عازمین حج کا سمندری سفر ، ہندوستانی منصوبہ سے سعودی عرب کا اتفاق

مکہ معظمہ میں سعودی وزیر حج کے ساتھ معاہدہ پر دستخط کے بعد مختار عباس نقوی کا بیان
نئی دہلی ۔ 8 جنوری ۔(سیاست ڈاٹ کام) عازمین حج کو کم مصارف پر سفر کی سہولت فراہم کرنے کی کوششوں میں مرکز کیلئے راہ ہموار کرتے ہوئے سعودی عرب نے عازمین کو سمندری راستہ کے ذریعہ جدہ روانہ کرنے ہندوستان کے منصوبہ سے اتفاق کرلیا ۔ جس کے ساتھ ہی سمندری راستہ کے ذریعہ سفر حج کا طریقہ کار 23 سال کے وقفہ کے بعد دوبارہ شروع ہوجائے گا ۔ مرکزی وزیر اقلیتی اُمور مختار عباس نقوی نے گزشتہ روز مکہ معظمہ میں سفر حج سے متعلق ایک سمجھوتہ پر سعودی عرب کے وزیر اُمور حج و عمرہ محمد صالح بن طاہر بنتن کے ساتھ دستخط کے بعد جاری کردہ اپنے بیان میں اس خبر کی توثیق کی ۔ نقوی نے بنتن کے ساتھ اس اجلاس کو انتہائی ثمرآور قرار دیا اور کہاکہ دونوں ملکوں کے عہدیدار اس ضمن میں تکنیکی پہلوؤں پر تبادلہ خیال کریں گے تاکہ آنے والے سال میں سمندری راستہ سے سفر حج کا آغاز کیا جاسکے ۔ اس بیان میں نقوی کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ’’سعودی عرب نے سمندری راستہ سے عازمین کا سلسلہ بحال کرنے ہندوستان کے منصوبے سے اتفاق کرلیا ہے ۔ دونوں ملکوں کے عہدیدار تمام ضروری ضابطوں اور تکنیکی پہلوؤں پر تبادلۂ خیال کریں گے تاکہ عازمین حج آنے والے برسوں سے سمندری راستہ کے ذریعہ سفر شروع کرسکیں‘‘ ۔ تاہم انھوں نے یہ وضاحت نہیں کی کہ آیا کس سال سے سمندری راستہ کے ذریعہ سفر حج کا آغاز ہوگا ۔ تاہم فی الحال تمام ہندوستانی عازمین صرف ذریعہ طیارہ سعودی عرب کا سفر کرسکتے ہیں۔ نقوی نے کہا کہ ’’عازمین کو سمندری راستہ سے روانہ کرنا انقلابی ، غریب دوست اور عازمین دوست فیصلہ ہے جس سے سفر کے مصارف کم کرنے میں مدد ملے گی۔ مرکزی حکومت 2012 ء میں سپریم کورٹ کی طرف سے جاری کردہ ایک حکم کے مطابق سمندری راستہ سے سفر بحال کرنے کے امکانات پر غور کررہی تھی کیونکہ سپریم کورٹ نے ذریعہ طیارہ سفر کرنے والے عازمین حج کو دی جانے والی سبسیڈی کو 2022ء تک ختم کردینے کا حکم دیا تھا ۔ تاہم وزارتی ذرائع نے کہا ہے کہ ذریعہ طیارہ سفر کی استطاعت کے حامل عازمین کے لئے ہوائی سفر کی خدمات برقرار رہیں گی ۔ ہندوستان حج کوٹہ میں 1.70 لاکھ عازمین کی گنجائش ہے۔ 1995 ء میں سمندری راستہ بند کرنے سے قبل ممبئی مجگاؤں کی بندرگاہ سے سعودی عرب کے بندرگاہ جدہ پہونچنے کیلئے تقریباً 12 تا 15 دن کا سفر ہوا کرتا تھا ۔ نقوی نے کہا کہ تمام سہولتوں سے آراستہ عصری بحری جہاز ایک وقت میں 4000 تا 5000 افراد کو لیجاسکتے ہیں اور صرف تین تا چار دن میں ممبئی تا جدہ 2300 سمندری میل کے سفر کااحاطہ ہوسکتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT