Monday , June 25 2018
Home / اضلاع کی خبریں / عادل آباد میں تلگودیشم کا صفایا یقینی

عادل آباد میں تلگودیشم کا صفایا یقینی

عادل آباد14مئی ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) ضلع عادل آباد میں بلدی نتائج منظر عام پر آنے کے بعد عام انتخابات کے نتائج پر عوام اپنی تمام توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں ۔ مختلف جماعتوں کے سیاسی پنڈتوں کے تجربہ کے پیش نظر ضلع کے دس اسمبلی حلقہ جات میں پانچ اسمبلی اور عادل آباد لوک سبھا حلقہ پر کانگریس امیدواروں کی کامیابی کو یقینی قرار دیا جارہا ہے ۔

عادل آباد14مئی ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) ضلع عادل آباد میں بلدی نتائج منظر عام پر آنے کے بعد عام انتخابات کے نتائج پر عوام اپنی تمام توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں ۔ مختلف جماعتوں کے سیاسی پنڈتوں کے تجربہ کے پیش نظر ضلع کے دس اسمبلی حلقہ جات میں پانچ اسمبلی اور عادل آباد لوک سبھا حلقہ پر کانگریس امیدواروں کی کامیابی کو یقینی قرار دیا جارہا ہے ۔ نمائندہ سیاست محبوب خان کے تجزیہ کے مطابق ضلع میں تلگودیشم پارٹی کا مکمل صفایا دیگر جماعتوں کے بالمقابل کاگنریس امیدواروں کی کامیابی تصور کی جارہی ہے ۔ حالیہ عام انتخابات میں مذہب ، ذات پات ، شراب اور دولت کا سکہ کھوٹا ثابت ہورہا ہے ۔ عادل آباد لوک سبھا حلقہ میں سہ رخی مقابلہ تصور کیا گیا ۔ بی جے پی کے تائیدی تلگودیشم امیدوار مسٹر راتھوڑ رامیش گذشتہ انتخابات میں زائد از ایک لاکھ ووٹوں کی اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی ۔ موصوف کا پانچ سالہ دور عوام کیلئے مایوس کن ثابت ہوا ۔ تلگودیشم کے تحت مسٹر جی ناگیش نے حلقہ اسمبلی بوتھ سے مسلسل تین مرتبہ کامیابی حاصل کرتے ہوئے ریساتی وزیر بھی رہے جو تلگودیشم کی ڈوپتی کشتی سے نکل کر ایک ماہ قبل ٹی آر ایس میں شمولیت حاصل کی ۔ رائے دہندوں نے موصوف کو نظر انداز کرتے ہوئے کانگریس امیدوار ماہر تلعیم ڈاکٹر نریش جادو کے حق میں کثرت سے ووٹ کا استعمال کیا جس کے بناء مسٹر نریش جادو زائد از ایک لاکھ ووٹوں کی اکثریت سے منتخب ہونے کے قوی اشارے دکھائی دے رہے ہیں ۔ ’’ کراس ووٹنگ ‘‘ تمام سیاسی جماعتوں کے امیدوار اپنی کامیابی کا اظہار کر رہے ہیں ۔ ضلع کے دس اسمبلی حلقہ جات میں پانچ اسمبلی حلقہ عام زمرے میں شمار کئے جاتے ہیں جبکہ ایس ٹی طبقہ کیلئے تین اور ایس سی طبقہ کیلئے دو محفوظ کئے گئے ہیں ۔ نمائندہ سیاست محبوب خان کے تجزیہ کے مطابق آصف آباد سے مسٹر آترم سکو ، منچریال سے مسٹر اروند ریڈی ، موھول سے مسٹر جی وٹھل ریڈی ، بوتھ سے مسٹر انیل جادو ، جینوا سے سابق ریاستی وزیر مسٹر جی ونود کانگریس سے کامیابی حاصل کر رہے ہیں ۔ سرپور سے مسٹر کے سمیا ، خانہ پور سے محترمہ اجمیرا ریکھا اور عادل آباد ے مسٹر جوگو رامنا ٹی آر ایس سے منتخب ہونے کے علاوہ بیلم پلی سے مسٹر گنڈہ ملیش CPI نرمل سے مسٹر اندرا کرن ریڈی بی ایس پی کی کامیابی حاصل ہوگی ۔ کانگریس دو گروپس میں تقسیم ہونے کے بناء پر عادل آباد کانگریس امیدوار مسٹر بھارگو رمیش پانڈے کو نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ مدھول اسمبلی حلقہ سے ڈاکٹر ایس وینوگوپال چاری بھی خطرے میں دکھائی دے رہے ہیں ۔ موصوف اپنی سیاسی بقاء کی خاطر تلگودیشم کو ترک کرتے ہوئے ٹی آر ایس میں شمولیت حاصل کی تھی ۔ نرمل کے سینئیر کانگریس قائد مسٹر اے اندرا کرن ریڈی اپنے سیاسی وجود کو برقرار رکھنے کی غڑض بی ایس پی کو متعارف کرایا ہے ۔ نرمل کی عوام نے قبول کیا ۔ آصف آباد حلقہ میں آنجہانی ریاستی وزیر مسٹر کے بھیم راؤ کے دونوں دختگران محترمہ کوالکشمی ٹی آر ایس محترمہ ایم سرسوتی تلگودیشم بی جے پی امیدوار کے طور پر پہلی مرتبہ انتخابات میں حصہ لیا ۔ خانہ پور میں تلگودیشم امیدوار کے طور پر مسٹر راتھوڑ رمیش نے اپنے فرزند کو تلگودیشم امیدوار بنایا جبکہ ٹی آر ایس امیدوار اجمیرا ریکھا کو غیر مقامی ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے رائے دہندوں کی جانب سے نظر انداز کرنے کی بھی اطلاعات ہیں ۔ کانگریس کے ایک گروپ کی قیادت کرنے والے سابق رکن قانون ساز کونسل سمرٹ پریم ساگر راؤ سرپور حلقہ سے امیدوار کے طور پر حصہ لیا جنہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT