Monday , June 25 2018
Home / مضامین / ظلم کے ہاتھ سے تلوار بھی گر جائے گی

ظلم کے ہاتھ سے تلوار بھی گر جائے گی

رشیدالدین روزہ دار کے منہ میں روٹی …شیوسینا کی شرانگیزی ہندو راشٹر کا خواب …دہلی کا ریموٹ ناگپور میں

رشیدالدین

روزہ دار کے منہ میں روٹی …شیوسینا کی شرانگیزی
ہندو راشٹر کا خواب …دہلی کا ریموٹ ناگپور میں

پاکستان جاؤ، یہ ہے ہندوستان، روزہ دار کے منہ میں جبراً روٹی ٹھونسنا اور وزیراعظم کا دعوت افطار سے گریز۔ یہ نریندر مودی حکومت کے اچھے دنوں کی نشانیاں ہیں۔ مرکز میں ناگپور ریموٹ کنٹرول سے چلنے والی نریندر مودی حکومت کے 100 دن بھی مکمل نہیں ہوئے کہ جارحانہ فرقہ پرستی کا ننگا ناچ ملک میں عام ہونے لگا ہے۔ مودی کے اقتدار کے ساتھ ہی سنگھ پریوار اور اس کے پروردہ بے قابو ہوچکے ہیں اور ہندوستان کو ہندو راشٹر میں تبدیل کرنے سے متعلق 6 دہوں کے ادھورے خواب کو حقیقت میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ صرف 31 فیصد ووٹ سے برسر اقتدار اس حکومت کا خواب ہمیشہ خواب ہی رہ جائے گا لیکن جارحانہ فرقہ پرستی کے علمبرداروں کی دیدہ دلیری دیکھئے کہ وہ دستور اور قانون کی دھجیاں ا ڑاتے ہوئے مسلم اقلیت کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے میں فخر محسوس کر رہے ہیں ۔ دہلی کے مہاراشٹرا سدن میں شیوسینا ارکان کی غنڈہ گردی اور مسلم ملازم جو روزہ سے تھا ، اس کے منہ میں زبردستی روٹی ٹھونس دی گئی۔ اس مسئلہ پر پارلیمنٹ میں اپوزیشن کا احتجاج جاری تھا کہ بی جے پی رکن رمیش بدوری نے احتجاج کرنے والے ارکان کو پاکستان جانے کی صلاح دیتے ہوئے ریمارک کیا کہ ہندوستان دراصل ہندوؤں کا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مودی کے راج میں فرقہ پرست عناصر میں شرانگیز اور نفرت پر مبنی ذہنیت کی عکاسی کیلئے مسابقت جاری ہے۔

مودی نے اچھے دن اور تمام مذاہب کے ساتھ یکساں سلوک اور انصاف کا وعدہ کیا تھا لیکن حقیقت میں حالات اس کے برعکس دکھائی دے رہے ہیں۔ اچھے دن تو سنگھ پریوار کیلئے آئے ہیں جن کے قائدین کو ملک میں زہر پھیلانے کی کھلی چھوٹ مل چکی ہے ۔ مودی حکومت کو ابھی دو ماہ ہوئے کہ خفیہ ایجنڈہ پر عمل آوری کا آغاز ہوگیا۔ اشوک سنگھل اور پروین توگاڑیہ جیسے قائدین کی زبانیں بے لگام ہوگئیں۔ وقفہ وقفہ سے یہ قائدین اپنی زہر افشانی کے ذریعہ سماج کے سیکولر تانے بانے کمزور کرنے کا کوئی موقع گنوانا نہیں چاہتے اور ان کی باز پرس کا مودی حکومت میں کوئی تصور بھی نہیں ہے۔ پروین توگاڑیہ نے مسلمانوں کو مظفر نگر فسادات کو نہ بھلانے کی دھمکی دی ہے۔ مودی حکومت نے مظفر نگر فسادات کے ملزم سنجیو بلیان کو وزیر کا درجہ دیکر مسلمانوں پر مظالم کا تحفہ دیا گیا ۔ الغرض مودی نے دو ماہ میں اچھے دنوں کی ایسی کئی مثالیں پیش کی ہیں، مہاراشٹرا سدن نے شیوسینا ارکان کی غنڈہ گردی محض ایک اتفاق نہیں بلکہ منصوبہ بند سازش کا حصہ تھا ۔ رمضان المبارک کا احترام دیگر ابنائے وطن بھی کرتے ہیں اور ہر کوئی جانتا ہے کہ مسلمان اس ماہ مقدس میں روزہ کا اہتمام کرتے ہیں لیکن شیوسینا رکن پارلیمنٹ راجن وچارے نے مسلم ملازم ارشد زبیر کے منہ میں روٹی ٹھونس دی۔ وہ نوجوان کہتا رہا کہ میرا روزہ ہے لیکن شیوسینا رکن پارلیمنٹ کا مقصد ہی روزہ کی توہین تھا لہذا انہوں نے دو مرتبہ اس طرح کی حرکت کی ۔ اگرچہ یہ واقعہ 17 جولائی کو پیش آیا لیکن اسے مخفی رکھا گیا تھا۔ بالآخر کسی طرح ویڈیو ٹیپ منظر عام پر آیا۔ پہلے تو اس واقعہ سے انکار کیا گیا، بعد میں شیوسینا کے سربراہ اودھو ٹھاکرے نے صفائی دی کہ رکن پارلیمنٹ کا مقصد مذہبی جذبات کو مجروح کرنا نہیں تھا بلکہ وہ ناقص کھانے کی شکایت کر رہے تھے۔

واقعہ کے ذمہ دار ایم پی کا کہنا تھا کہ انہیں نوجوان کے مسلم ہونے کا علم نہیں تھا۔ یہ بہانہ اس لئے بھی قابل قبول نہیں کیونکہ یونیفارم پر واضح حروف میں نام درج تھا اور پھر وہ نوجوان چیخ کر کہہ رہا تھا کہ میں روزہ میں ہوں۔ سماعت اور بصارت سے محروم شخص ہی اس طرح کی دلیل پیش کرسکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ جب کسی پر نفرت اور فرقہ پرستی کا جنون سوار ہو تو اسے کچھ دکھائی اور سنائی نہیں دیتا۔ ناقص غذا کی شکایت تھی تو وہ ذمہ دار افسر سے کرتے، مسلمان ہی آسان نشانہ کیوں ؟ شیوسینا کے جن 11 ارکان پارلیمنٹ نے ہنگامہ آرائی کی ان میں 10 مجرمانہ ریکارڈ رکھتے ہیں۔ روٹی ٹھونسنے والے رکن راجن وچارے کے خلاف 19 مقدمات زیر دوران ہیں جبکہ سنجے راوت 14 اور شیوراج ادھل راؤ پاٹل 10 مقدمات میں ملوث ہیں۔ افسوس تو اس بات پر ہے کہ شیوسینا اور اس کے قائدین کو اس شرمناک حرکت پر کوئی ندامت تک نہیں۔ حتیٰ کہ بی جے پی قائدین اور حکومت میں شامل افراد کی زبانوں پر جیسے تالا لگ گیا ہے۔ ایل کے اڈوانی کے سوا کسی نے بھی اس واقعہ کی مذمت نہیں کی۔ اقلیتی امور کی وزیر نجمہ ہبت اللہ نے جو مولانا ابوالکلام آزاد کے وارث ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں، انہوں نے تو مولانا آزاد سے اپنی نسبت کی توہین کردی

اور اخباری نمائندوں کو ’’کچھ نہیں کچھ نہیں‘‘ کہہ کر روانہ ہوگئیں۔ ظاہر ہے کہ نجمہ ہبت اللہ کے نزدیک مسلمان اقلیت ہی نہیں تو پھر ان کے حقوق کی انہیں کیا پرواہ ہوگی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عام انتخابات کی طرح مہاراشٹرا اسمبلی کے مجوزہ چناؤ میں شیوسینا بی جے پی فرقہ وارانہ بنیاد پر ووٹ تقسیم کرتے ہوئے کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ایک قومی چیانل کی جانب سے شیوسینا کو بے نقاب کرنے پر وہ تلملا اٹھی ہے اور مسئلہ کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کا الزام عائد کیا گیا۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ اسی چیانل اور اس کے ایڈیٹر نے جب مسلم قائدین کی اشتعال انگیز تقاریر کا مسئلہ اٹھایا تو بی جے پی اور شیوسینا قائدین بغلیں بجا رہے تھے اور اس چیانل کی خوب تعریف کی تھی، جو لوگ ملک میں فرقہ پرستی کی سیاست کے ماہر ہے، ان کا یہ اعتراض ایسا ہی جیسے شیطان نیکیوں کا درس دینے لگ جائے۔ کیا ملک میں مسلمان دوسرے درجہ کا شہری ہے کہ وہ مظالم پر آواز بھی نہیں اٹھاسکتا ؟

مودی سرکار نے جارحانہ فرقہ پرستی کی یلغار کا ایک اور نمونہ لوک سبھا میں بی جے پی رکن رمیش بدوری نے پیش کیا جس میں انہوں نے مسلمانوں کی ہمدردی اور شیوسینا کی مذمت کرنے والوں کو پاکستان جانے کا مشورہ دیا۔ ’’گو ٹو پاکستان ، یہ ہے ہندوستان‘‘ کا نعرہ نہ صرف شرانگیزی ہے بلکہ بی جے پی ذہنیت کا عکاس ہے۔ جو باتیں بی جے پی اور سنگھ قائدین کے دل میں تھیں اب زبان پر آنے لگی ہیں۔ مسلمانوں کو پاکستان سے جوڑنے والے یہ ہرگز نہ بھولیں کہ ملک کی جدوجہد آزادی سے لیکر ترقی تک ہندوستان کا ہر زرہ مسلمانوں کی قربانیوں اور کارناموں کا قائل ہے۔ پہلے مجاہد آزادی سے لیکر ہندوستان کو عصری میزائیل سے لیس کرنے والے مسلمان ہی تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ ترقی کے ثمرات میں مسلمانوں کو حصہ داری نہیں مل سکی۔ تعمیر وطن میں مسلمان دوسروں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں، اگر اکثریتی طبقہ در و دیوار ہیں تو مسلمان اس کی بنیاد ہیں۔ 31 فیصد ووٹ سے قائم حکومت اقتدار کے نشہ میں نہ رہے۔ عام انتخابات کے نتائج سے مسلمان باشعور ہوچکے ہیں۔ وہ جان چکے ہیں کہ سیکولر ووٹ کی تقسیم سے بی جے پی کو فائدہ ہوا۔ لہذا آنے والے انتخابات میں وہ اپنے ووٹ کی طاقت کا اظہار اور بی جے پی کو اس کا مقام بتانے کیلئے تیار ہیں۔

مسلمانوں کو پاکستان سے جوڑنے والے کیا اس بات سے انکار کرسکتے ہیں کہ تقریب حلف برداری میں نواز شریف کی شرکت کیلئے بی جے پی نے خوشامد کی تھی۔ نواز شریف کی شرکت یقینی بنانے تمام سارک ممالک کے سربراہوں کو رسماً دعوت دی گئی۔ مودی کی حلف برداری کی تاریخ 26 مئی سے لیکر آج تک سرحد پر پاکستان کی جانب سے کئی مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی گئی اور ہندوستانی فوجی نشانہ بنائے گئے۔ پھر بھی 25 اگست کو ہندوستانی خارجہ سکریٹری پاکستان جارہی ہیں۔ پاکستان کو منہ توڑ جواب دینے کا مطالبہ کرنے والے نریندر مودی، وزیراعظم بنتے ہی پاکستان پر مہربان کیوں ؟ حافظ سعید سے ملاقات کرنے والے وید پرتاپ ویدک کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی ۔ شاید اس لئے کہ وہ سنگھ پریوار کی گڈ لسٹ میں ہیں۔ ستمبر میں نیویارک میں نواز شریف سے ملاقات کیلئے مودی ابھی سے بے چین کیوں ہیں ؟ اطلاعات کے مطابق اوباما اور نواز شریف سے ملاقات کیلئے نریندر مودی جاذب نظر کپڑوں کی تیاری میں مصروف ہیں اور اس کیلئے ممبئی کے ایک مشہور فیشن ڈیزائنر کی خدمات حاصل کی گئی۔ مسلمانوں کو پاکستان جانے کا مشورہ دینے والے اچھی طرح واقف ہیں کہ مسلمان ان سے زیادہ مادر وطن سے محبت رکھتا ہے اور مرنے کے بعد بھی اسی سرزمین میں دفن ہوتا ہے۔ تاریخ سے ناواقف بی جے پی قائدین کو کوئی سمجھائے کہ تقسیم ہند اور پاکستان کے وجود کو سردار پٹیل نے تسلیم کیا تھا لیکن مولانا ابوالکلام آزاد نے تادم آخر پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کیا۔ وہ لوگ پاکستان جائیں جو سردار پٹیل کا مجسمہ نصب کر رہے ہیں اور خود کو پٹیل کا جانشین تصور کرتے ہیں۔ اگر کسی کو پاکستان بھیجنا ہی ہو تو اڈوانی سے لیکر کئی بی جے پی قائدین کو بھیجنا پڑے گا۔ اسے مسلمانوں کی بدقسمتی کہئے کہ ایوان پارلیمنٹ میں فرقہ پرست آوازوں کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے قائد ملت محمد اسماعیل ، بدر الدجیٰ، غلام محمود بنات والا اور ابراہیم سلیمان سیٹھ جیسے قد آور اور مخلص قائدین آج موجود نہیں۔ نریندر مودی اب تو وزیراعظم کی حیثیت سے دعوت افطار کرنے بھی تیار نہیں۔ وزیراعظم کی جانب سے دعوت افطار ملک کی روایتی تہذیب کا حصہ ہے۔ مودی نے صدر جمہوریہ کی دعوت افطار میں بھی شرکت نہیں کی۔ وہ بھول گئے کہ اٹل بہاری واجپائی نے بھی وزیراعظم کی حیثیت سے نہ صرف دعوت افطار کا اہتمام کیا تھا بلکہ نماز مغرب کے لئے علماء کو جانماز فراہم کی تھی۔ دہلی پر ناگپور کے کنٹرول کا یہ عالم ہے کہ مودی دعوت افطار کو مسلمانوں کی خوشنودی کو تصور کر رہے ہیں۔ انہیں وہ حلف یاد رکھنا ہوگا جو وزیراعظم کی حیثیت سے انہوں نے لیا تھا ۔ ان تمام سرگرمیوں کا مقصد مسلمانوں کے حوصلے پست کرنا اور نفسیاتی طور پر انہیں خوفزدہ کرنا ہے۔ ان حالات میں صرف رونے دھونے سے کچھ نہیں ہوگا بلکہ دستور اور قانون میں دیئے گئے حقوق کے مطابق مسلمانوں کو مقابلہ کی صلاحیت پیدا کرنی چاہئے۔ وہ اپنے میں اتنی طاقت تو پیدا کریں کہ ظالم کا ہاتھ پکڑ سکیں۔ اگر کوئی روزدار کے منہ میں روٹی ٹھونسنے کی کوشش کرے تو اس کی کلائی موڑسکے۔ مسلمان خود کو اقلیت نہ سمجھیں بلکہ وہ ملک کی دوسری بڑی اکثریت ہیں۔ حوصلے اور جرات کے ساتھ ہی صورتحال کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ منظر بھوپالی نے کیا خوب کہا ؎
سرفروشی کا جنوں آپ میں جاگا جس دن
ظلم کے ہاتھ سے تلوار بھی گر جائے گی

TOPPOPULARRECENT