Friday , September 21 2018
Home / اضلاع کی خبریں / ظہیر آباد میں مسلم رائے دہندوں کو بادشاہ گر کا موقف

ظہیر آباد میں مسلم رائے دہندوں کو بادشاہ گر کا موقف

سیاسی جماعتوں کو موزوں امیدواروں کی تلاش، درخواستوں کی طلبی

سیاسی جماعتوں کو موزوں امیدواروں کی تلاش، درخواستوں کی طلبی

ظہیر آباد /9 مارچ (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ریاستی الیکشن کمیشن کی جانب سے اعلامیہ جاری کئے جانے کے بعد میونسپلٹی ظہیرآباد کے انتخابات میں حصہ لینے والی تمام سیاسی جماعتوں نے معلنہ تحفظات کے مطابق موزوں امیدواروں کے انتخاب میں اپنی تمام تر توجہ مرکوز کردی ہے۔ اس خصوص میں انتخابات میں حصہ لینے کے خواہش مند امیدواروں سے درخواستیں طلب کی جا رہی ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے بموجب کانگریس کے ٹکٹ پر انتخابات میں حصہ لینے کے لئے داخل کردہ درخواستوں کی تعداد تلگودیشم کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ میونسپلٹی ظہیرآباد کی تاریخ میں پہلی مرتبہ صدر نشین کا عہدہ تحفظات کے عام زمرہ سے تعلق رکھنے والی خاتون کے لئے محفوظ کیا گیا ہے، جب کہ 24 کے منجملہ 12 بلدی حلقہ جات خواتین کے لئے مختص کردیئے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں اس سے قبل منعقدہ بلدی انتخابات میں منتخب ہونے والے چند مرد اراکین بلدیہ کے موجودہ انتخابات میں حصہ لینے کے امکانات موہوم ہو گئے ہیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بے جا نہ ہوگا کہ ستمبر 2005ء میں منعقدہ انتخابات میں 24 کے منجملہ 9 بلدی حلقہ جات خواتین کے لئے محفوظ قرار دیئے گئے تھے، جب کہ صدر نشین کا عہدہ پسماندہ طبقات کے عام زمرہ کے لئے مختص کردیا گیا تھا۔ اس وقت بلدی انتخابات میں کانگریس کو زبردست کامیابی ملی تھی اور اس کے 14 امیدوار منتخب ہوئے تھے، جب کہ باقی 10 کے منجملہ 5 حلقہ جات پر تلگودیشم، 2 حلقہ جات پر ایم آئی ایم، 2 حلقہ جات پر آزاد اور ایک حلقہ پر سی پی ایم امیدوار منتخب ہوئے تھے۔ صدر نشین کے عہدہ کے لئے مرلی کرشنا گوڑ اور نائب صدر نشین کی نشست کے لئے محمد خواجہ میاں کا انتخاب عمل میں آیا تھا۔ 9 مسلم امیدوار بھی منتخب ہوئے تھے،

جن کے منجملہ 4 کانگریس، 2 تلگودیشم، 2 ایم آئی ایم اور 2 آزاد امیدوار تھے۔ مارچ 2000ء میں منعقدہ بلدی انتخابات میں 20 بلدیہ کے لئے 9 مسلم امیدواروں نے بھی کامیابی حاصل کی تھی، جن کے منجملہ 7 ایم آئی ایم، ایک کانگریس اور ایک تلگودیشم کا امیدوار تھا۔ یہ حقیقت بھی ناقابل تردید ہے کہ میونسپلٹی ظہیرآباد میں مسلمانوں کی 46 فیصد آبادی کے تناظر میں مسلم رائے دہندوں کو بادشاہ گر کا موقف حاصل ہے۔ 24 کے منجملہ 10 حلقہ جات ایسے ہیں، جہاں مسلم رائے دہندوں کی ریکارڈ اکثریت ہے، جیسا کہ 4 حلقہ جات ایسے ہیں جہاں مسلم رائے دہندے کسی بھی مسلم امیدوار کے حق میں اپنا متحدہ ووٹ استعمال کریں تو کامیابی یقینی ہے۔ اسی طرح بلدی حلقہ جات 1، 4، 5 اور 7 میں مسلم رائے دہندوں کو فیصلہ کن موقف حاصل ہے، گویا 24 کے منجملہ 18 حلقہ جات میں کسی بھی امیدوار کی کامیابی کا انحصار مسلم رائے دہندوں کے ووٹوں پر ہے۔ واضح رہے کہ میونسپلٹی ظہیرآباد کے 24 کے منجملہ 12 حلقہ جات 1، 2، 4، 6، 10، 13، 15، 17، 20، 21، 22 اور 23 خواتین کے لئے تحفظات کے مختلف زمروں کے تحت محفوظ قرار دیئے گئے ہیں، جب کہ باقی حلقہ جات 3، 5، 7، 8، 9، 11، 12، 14، 16، 18، 19 اور 24 مردوں کے لئے تحفظات کے مختلف زمروں کے لئے مختص کردیئے گئے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ انتخابات میں حصہ لینے والی سیاسی جماعتیں مسلمانوں کی آبادی کے تناسب سے کتنے مسلم امیدواروں کو انتخابی میدان میں اتارتی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT