Saturday , November 18 2017
Home / شہر کی خبریں / ظفر سریش والا کی حق گوئی سے خواجہ شاہد کا جھوٹ بے نقاب

ظفر سریش والا کی حق گوئی سے خواجہ شاہد کا جھوٹ بے نقاب

سیاست کے بارے میں منفی رائے کی تردید ،اُردو یونیورسٹی جمود کا شکار ، ایگزیکٹیو کونسل اجلاس کی رپورٹ درست ثابت
حیدرآباد۔ 20 جولائی (سیاست نیوز) مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی کے انچارج وائس چانسلر اگرچہ بے قاعدگیوں اور عدم کارکردگی کو چھپانے کی لاکھ کوشش کرلیں لیکن ان کی یہ کوششیں اس وقت بے نقاب ہوگئیں جب یونیورسٹی کے چانسلر ظفر سریش والا نے واضح طور پر کہا کہ مولانا آزاد یونیورسٹی اپنی کارکردگی کے اعتبار سے جمود کی حالت میں ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ یونیورسٹی کو نقائص سے پاک اور متحرک کیا جائے۔ یونیورسٹی کے انچارج وائس چانسلر خواجہ محمد شاہد نے 16 جولائی کو ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں کے نام مکتوب روانہ کرتے ہوئے یونیورسٹی کے چانسلر کے حوالے سے لکھا تھا کہ چانسلر کی رائے اخبار سیاست کے بارے میں منفی ہے۔ سبکدوش وائس چانسلر محمد میاں کے وفادار اور ان کے ادھورے کاموں کی تکمیل کے مشن پر فائز خواجہ محمد شاہد کا یہ جھوٹ اس وقت بے نقاب ہوگیا جب نمائندہ سیاست نے ظفر سریش والا سے بات چیت کی۔ یونیورسٹی میں جاری مختلف بے قاعدگیوں اور دیگر معاملات کے سلسلے میں سیاست نے ہمیشہ ہی ظفر سریش والا سے رائے حاصل کی ہے اور وہ کھل کر اظہار خیال کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے بارہا کہا کہ وہ یونیورسٹی کی موجودہ صورتحال سے مطمئن نہیں ہیں۔ انہوں نے اپنے دورۂ یونیورسٹی کے موقع پر طلبہ کے سامنے کہا تھا کہ مولانا آزاد یونیورسٹی ابھی تک مکمل یونیورسٹی نہیں بن پائی۔ انچارج وائس چانسلر نے ظفر سریش والا کے حوالے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ ان کی رائے اخبار سیاست کے بارے میں ٹھیک نہیں ہے۔ انچارج وائس چانسلر نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ اگر وہ ان کی رائے ظاہر کریں گے تو اس سے سیاست کے انتظامیہ کو تکلیف ہوگی، اس طرح انہوں نے چانسلر کا نام لے کر یونیورسٹی میں جاری سرگرمیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی۔ اس بارے میں جب ظفر سریش والا سے بات چیت کی گئی تو انہوں نے کہا کہ انچارج وائس چانسلر نے اگرچہ کئی بار ان سے سیاست میں شائع شدہ رپورٹس کے بارے میں وضاحت کی اور اخبار کی شکایت کی لیکن کبھی بھی ان (ظفر سریش والا) کی رائے سیاست کے خلاف نہیں رہی۔ سیاست میں شائع ہونے والی حقائق پر مبنی خبرو ں کا ثبوت اس بات سے ملتا ہے کہ انچارج وائس چانسلر نے سیاست کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے موقف کی وضاحت کی ۔ سنٹر فار انفارمیشن ٹیکنالوجی کا نام سابق وائس چانسلر محمد میاں کے نام سے موسوم کرنے کیلئے ایگزیکٹیو کونسل اجلاس میں پیش کردہ تجویز اور اس مسئلہ پر اختلافِ رائے کو سیاست نے آشکار کیا تھا ۔ انچارج وائس چانسلر اپنے بعض حواریوں کے ذریعہ اس کام کی تکمیل چاہتے ہیں۔ سیاست میں رپورٹ کی اشاعت کے ساتھ ہی خواجہ شاہد نے چانسلر ظفر سریش والا سے وضاحت کی کہ وہ اس تجویز کے حق میں نہیں ہیں اور ایگزیکٹیو کونسل کے اجلاس میں انہوں نے اس تجویز کی مخالفت کی تھی۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کی ایماء پر ایک پروفیسر نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ جس کی دیگر ارکان نے مخالفت کی۔ یہی وجہ ہے کہ 23 جون کو منعقدہ ایگزیکٹیو کونسل اجلاس کی روئیداد آج تک جاری نہیں کی گئی۔ سیاست میں خبر کی اشاعت کے ساتھ ہی خواجہ شاہد نے اپنا موقف تبدیل کرلیا۔ سریش والا نے کہا کہ ہمیشہ انہوں نے انچارج وائس چانسلر کو اس بات کا مشورہ دیا کہ وہ میڈیا سے بہتر روابط استوار کریں اور جو کچھ بھی رپورٹس شائع ہورہی ہیں، ان کی جانچ کرتے ہوئے حقائق سے میڈیا کو واقف کرائیں۔ انہوں نے یونیورسٹی کے تمام اُمور میں شفافیت کی برقراری کی تاکید کی تھی۔ ظفر سریش والا نے انچارج وائس چانسلر کے مکتوب میں ان کے حوالے سے استعمال کئے گئے الفاظ پر حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ ’’سیاست کے بارے میں کبھی بھی میری رائے منفی نہیں رہی اور نہ ہی میں نے وہ بات کہی جس کا انچارج وائس چانسلر نے مکتوب میں حوالہ دیا ہے۔ سیاست اور اس کی رپورٹس کے بارے میں میری منفی رائے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ہمیشہ انہوں نے وائس چانسلر سے کہا کہ یونیورسٹی میں موجود خامیوں کی اصلاح کی جائے اور میڈیا سے بہتر روابط استوار کرتے ہوئے یونیورسٹی کی ترقی کو یقینی بنائیں۔ چانسلر اُردو یونیورسٹی نے اس بات کا اعتراف کیا کہ یونیورسٹی کی صورتِ حال جمود جیسی ہوچکی ہے اور اس کی سرگرمیاں سکڑ گئی ہیں، لہذا وہ چاہتے ہیں کہ یونیورسٹی کو متحرک بنایا جائے اور ان خامیوں کو دُور کیا جائے جن کے سبب سرگرمیاں ٹھپ ہوچکی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ آئندہ ماہ حیدرآباد کا دورہ کریں گے اور اس موقع پر یونیورسٹی کے تمام شعبہ جات کی سرگرمیوں کا جائزہ لیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ملک کے مختلف علاقوں میں موجود اُردو یونیورسٹی کی برانچیس کی کارکردگی کا جائزہ لے رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں انہوں نے احمدآباد سنٹر کے ذمہ داروں سے بات چیت کی اور کارکردگی بہتر بنانے کے لئے تجاویز طلب کیں۔ وہ آئندہ ہفتہ مہاراشٹرا کے سنٹر کا دورہ کریں گے۔ ظفر سریش والا نے کہا کہ تین دن بعد وہ نئی دہلی پہنچ رہے ہیں جہاں وہ وزارت فروغ انسانی وسائل کے عہدیداروں سے نئے وائس چانسلر کے تقرر کے مسئلہ پر بات چیت کریں گے۔ احمدآباد میں مقیم ظفر سریش والا نے توقع ظاہر کی کہ بہت جلد نئے وائس چانسلر کا تقرر کردیا جائے گا اور وہ یونیورسٹی کی سرگرمیوں میں توسیع سے متعلق ایکشن پلان کے ساتھ کام کریں گے۔ اسی دوران اُردو یونیورسٹی کے تمام اُمور پر ابھی بھی سابق وائس چانسلر کا غلبہ دکھائی دے رہا ہے۔ انچارج وائس چانسلر جو سبکدوش وائس چانسلر کے رازدار ہیں، بتایا جاتا ہے کہ وہ ہر قدم ان کے اشارے پر اٹھارہے ہیں۔ یونیورسٹی کے کئی ذمہ داروں نے کہا کہ صحیح معنی میں دیکھا جائے تو سبکدوشی کے باوجود سابق وائس چانسلر کی حکومت چل رہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT