Friday , December 15 2017
Home / اضلاع کی خبریں / ظہیرآباد مارکٹ کمیٹی چیرمین کے عہدہ کیلئے رسہ کشی

ظہیرآباد مارکٹ کمیٹی چیرمین کے عہدہ کیلئے رسہ کشی

صدر و نائب صدر کے عہدہ پر مسلم امیدوار یکسر نظرانداز، حکومت کے دعوے کھوکھلے
نیالکل۔/4ستمبر، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ریاست تلنگانہ میں زرعی مارکٹ کمیٹی چیرمین کی اہل نشست کیلئے ٹی آر ایس قائدین کی نامزدگیوں کا اعلان کیا جارہا ہے جس میں ضلع میدک حلقہ اسمبلی ظہیرآباد مارکٹ کمیٹی کے عہدہ کو او سی جنرل کیلئے محفوظ کئے جانے کے بعد ٹی آر ایس قائدین میں کافی بے چینی دیکھی جارہی ہے۔ حلقہ اسمبلی ظہیرآباد کے چاروں منڈلس نیالکل، کوہیر، جھرہ سنگم ، ظہیرآباد کے کئی سینئر ٹی آر ایس قائدین حصول مارکٹ کمیٹی چیرمین کے عہدہ پر منتخب ہونے کے لئے تمام کوشش جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اہل صدر نشین مارکٹ کمیٹی چیرمین کیلئے ٹی آر ایس ارکان سے مختلف ناموں کی پیش قیاسی کی جارہی ہے۔ جس میں رما کانت پاٹل جھرہ سنگم کا نام اور نائب صدر کے عہدہ پر گونی شیوا کمار کا نام سرفہرست ہے جبکہ حلقہ اسمبلی ظہیرآباد میں 48 فیصد مسلم اکثریتی حلقہ ہونے کے باوجود مسلم امیدواروں کو یکسر نظرانداز کیا گیا۔ سابق حکومتوں میں بھی کسی مسلم کو صدر نشین کے عہدہ پر منتخب نہیں کیا گیا۔ صرف نائب صدر تک محدود کیا گیا اور اب حکمراں جماعت نے نائب صدر کے عہدہ پر غیر مسلم امیدواروں کے ناموں کی تجویز پیش کی۔ ریاستی حکومت کا اقلیتوں کے ساتھ سوتیلا سلوک منظر عام پر دکھائی دے رہا ہے۔ جبکہ حلقہ اسمبلی ظہیرآباد ضلع میدک میں واحد حلقہ پارلیمانی و اسمبلی حلقہ ہے یہاں سے بغیر مسلم کے پارلیمانی اور اسمبلی نشست پر کامیابی ناممکن ہے۔ اور ایسے مسلم بادشاہی موقف حلقہ میں مسلم کو نظر انداز کرنا حکومت کو انتخابات میں کافی مہنگا ثابت ہوسکتا ہے۔ ریاستی حکومت وزیر اعلیٰ کے سی آر کی اقلیتوں کی ترقی و فلاح و بہبود کے وعدہ اور دعوے کھوکھلے نظر آرہے ہیں۔ زرعی مارکٹ چیرمین ظہیرآباد کے ڈائرکٹرس ممبران میں بھی مسلم کو شامل نہیں کیا جارہا ہے۔ صرف ایک مسلم امیدوار کے نام کو قطعیت دی جارہی ہے جبکہ سابق ریاستی وزیر فرید الدین کی ٹی آر ایس میں شمولیت کے بعد وہی ظہیرآباد ٹی آر ایس پارٹی کا مضبوط قلعہ بن چکا ہے یا پھر وزیر اعلیٰ کے سی آر سابق ریاستی وزیر فریدالدین کو ایم ایل سی نامزدکرکے کابینہ میں شمولیت کرکے مسلم اقلیتی دوست کا ثبوت دیں۔ بصورت دیگر حکمران جماعت کو ضلع میدک کے مسلم حلقوں کی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT