہلی میں ہمارے عزیز ترین دوست امیرؔ قزلباش کے انتقال کی خبر ملی تو یوں لگا جیسے اچانک ہمارے پیروں تلے سے زمین نکل گئی ہو حالانکہ پچھلے دو ایک برس سے امیرؔ کے تعلق سے ہر دم ہمیں ایسی خبر کے سننے کا دھڑکا سا لگا ہوا تھا ۔ امیر قزلباش ہم سے عمر میں چھ سات برس چھوٹے تھے لیکن ان کے دل میں ہمارے لئے جو والہانہ محبت تھی اُس کے زیر اثر ہم سے یوں سلوک کرتے تھے جیسے وہ ہمارے بزرگ ہوں۔ امیرؔ کے انتقال کے دو تین دن بعد افسانہ نگار فیاض رفعت، جو ان دنوں لکھنو دوردرشن کے ڈائرکٹر تھے ، دہلی آئے توہم دونوں مل کر اپنے ایک مشترکہ دوست سے ملنے چلے گئے ۔ اتفاق سے ہمارے یہ دوست بھی ہم سے عمر میں چھ سات برس چھوٹے ہیں۔ امیرؔ کا ذکر آیا تو ہمارے ان دوست نے ایک گہری آہ بھر کر کہا ۔ ’’بھائی جان ! اب تو ہم لوگوں کے بھی چل چلاؤ کے دن قریب آتے نظر آنے لگے ہیں کیونکہ موت کا فرشتہ اب ہماری صف کے لوگوں کو بھی اُٹھاکر لے جانے لگا ہے ‘‘۔ اتنا سننا تھا کہ فیاض رفعت نے اپنی عادت کے مطابق ہڑ بڑا کر کہا ’’میاں ! کیسی بدشگونی کی باتیں کرتے ہو۔ ہمارے چل چلاؤ کا وقت ابھی سے کیسے آجائے گا بھائی ۔ ابھی تو خدا کے فضل سے ہمارے سروں پر گلزار دہلوی ، رفعت سروش اور مظہر امام جیسے بزرگوں کا سایہ موجود ہے ، تم بلا وجہ لوگوں میں دہشت پھیلاتے رہتے ہو‘‘۔ فیاض رفعت کوئی بات ایسی نہیں کہتے جس پر سننے والے کو ہنسی نہ آجائے ۔ ان کی اس بات پر بھی ہمیں ہنسی ضرور آئی لیکن اس ہنسی کی نوعیت ذرا مختلف اور دردناک تھی ۔ بھلا ملک الموت روحیں قبض کرنے کیلئے کہیں سینیارٹی لسٹ لے کر نکلتا ہے ۔ ان سطروں کو لکھتے ہوئے ہمیں اس بات کا اطمینان ضرور ہے کہ دہلی کے مذکورہ بالا تینوں بزرگ ہمارے درمیان صحیح و سالم و موجود ہیں ۔ خدا انہیں تندرست اور توانا رکھے ۔ تاہم پچھلے ہفتہ جب ہمیں یہ اطلاع ملی کہ ہمدم دیرینہ میاں طیب انصاری بھی اس دنیا سے رخصت ہوگئے تو ہمیں پھر ایک بار اپنے پاؤں کے نیچے سے زمین کے کھسکنے کا احساس ہوا ۔ اتفاق سے طیب انصاری بھی ہم سے عمر میں پانچ چھ برس چھوٹے تھے لیکن ان سے بے تکلفی کچھ ایسی تھی کہ وہ بھی ہمارے بزرگ ہی لگتے تھے ۔ بالخصوص ایسے بزرگوں کا گزر جانا ہماری بزرگی کو نہ صرف بے نقاب بلکہ بدنام بھی کردیتا ہے ۔ مانا کہ لمبی عمر کے بعد آدمی میں ایسے اندوہناک سانحوں کو برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا ہوجاتا ہے اور یہ حوصلہ بھی غالباً اس لئے پیدا ہوتاہے کہ ایسے آدمی کا دل بالآخر اس حقیقت کو تسلیم کرلیتا ہے کہ اسے بھی جلد یا بدیر اس دنیا سے گزر جانا ہے ۔ یہ اور بات ہے کہ ایسی طمانیت قلبی ، قلب کی طمانیت کو کم اور اس کی بے بسی کو زیادہ ظاہر کرتی ہے۔
طیب انصاری سے عثمانیہ یونیورسٹی میں تو کبھی ہماری ملاقات نہیں ہوئی کیونکہ ہم دو تین برس پہلے ہی آرٹس کالج کو خیر باد کہہ چکے تھے ۔ اس زمانہ میں مشہور تھا کہ جو طالب علم گریجویشن تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد مزید اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے یونیورسٹی میں داخلہ نہیں لے پاتا وہ اعلیٰ تعلیم کے حصول کی خاطر ’’اورینٹ ہوٹل ‘‘ میں داخلہ لے لیتا ہے ۔ ہمیں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ ہم نے بھی ایسی اعلیٰ تعلیم ’’اورینٹ ہوٹل‘‘ میں ہی حاصل کی ۔ ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ طیب انصاری سے ہماری پہلی ملاقات بھی اسی مرحوم اورینٹ ہوٹل میں ہوئی تھی ۔ ان دنوں طیب انصاری کے حلقہ احباب میں احمد جلیس ، رشیدالدین ، محمود انصاری، مصطفی کمال ، شاہد عظیم وغیرہ شامل تھے۔ ’’پیکر‘‘ کے اعظم راہی ، ساجد اعظم ، حسن فرخ اور رؤف خلش وغیرہ سے بھی اس کا یارانہ تھا ۔اگرچہ ہمارا حلقہ احباب بلحاظ سینیاریٹی مختلف تھا لیکن طیب انصاری ہمارا بے لوث مداح اور پرستار تھا ۔ پھر ہمارے حق میں اس کی ایک خوبی یہ بھی نظر آئی کہ وہ ’’اورینٹ ہوٹل‘‘ میں ہمیشہ اپنے کھلے منہ اور کھلی جیب کے ساتھ آتا تھا ۔ 1979 ء میں اس کے مضامین کا پہلا مجموعہ ’’تحریر و تنقید‘‘ کے نام سے شائع ہوا تو اس نے بہ اصرار ہم سے خواہش کی کہ ہم اس کتاب کی رسم اجراء کے موقع پر اس کے بارے میں کوئی مضمون پڑھیں۔ خود ہماری خاکہ نگاری کے یہ ابتدائی دن تھے ۔ اس خاکے کے چند اقتباسات ، جن میں طیبؔ سے ہماری پہلی ملاقات کا حال درج ہے، ملاحظہ فرمایئے ۔
’’طیب انصاری کو میں اس دن سے جانتا ہوں جس دن پہلی بار میری نظر میں ظ۔انصاری کی وقعت کم ہوگئی تھی اور سچ پوچھئے تو میں ایک عرصہ تک طیب انصاری کو صرف ’’کتابت کی غلطی‘‘ ہی سمجھتا رہا ۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب طیب انصاری نے ط۔انصاری کے قلمی نام سے دوچار مضامین لکھے تھے ۔ چنانچہ جب بھی ط۔انصاری کا کوئی مضمون شائع ہوتا تو میں کاتبین کو دل ہی دل میں برابھلا کہتا اور ’’ط‘‘ کے اوپر ایک نقطے کا اضافہ کر کے اسے ’’ظ‘‘ بنالیا کرتا تھا ۔ اب مجھے طیب انصاری کے وہ مضامین تو یاد نہیں ہیں البتہ یہ ضرور یاد ہے کہ ایک بار میں نے ایسے ہی کسی مضمون کو پڑھ کر ظ۔انصاری صاحب کوایک سخت خط لکھا تھا کہ آپ ان دنوں ایسے مضامین کیوں لکھ رہے ہیں جو خود آپ کے لکھے ہوئے پچھلے مضامین کی نفی کرتے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ ظ۔انصاری نے میرے اس نامعقول خط کاکوئی جواب نہیں دیا ۔ تاہم میں انہیں ایک اور سخت خط لکھنے ہی والا تھا کہ ایک دن اورینٹ ہوٹل میں کسی نے ایک دبلے پتلے نوجوان کا تعارف مجھ سے کروایا ’’ان سے ملو یہ ہیں طیب انصاری جو ط۔ انصاری کے قلمی نام سے مضامین لکھتے ہیں‘‘۔ اب آپ سے کیا چھپاؤں کہ مجھے اس وقت ط۔انصاری سے مل کر ظ۔انصاری سے کتنی خوشی ہوئی تھی ۔ میں نے بڑی گرمجوشی کے ساتھ طیب انصاری سے مصافحہ کرتے ہوئے کہا ’’اچھا ہوا آپ مل گئے ورنہ میں ظ۔انصاری صاحب سے زندگی بھر ناراض رہتا اور کیا عجب کہ وہ بھی زندگی بھر مجھ سے ناراض رہتے‘‘۔

طیب انصاری سے ملاقات کا میرے حق میں ایک فائدہ یہ ضرور ہوا کہ میرے اور ظ۔انصاری صاحب کے تعلقات پھر سے اچھے ہوگئے ۔ پھر میں نے سوچا کہ جب ’’ظ‘‘ سے تعلقات اچھے ہوں تو ’’ط‘‘ سے بھی اپنے تعلقات کواستوار کرنے میں کیا قباحت ہے۔ یوں بھی ’’ظ‘‘ تک پہنچنے کیلئے بہرحال ’’ط‘‘ نے وسیلہ کا کام کیا تھا اور پھر اردو قاعدے کے اعتبار سے بھی ط کا حرف ظ سے پہلے آتا ہے ۔ اس دن کے بعد سے آج تک طیبؔ میرا دوست ہے اور یقین مانیے میں اس کی دوستی سے بہت گھبراتا ہوں کیونکہ وہ بڑا ڈھیٹ قسم کا دوست ہے ۔ اتنا ڈھیٹ کہ میں اگر اس سے دشمنی بھی کرنے لگ جا ؤں تو وہ مجھ سے دوستی ہی کرتا رہے گا ۔ ایسے ’’پیر تسمہ پا‘‘ دوست کے بارے میں کچھ کہوں تو کیا کہوں‘‘۔
یوں طیب انصاری سے ہماری دوستی نے لگ بھگ نصف صدی کی عمر پائی ۔ بعد میں وہ بسلسلہ ملازمت گلبرگہ چلا گیا ، جہاں کے ہم نکالے ہوئے ہیں اور جب ہمیں حیدرآباد سے بھی نکالا گیا تو ہم بھی بسلسلہ ملازمت دہلی چلے گئے ۔ گلبرگہ اور کرناٹک میں اس نے لکچرار سے پروفیسر تک کا کامیاب سفر طئے کیا اور اپنے سینکڑوں شاگرد اردو دنیا میں پھیلا دیئے ۔ اس طویل عرصہ میں طیب سے ہماری دوستی کا رشتہ کبھی کمزور نہیں پڑا۔ ہم جب بھی حیدرآباد آتے یا گلبرگہ جاتے یا خود طیب انصاری دہلی آجاتا تو خوب ملاقاتیں رہتیں۔ شروع شروع میں اس کی سوچ اور خیالات میں بڑی شدت پسندی تھی اور ہم بھی برملا اس سے کہا کرتے تھے کہ بھئی ہم تمہاری شدت پسندی کو بے حد پسند کرتے ہیں کیونکہ اس کی وجہ سے ہماری مزاح نگاری کا بھلا ہوتا ہے ۔ جواباً وہ ہماری مزاح نگاری کو بے حد پسند کرتا تھا اور اس کی خاطر ہر کس و ناکس کی مٹی پلید کرنے پرآمادہ ہوجاتا تھا۔

اس کی ابتدائی شدت پسندی کو نمایاں کرنے کیلئے ہم یہاں دو مثالیں اس کی پہلی کتاب ’’تحریر و تنقید‘‘ سے پیش کرنا چاہیںگے جو سینتیس (37) برس پہلے شائع ہوئی تھی ۔ غالب کے بارے میں جب طیب اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہے تو یوں معلوم ہوتا ہے جیسے وہ غالب کوا پنے سامنے بٹھاکر ڈانٹ ڈپٹ کررہا ہے ۔ اس خصوص میں اس کی رائے ملاحظہ کیجئے ۔
’’غالب کی زندگی رندی اور مستی میں گزری ۔ وہ زندگی بھر شاعری کرتا رہا ۔ اس کے سوائے اس کی زندگی کا کوئی مقصد نہ تھا ۔ غالبؔ عظیم انسان ہوتا اگر وہ ا پنے ماحول کا مطالعہ کرتا لیکن غالب جیسے ذہین اور ذہن رسا رکھنے والے شاعر نے اپنے ماحول سے بے اعتنائی برتی ۔ غالب اگر رہبران قوم میں سے ہوتا تو اس کا رتبہ ہماری قومی زندگی میں بلند ہوتا ۔ نام کا مرزا کام کا مرزا بھی بن جاتا بشرطیکہ اس نے کوشش کی ہوتی ۔ وہ ہمارا قومی لیڈر نہ بن سکا اور اگر وہ لیڈر بن جاتا تو تاریخ ہند اتنے بھیانک دور سے نہ گزرتی‘‘۔
اب ذرا دوسری مثال بھی ملاحظہ فرمایئے ۔ ابتداء میں طیب نے اپنی تنقید کا بنیادی مقصد ’’بت شکنی‘‘ بتایا تھا ۔ وہ ان بتوں کو توڑنا چاہتا تھا جو برسوں سے ادب کے صنم خانہ میں کھڑے ہوئے ہیں ۔اب اس مقصد کا حال طیب کی زبان سے ہی سنئے :
’’ہمیں سب سے پہلے بت شکنی کا فرض انجام دینا ہے ۔ ڈاروؔن کا بت ، فرائیڈؔ کا بت ، مارکس کا بت ، ملارؔمے کا بت۔ آج سارے بت ادب کی دنیا میں عظمت کے نشان بن گئے ہیں۔ ڈاروؔن کے بال و پرنوچ لیجئے ، فرائیڈ کی آنکھیں نکال لیجئے ، مارکسؔ کی ناک کاٹ لیجئے اور ملارؔمے کے ہاتھ کتر لیجئے‘‘۔

سنا آپ نے طیب کی توڑ پھوڑ کا حال ۔ خدا کا کرم یہ ہوا کہ طیب کی ابتدائی شدت پسندی میں وقت کے ساتھ کمی واقع ہوتی چلی گئی ورنہ وہ بتوں کو توڑنے کے بعد ہم جیسوں کو بھی توڑ کر رکھ دیتا۔ اس تبدیلی کے بارے میں اکثر ہم اس سے مذاق میں کہا کرتے تھے کہ میاں اگر توفیق عطا ہو تو تم جیسے آدمی کوبھی انسان بننے کا موقع میسر آجاتا ہے ۔ طیب انصاری بے تکان لکھنے والا ادیب تھا بلکہ اسے زود نویس کہنا زیادہ مناسب ہوگا ۔ یوں وہ اپنے پیچھے اپنی پچیس کتابیں چھوڑ گیا ۔ تنقیدی مضامین ، تاثراتی مضامین ، سفر نامے ، تبصرے ، تحقیقی مضامین ، رپورتاژ کیا کیا نہیں لکھا اس نے ۔ اردو ادب سے اس کا سروکار بڑا مضبوط تھا اور وہ ہر دم ادب کی زندگی جینے کی کوشش کرتا تھا ۔ بسا اوقات ہم بر بنائے بے تکلفی اس سے بے تکا مذاق بھی کرلیا کرتے تھے اور کبھی کبھی حد سے تجاوز کرجاتے تھے لیکن اس کا ظرف اتنا بڑا تھا کہ اپنی خندہ پیشانی کی کیفیت کو سدا برقرار رکھتا تھا۔ وہ ایک بے حد مخلص ، بے ریا ، بے لوث، شریف انسان ہونے کے ساتھ ساتھ ایک راست باز اور بیباک دوست بھی تھا۔ جو بات بھی محسوس کرتا تھا اس کے اظہار کے وقت کسی مصلحت کو خاطر میں نہیں لاتا تھا ۔ اس کی شخصیت کا یہ پہلو ہمیںبہت پسند تھا ۔

پچھلے ہفتہ ایک دن ہماری صحت کچھ زیادہ ہی خراب ہوئی تو ہم نے سوچا کہ موقع ملتے ہی ہم طیب سے مل کراپنے کہے سنے کی معافی مانگ لیں گے تاکہ بعد میں طیب کے دل میں کوئی خلش نہ رہ جائے ۔ انتقال سے چار پانچ دن پہلے اس کا فون آیا ۔ حسب معمول شعر و ادب کی باتیں کرتا رہا ۔ ڈاکٹر رام پرشاد کی معرفت ہم دونوںکو اپنی اپنی صحت کا پتہ چلتا رہتا تھا اس لئے علالت کے بارے میں کوئی بات نہیں کی ۔ تاہم ہم نے اس سے یہ ضرور کہا تھا کہ ہم اس سے ملنے کیلئے آئیں گے ۔ البتہ یہ نہیں بتایا تھا کہ ہم اپنا ’’بولاچالا‘‘ بھی معاف کروانے کا منصوبہ رکھتے ہیں ۔ اس کو غالباً ہماری نیّت کا اندازہ ہوگیا تھا ۔ اپنا ’’بولا چالا‘‘ تو وہ ہم سے ایک نہیں دو مرتبہ معاف کرواچکا تھا جب وہ حج اور عمرہ پر گیا تھا۔ ظالم نے ہمیں یہ موقع بھی نہ دیا ۔ ہم تو اپنی یادیں اسے سونپ کر جانا چاہتے تھے مگر اس نے بڑی ہوشیاری سے اپنی یادیں ہماری جانب پلٹادیں۔ طیب انصاری جیسا بے پناہ چاہنے والا دوست اب ہمیںکہاں ملے گا ۔ اس کے جانے سے ہماری چاہتوں کی دنیا ذرا دیکھئے کہ کتنی چھوٹی ہوگئی ہے ۔ اردو ادب کا جو نقصان ہوگا سو وہ تو ہوگا ہی اوریہ کوئی نئی بات نہیں ہے ، لیکن ہمارا جو شخصی نقصان ہوا ہے اس کی تلافی کون کرے گا ۔
(9 اپریل 2006 ء)

TOPPOPULARRECENT