Wednesday , November 21 2018
Home / Top Stories / عارضہ قلب سے متاثر مشرف ویڈیو لنک بیان ریکارڈ کروانے سے قاصر

عارضہ قلب سے متاثر مشرف ویڈیو لنک بیان ریکارڈ کروانے سے قاصر

l پاکستان کی خصوصی عدالت کے اعلیٰ سطحی عدالتی کمیشن کے قیام کی تجویز
l کمیشن کے ارکان بیان ریکاڈ کرنے دوبئی جائیں گے، تین رکنی بنچ کا فیصلہ

اسلام آباد ۔ 15 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کی ایک خصوصی عدالت نے پیر کے روز ایک اعلیٰ سطحی عدالتی کمیشن قائم کرنے کا حکم دیا ہے جو دوبئی میں موجود سابق فوجی حکمراں پرویز مشرف کا بیان ریکارڈ کرے گا۔ پرویز مشرف ملک سے غداری کے معاملہ میں پاکستان کو مطلوب ہیں اور سیکوریٹی کو وجہ بتا کر پاکستان نہ آنے سے انکار کرچکے ہیں۔ انہوں نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ بھی بات چیت کرنے سے انکار کردیا ہے۔ یاد رہیکہ 75 سالہ سابق حکمراں پرویز مشرف 2016ء سے دوبئی میں جلاوطنی کی زندگی گذار رہے ہیں۔ 2007ء میں ملک کے دستور کو معطل کردینے کی پاداش میں ان کے خلاف ملک سے غداری کا معاملہ درج کیا گیا تھا۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کیلئے انہیں سخت سزاء یعنی سزائے عمر قید یا سزائے موت بھی دی جاسکتی ہے۔ مشرف نے خرابی صحت کی بنیاد پر دوبئی کا رخ کیا تھا جہاں وہ اپنا علاج کروانا چاہتے تھے اور اس کے بعد سے وہ کبھی پاکستان نہیں آئے۔ جب ان سے پاکستان نہ آنے کے بارے میں استفسار کیا گیا تو انہوں نے سیکوریٹی اور خود اپنی خرابی صحت کی دہائی دے کر اپنے اس اقدام کو منصفانہ قرار دیا۔ مشرف کے وکیل نے جسٹس یاور علی، جسٹس طاہرہ صفدر اور جسٹس نظر اکبرکی قیادت والی بنچ کو بتایا کہ ان کے موکل (مشرف) ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ اپنا بیان ریکارڈ کروانے کے موقف میں نہیں ہیں۔ جسٹس علی نے اس موقع پر وکیل سے پوچھا کہ کیا مشرف کو کینسر کا عارضہ لاحق ہے؟ جس کا جواب دیتے ہوئے وکیل نے بتایا کہ مشرف عارضہ قلب میں مبتلاء ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مشرف کوئی بزدل شخص نہیں ہیں۔ وہ خود بھی یہی چاہتے ہیں کہ اپنی دفاع میں عدالت میں بہ نفس نفیس حاضر ہوکر اپنا بیان ریکارڈ کروائیں گے اور اپنے بے قصور ہونے کے ثبوت پیش کرنا چاہتے ہیں۔ اس وقت ان کے موکل چونکہ بیرون ملک قیام پذیر ہیں اور بے حد علیل ہیں لہٰذا ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ بھی بیان ریکارڈ نہیں کرواسکتے۔ جسٹس علی نے خاص طور پر اس نکتہ کو نوٹ کیا۔ دوسری طرف پراسیکیوشن کے وکیل نے بھی کہا کہ مشرف کا پچھلا ریکارڈ ہمارے سامنے ہے۔ وہ اپنا بیان ویڈیو لنک کے ذریعہ ریکارڈ کروانا نہیں چاہتے۔ بنچ نے کہا کہ ہمیں یہ بتایا گیا ہیکہ مشرف بیحد علیل ہیں اور غداری کے معاملہ میں اپنا بیان ویڈیو لنک کے ذریعہ ریکارڈ نہیں کرواسکتے۔ لہٰذا عدالت نے ایک اعلیٰ سطحی عدالتی کمیشن کے قیام کا حکم دیا ہے جس کے ارکان یو اے ای پہنچ کر مشرف کا بیان ریکارڈ کریں گے۔ بنچ نے مزید بتایا کہ اب تک مجوزہ کمیشن کے ارکان کے بارے میں کوئی قطعی فیصلہ نہیںکیا گیا ہے۔ اگر کسی کو کمیشن کے قیام پر اعتراض ہے تو وہ اسے چیلنج کرسکتے ہیں۔ عدالت نے اس معاملہ کی آئندہ سماعت 14 نومبر کو مقرر کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT