Tuesday , January 23 2018
Home / شہر کی خبریں / ظفرسریشوالا آج بحیثیت چانسلر اُردو یونیورسٹی جائزہ حاصل کریں گے

ظفرسریشوالا آج بحیثیت چانسلر اُردو یونیورسٹی جائزہ حاصل کریں گے

حیدرآباد 13 جنوری (سیاست نیوز) مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی کے چانسلر کی حیثیت سے جناب ظفر سریشوالا 14 جنوری کو اپنے عہدہ کا جائزہ حاصل کریں گے۔ 52 سالہ ظفر سریشوالا کا شمار ملک کے سرکردہ و کامیاب صنعتکاروں میں ہوتا ہے اور وہ وزیراعظم نریندر مودی کے قریبی مسلم ساتھیوں میں شمار کئے جاتے ہیں۔ اُنھوں نے اِس نئی ذمہ داری کو سنبھالنے سے قبل اپنا ویژن پیش کرتے ہوئے کہاکہ وہ ایسے طلبہ تیار کریں گے جن کی ملک میں صنعتی شعبہ کے لئے ضرورت ہے۔ سریش سریشوالا کو کئی مرتبہ وزیراعظم نریندر مودی کی سراہنا پر اقلیتی فرقہ کی تنقیدوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ اُنھوں نے کہاکہ اُردو یونیورسٹی کے گریجویٹ طلباء کو روزگار سے مربوط کرنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ چونکہ صنعتی شعبہ سے اُن کا تعلق ہے، اِسی لئے بحیثیت چانسلر تقرر کے ساتھ ہی کئی بڑے تجارتی گھرانوں نے اُنھیں تعاون کا پیشکش کیا۔ سریشوالا نے کہاکہ دنیا بھر میں یونیورسٹیز کی پہچان تنقیدی و تحقیقی شعبہ سے ہوتی ہے۔ وہ جاننا چاہیں گے کہ اُردو یونیورسٹی کے طلبہ نے اب تک تحقیقاتی شعبہ میں کیا پیشرفت کی ہے۔ وہ اُردو یونیورسٹی کو ایک ممتاز مقام دلانا چاہتے ہیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ وائس چانسلر محمد میاں نے پہلے ہی نئی دہلی میں اُن سے ملاقات کی اور یونیورسٹی کے قیام کے مقصد کے علاوہ دیگر اہم اُمور کے بارے میں واقف کروایا۔ اُنھوں نے کہاکہ اُن کا سب سے اہم مقصد اُردو کی متاع گمشدہ کو بازیاب کرنا ہے۔ جناب سریشوالا نے اِس اہم عہدہ پر تقرر کو حیرت انگیز اور خوشگوار قرار دیا۔ اُنھوں نے کہاکہ کبھی خواب و خیال میں بھی یہ تصور نہیں کیا تھا کہ اُنھیں اِس جلیل القدر عہدہ پر فائز کیا جائے گا۔ یہ صرف اور صرف خدائے تعالیٰ کی مہربانی ہے۔ اُنھیں پورا یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ اِس ذمہ داری کو بحسن خوبی ادا کرنے میں مدد کرے گا۔ اُنھوں نے حریفوں کی اِس تنقید کو بھی مسترد کردیا کہ وہ اُردو سے نابلد ہیں۔ جناب سریشوالا نے کہاکہ اُردو میری مادری زبان ہے۔ وہ نہ صرف اُردو بات کرسکتے ہیں بلکہ تحریر بھی کرسکتے ہیں۔ وہ اُردو اور انگریزی دونوں زبانوں پر عبور رکھتے ہیں۔ اُن کے خاندان نے طویل عرصہ تک اُردو کی خدمات انجام دی بالخصوص 1972 ء میں جب گجرات میں اُردو اپنی بقاء کی جنگ لڑرہی تھی اُس وقت اُن کے والد مرحوم اور چچا نے احمدآباد میں اُردو کے فروغ کے لئے بورڈ قائم کیا۔ اُس وقت سے اب تک قومی سالمیت پر بین الاقوامی مشاعرہ مسلسل منعقد ہوتا آرہا ہے۔ اُنھوں نے یہ انکشاف کیاکہ نریندر مودی بھی اُردو کے شیدائی ہیں۔ گزشتہ سال جب اُردو میں اُن کی ویب سائٹ کا رسم اجراء انجام دیا جارہا تھا اُنھوں نے بالی ووڈ کے مقبول قلمکار سلیم خان کو اِس کی ذمہ داری سپرد کردی تھی۔ اُس وقت نریندر مودی نے کہا تھا کہ اُردو جیسی شیریں زبان کو مخصوص فرقہ سے مربوط کرتے ہوئے ختم کرنا انتہائی افسوسناک ہے۔ مودی نے کہا تھا کہ اُنھیں افسوس ہے کہ وہ اُردو پڑھ یا لکھ نہیں سکتے لیکن اُردو سننا اُنھیں بہت پسند ہے۔

TOPPOPULARRECENT