Tuesday , December 11 2018

ظلم ڈھائے گی تو سرکار بھی گر جائے گی

منی جنرل الیکشن … مودی بمقابلہ راہول
گجرات میں غیر مقامی پر حملے
رافیل ڈیل بی جے پی کے تعاقب میں

رشیدالدین
نریندر مودی اور بی جے پی کے آئندہ سال لوک سبھا کے عام انتخابات سے قبل منی جنرل الیکشن کا سامنا کرنا ہوگا۔ نومبر ۔ ڈسمبر میں پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کا بگل بج گیا ہے۔ سروے رپورٹس اور اوپنین پول میں بی جے پی کیلئے اچھی خبر نہیں ہے۔ راجستھان ، مدھیہ پردیش ، چھتیس گڑھ ، میزورم اور تلنگانہ اسمبلیوں کے چناؤ کی تاریخوں کا الیکشن کمیشن نے اعلان کردیا ہے۔ ان میں بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں کے چناؤ بی جے پی سے زیادہ گجرات کی مودی ۔ امیت شاہ جوڑی کیلئے ایسڈ ٹسٹ کی طرح ہیں۔ ان ریاستوں میں نریندر مودی کی مقبولیت اور بی جے پی کو عوامی تائید کا بھرم کھل جائے گا۔ بی جے پی کو ان ریاستوں سے کچھ زیادہ امید اس لئے بھی ہے کہ طویل عرصہ سے وہاں اقتدار میں ہے اور 2014 ء لوک سبھا چناؤ میں نریندر مودی کا جادو چل گیا تھا ۔ عوام نے مودی کے وعدوں پر بھروسہ کرتے ہوئے بی جے پی کی تائید کی تھی۔ چھتیس گڑھ ریاست کی تشکیل کے بعد 2003 ء سے بی جے پی کا اقتدار ہے جبکہ مدھیہ پردیش میں 2005 اور راجستھان میں 2013 ء سے بی جے پی کا راج ہے۔ عام طور پر اسمبلی انتخابات مقامی مسائل پر لڑے جاتے ہیں لیکن تینوں ریاستوں میں قومی سیاست اثر انداز ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق رائے دہندے ریاستی حکومتوں کی کارکردگی سے ناراض ہیں اور وہ تبدیلی چاہتے ہیں۔ اس کے علاوہ مرکز کی نریندر مودی حکومت کی ناکامیاں بھی انتخابی نتائج پر اثر انداز ہوگی ۔ تینوں ریاستوں میں طویل اقتدار نے بی جے پی قائدین کو مغرور بنادیا ہے اور وہ عوامی مسائل سے لا تعلق ہوگئے۔ انہیں اس بات کا اندازہ نہیں کہ سیاسی زمین کے نیچے خاموش طوفان کس طرح اٹھ رہا ہے۔ بی جے پی اور کانگریس کے لئے تینوں ریاستوں کا چناؤ کرو یا مرو کی صورتحال کی طرح ہے۔ کانگریس پا رٹی جو قومی جماعت ہونے کے باوجود صرف دو ریاستوں تک سمٹ چکی ہے، اسے دیگر ریاستوں میں واپسی اور قومی سطح پر ابھرنے کیلئے تینوں ریاستیں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔ دوسری طرف بی جے پی اقتدار اور کرسی بچانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے۔ مودی اور امیت شاہ کی انتخابی حکمت عملی ان ریاستوں میں شائد ہی چل پائے۔ انتخابی مہم کے آغاز سے قبل کئے گئے سروے میں بی جے پی کی حالت انتہائی ابتر دکھائی گئی ہے۔ اچھے دن کا نعرہ اگرچہ بی جے پی نے لگایا تھا لیکن تینوں ریاستوں میں کانگریس کے اچھے دن کے امکانات ہیں۔ بعض سروے میں راجستھان اور چھتیس گڑھ میں بی جے پی کو شکست اور مدھیہ پردیش میں کانٹے کی ٹکر دکھائی گئی ہے۔ گزشتہ چار برسوں میں مودی حکومت کے مخالف عوام فیصلوں کا اثر ان ریاستوں پر ضرور پڑے گا۔ بی جے پی نے شائد شکست کو محسوس کرلیا ہے۔ لہذا دہلی سے ریاستوں کی سطح پر اس کی قیادت دفاعی موقف میں آچکی ہے۔ منافرت اور خاص طور پر ہجومی تشدد کے واقعات کی روک تھام میں بی جے پی حکومتیں ناکام ثابت ہوئیں۔ مہنگائی میں کمی کا وعدہ کیا گیا لیکن قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔ عوام کی ناراضگی کم کرنے پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں کمی کی گئی لیکن دوسرے ہی دن سے اضافہ شروع ہوگیا۔ اب تو مرکز نے واضح کردیا ہے کہ آئل کمپنیوں کو صرف ایک مرتبہ ہی کمی کی اجازت دی گئی تھی ۔ اب دوبارہ کوئی کمی نہیں ہوگی ۔ ان حالات میں صدر کانگریس راہول گاندھی نے اپنی بھرپور صلاحیتوں کا تینوں ریاستوں کی انتخابی مہم میں مظاہرہ کیا ہے۔ حالیہ عرصہ میں راہول گاندھی ایک کہنہ مشق سیاستداں کے طور پر ابھرے ہیں اور انہوں نے اہم مسائل پر نریندر مودی کو گھیرتے ہوئے اپنے اوپر لگے ’’پپو‘‘ اور ’’امول بے بی‘‘ کے الزام کو غلط ثابت کر دکھایا۔ راہول گاندھی کی قیادت اس اعتبار سے بھی عوام میں تیزی سے مقبول ہوگئی کیونکہ نئے رائے دہندوں میں نوجوانوں کی اکثریت ہے اور وہ راہول گاندھی کی صلاحیتوں سے متاثر بھی ہیں۔ صدر کانگریس نے قیمتوں میں اضافہ اور جنگی جہاز رافیل ڈیل پر جارحانہ موقف اختیار کرتے ہوئے نریندر مودی کو لاجواب کردیا ہے۔ رافیل ڈیل میں انہوں نے جس طرح 36 ہزار کروڑ کی بے قاعدگیوں کو بے نقاب کیا ، اس سے ملک بھر میں بی جے پی کا گراف تیزی سے گرنے لگا ہے۔ ہندوستان نے وہ دن بھی دیکھے جب بوفورس ڈیل پر اپوزیشن نے راجیو گاندھی کو نشانہ بنایا تھا اور انہیں اقتدار سے محروم ہونا پڑا۔ آج بھی بوفورس معاملت کا مقدمہ جاری ہے جو محض 64 کروڑ کی رشوت سے متعلق ہے۔ رافیل ڈیل نے امبانی کی کمپنی کو 36 ہزار کروڑ اضافی رقم ادا کی گئی اور یہ اسکام دفاعی شعبہ کا مدر اسکام ہے۔ یہ اسکام نریندر مودی کا تعاقب کر رہا ہے اور رافیل جنگی طیارے کی زد سے مودی کا بچنا آسان نہیں۔ معاملہ کو ختم کرنے کیلئے وزیر دفاع نرملا سیتا رامن فرانس کے ہنگامی دورہ پر ہیں۔ سپریم کورٹ نے رافیل معاملت کی تمام تفصیلات طلب کی ہیں اور عدالت کے ان احکامات سے کانگریس کی مہم کو مزید تقویت حاصل ہوئی۔ 56 انچ کا سینہ رکھنے والے نریندر مودی ان دنوں نحیف ، کمزور اور بجھے بجھے دکھائی دے رہے ہیں۔ اپوزیشن پر گرجنے والی آواز آج رافیل ڈیل کے الزامات کی گونج میں کھو گئی ہے۔ نتن گڈکری نے یہ کہتے ہوئے نیا تنازعہ پیدا کردیا کہ انتخابی کامیابی کیلئے عوام سے جھوٹے وعدے کئے گئے تھے۔ آج جب عوام وعدوں کے بارے میں پوچھ رہے ہیں تو ہنس کر ٹال دیا جاتا ہے۔ ویسے بھی ہر شہری کے اکاؤنٹ میں 15 لاکھ روپئے کے وعدہ کو امیت شاہ نے انتخابی جملہ قرار دیا ہے۔
گجرات میں غیر مقامی اور ہندی داں افراد پر حملوں کے واقعات نے مودی کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔ جس طرح مہاراشٹر میں اترپردیش اور بہار کے ورکرس کو بھگانے کی مہم چلائی گئی تھی، اسی طرح منظم انداز میں گجرات میں ہندی داں ورکرس کو نشانہ بنایا گیا۔ اترپردیش ، بہار اور دیگر ریاستوں کے ہزاروں مزدور نقل مقام پر مجبور ہوچکے ہیں۔ سب کا ساتھ سب کا وکاس کا نعرہ لگانے والے نریندر مودی اور امیت شاہ کی ریاستوں میں یہ کس طرح کا ظلم ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گجرات سے تعلق رکھنے والے مودی اترپردیش کے وارانسی سے لوک سبھا کیلئے منتخب ہوئے ۔ گجرات کے واقعات کے بعد وارانسی کے عوام ’’مودی گجرات واپس جاؤ‘‘ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ہندی داں مزدوروں کے ساتھ گجرات میں حملے ، علاقے اور زبان کی بنیاد پر تعصب میں اضافہ کا ثبوت ہیں۔ بی جے پی برسر اقتدار آنے کے بعد سے ملک میں جارحانہ فرقہ پرست عناصر کو کھلی چھوٹ مل چکی ہے۔ جس واقعہ کو بنیاد بناکر ہندی داں ورکرس کو نشانہ بنایا جارہا ہے، وہ واقعہ یقیناً قابل مذمت ہے اور خاطیوں کو سخت سزا دی جانی چاہئے لیکن جن پر حملے کئے جارہے ہیں ، ان کا اس واقعہ سے کیا تعلق جس طرح 2002 ء میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا، اسی طرح اب ہندی ریاستوں کے افراد فرقہ پرست طاقتوں کی زد میں ہے۔ اگر ہندی ریاستوں میں جوابی کارروائی کا آغاز ہوجائے تو پھر گجراتیوں کا کیا ہوگا۔ کیا یہی نریندر مودی اور بی جے پی کی قوم پرستی اور وطن پرستی ہے؟ جہاں تک گجرات کی معیشت کا سوال ہے، نارتھ انڈیا سے تعلق رکھنے والے ورک فورس نے معاشی ترقی میں نمایاں رول ادا کیا ۔ اگر وہ گجرات چھوڑ دیں گے تو معیشت تباہ ہوسکتی ہے۔ حملوں کو روکنے میں بی جے پی اور گجرات کی حکومت ناکام ہوچکی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بی جے پی وقفہ وقفہ سے اپنے نشانے تبدیل کرتی ہے۔ 2002 ء میں منصوبہ بند انداز میں مسلمانوں کی نسل کشی کی گئی۔ فسادات میں سیاسی قائدین کے ملوث ہونے کا واضح ثبوت ہونے کے باوجود عدالتوں سے بری کردیا گیا۔ سماجی جہد کار تیستا سیتلواد نے جب سیاستدانوں کے خلاف سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تو انہیں ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔ گزشتہ دنوں لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ ضمیر الدین شاہ نے گجرات فسادات کے سلسلہ میں سنسنی خیز انکشافات کئے ۔ انہوں نے بتایا کہ فسادات کے بعد جب فوج کی تعیناتی کا مرحلہ آیا تو گجرات کی حکومت نے فوج کو تعینات کرنے کی اجازت دینے میں تاخیر کی جس کے سبب صورتحال ابتر ہوگئی۔ چیف منسٹر کے عہدہ پر نریندر مودی فائز تھے جبکہ امیت شاہ وزارت میں وزیر باتدبیر کی طرح صورتحال کی نگرانی کر رہے تھے ۔ لیفٹننٹ جنرل ضمیر الدین کے انکشاف سے سیاسی قائدین کے ملوث ہونے کا واضح اشارہ ملتا ہے۔ اب جبکہ آبائی ریاست میں ہندی داں ورکرس غیر محفوظ ہیں ، نریندر مودی اور امیت شاہ 2002 کی طرح خاموش تماشائی کا رول ادا کر رہے ہیں۔ دونوں قائدین نے اس مسئلہ پر لب کشائی تک نہیں کی اور نہ ہی گجرات کا دورہ کرنے کی زحمت گوارا کی ۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ نریندر مودی چیف منسٹر سے ربط قائم کرتے ہوئے تشدد روکنے کی ہدایت دیتے۔ ٹوئیٹر پر تبصرہ کیلئے مشہور مودی نے آج تک گجرات کے واقعات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ آخر عوام کو کیسے پتہ چلے کہ مودی کے من میں کیا چل رہا ہے ؟ گزشتہ چار برسوں میں کارناموں سے محروم بی جے پی اگر تشدد کے راستے دوبارہ برسر اقتدار آنا چاہتی ہے تو یہ اس کی بھول ہوگی۔ منظر بھوپالی نے کچھ اس طرح تبصرہ کیا ہے ؎
ہم نے یہ بات بزرگوں سے سنی ہے منظرؔ
ظلم ڈھائے گی تو سرکار بھی گر جائے گی

TOPPOPULARRECENT