Monday , November 20 2017
Home / اضلاع کی خبریں / ظہیرآباد کو ریونیو ڈیویژن بنانے کا مطالبہ

ظہیرآباد کو ریونیو ڈیویژن بنانے کا مطالبہ

سیاسی و غیر سیاسی تنظیموں کی ریالی، تحصیلدار کو یادداشت
ظہیرآباد۔/22جون، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ظہیرآباد کو ریونیو ڈیویژن بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے آج یہاں مختلف سیاسی و غیر سیاسی تنظیموں کی جانب سے ایک زبردست احتجاجی ریالی نکالی گئی جو انسپکشن بنگلہ سے نکل کر اہم تجارتی علاقوں سے گذرتی ہوئی تحصیل آفس پہنچ کر ایک یادداشت تحصیلدار مسٹر اے انیل کو حوالے کرنے کے بعد منتشر ہوگئی۔ یادداشت میں تحصیلدار کے توسط سے ضلع کلکٹر کے علم میں یہ بات لائی گئی کہ ظہیرآباد ایک تاریخی اہمیت کا حامل شہر ہے جو پڑوسی ریاستوں کرناٹک اور مہاراشٹرا کے سرحدی علاقوں پر واقع ہونے کے ساتھ ساتھ ریلوے لائن اور قومی شاہراہ سے مربوط ہونے کے باعث مختلف تجارتوں اور صنعتوں کا مرکز بھی ہے، یہاں پر نمس، آئی ڈی اے، مہیندرا اینڈ مہیندرا، ٹرائیڈنٹ شوگر فیکٹری، گلوبل ہیلتھ کیر جیسی معروف کمپنیاں واقع ہونے کے علاوہ کئی ایک بڑی صنعتوں کے قیام کے امکانات بھی روشن ہیں۔ یادداشت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ظہیرآباد میں پرائمری سطح سے پوسٹ گریجویشن سطح تک تعلیمی سہولتیں حاصل ہیں جبکہ مقدمات کی یکسوئی کیلئے منصف کورٹ کے علاوہ سب کورٹ بھی قائم ہے۔ یادداشت میں ریونیو ڈیویژن کے دفاتر کے قیام کے لئے فاضل اراضی موجود ہونے کے علاوہ سابق حکومت میں ظہیرآباد کو ریونیو ڈیویژن بنانے کے ضمن میں کئے گئے سروے کی جانب بھی توجہ مبذول کرائی گئی۔ یادداشت کے آخر میں ریاستی حکومت کو انتباہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ وہ مذکورہ سہولتوں سے آراستہ ظہیرآباد کو ریونیو ڈیویژن بنانے کے لئے عملی اقدامات کرنے سے گریز کرتی ہے تو تمام اپوزیشن جماعتیں متحدہ طور پر عوام کے اس جائز مطالبہ کی یکسوئی کے لئے زبردست احتجاج منظم کریں گی۔ احتجاج میں کانگریس، بی جے پی، سی پی آئی اور تلگودیشم کے سرکردہ قائدین مسرز ایم جئے پال ریڈی، کنڈیم نرسملو، وائی نروتم، آر دسرتھ ریڈی، محمد یوسف، ٹی لکشما ریڈی ایڈوکیٹ، سرینواس گوڑ، ملکارجن، سید جلال، مختار احمد اور ایم پی جے کے نورالحسن غوری، محمد اقبال احمد کے بشمول سینکڑوں کارکنوں نے حصہ لیا۔

TOPPOPULARRECENT