Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / عازمین حج کو سفر کے دوران عجلت پسندی نہ کرنے کا مشورہ

عازمین حج کو سفر کے دوران عجلت پسندی نہ کرنے کا مشورہ

صبر و تحمل ضروری، عازمین حج کے تربیتی اجتماع سے پروفیسر ایس اے شکور و دیگر کا خطاب
حیدرآباد 30 اگسٹ (پریس نوٹ) تلنگانہ اسٹیٹ حج کمیٹی کے زیراہتمام عازمین حج کے لئے آخری تربیتی اجتماع آج محبوب فنکشن ہال مصری گنج میں مرکزی مجلس قادریہ و شاہ نگر ویلفیر سوسائٹی کے اشتراک سے منعقد کیا گیا جس میں عازمین حج کی کثیر تعداد شریک رہی۔ اسپیشل آفیسر تلنگانہ اسٹیٹ حج کمیٹی پروفیسر ایس اے شکور نے اپنی صدارتی تقریر میں عازمین سے خواہش کی کہ وہ جب سفر حج پر روانگی کے لئے حج ہاؤز تشریف لائیں تو اپنے ساتھ کسی کو نہ لائیں کیوں کہ ایک دن میں تین فلائٹس کی روانگی کے پیش نظر حج ہاؤز میں اس مرتبہ جگہ کی سخت تنگی ہے۔ انھوں نے عازمین کو ہدایت دی کہ وہ سفر حج کے دوران عجلت پسندی کا مظاہرہ نہ کریں بلکہ ہر مرحلہ پر صبر و تحمل، احتیاط و ڈسپلن کا مظاہرہ کریں۔ عازمین حج خوش نصیب ہیں کہ ایر انڈیا کے ذریعہ روانگی کے باعث ان کو 43 دن کے سفر کا موقع مل رہا ہے۔ یہ زندگی کے یادگار دن ہیں۔ ان سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے عبادات اور ذکر و اذکار، تلاوت کلام پاک میں وقت گزاریں، سیل فون پر نہ بات کریں اور نہ اپنی تصویر کھنچوائیں۔ آپ لوگ ایک فرض ادا کرنے جارہے ہیں۔ انھوں نے سفر حج سے متعلق اہم اُمور کی تفصیلی وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ حج کیمپ میں آمد کے بعد سے لے کر واپسی تک ساری ذمہ داری حکومت کی ہوتی ہے۔ عازمین کو کسی قسم کی تکلیف نہیں ہوگی، کسی دشواری کی صورت میں وہ حج کمیٹی یا انڈین مشن سے ربط پیدا کرسکتے ہیں۔ پروفیسر ایس اے شکور نے کہاکہ حج کیمپ میں پرنسیس اسریٰ ہاسپٹل کی جانب سے دس بستروں کا کیمپ لگایا جاتا ہے۔ بعض عازمین بے احتیاطی کی وجہ سے اپنی طبیعت خراب کرلیتے ہیں اور ان کو اس دواخانہ میں شریک کرلیا جاتا ہے، عازمین ایسی نوبت نہ آنے دیں۔ کل یعنی 31 اگسٹ سے عازمین حج کی آمد شروع ہوگی اور جن عازمین نے ویکسی نیشن نہیں لیا ہے ان کے لئے حج کیمپ میں ویکسی نیشن کا انتظام کیا جارہا ہے۔ عازمین حج کو ان کے پاسپورٹ کے ساتھ اسٹیکرز بھی دیئے جائیں گے۔ تلنگانہ اسٹیٹ حج کمیٹی کی جانب سے بھی علیحدہ اسٹیکرز دیئے جائیں گے جن پر ہندوستان کا پرچم اور حیدرآباد امبارکیشن پوائنٹ درج ہوگا تاکہ عازمین کو اپنے لگیج کی شناخت میں آسانی ہوسکے۔ اس سال عازمین حج کو اپنے ساتھ 25,000 روپئے لے جانے کی اجازت ہوگی۔ مولانا سید محمد علی قادری الہاشمی ممشاد پاشاہ صدر مرکزی مجلس قادریہ نے کہاکہ حج بیت اللہ میں عازم اپنے خالق و مالک کی راہ میں اپنی محبوب ترین چیزیں والہانہ قربان کردینے کے عزم اور جذبہ سے سرشار ہوتا ہے اور یہ دیگر عبادات یعنی نماز، روزہ اور زکوٰہ سے مختلف اور منفرد عبادت ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ حج کرنا ہر ایک مسلمان پر فرض نہیں ہے۔ اللہ نے اس فریضہ کے ادا کرنے میں کئی آسانیاں رکھی ہیں۔ دوسرا یہ کہ اہل ایمان اگر زندگی میں ایک دفعہ حج کا فریضہ ادا کرلے تو اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمالیتا ہے۔  مولانا ڈاکٹر سید فاروق محی الدین نائب مفتی دارالافتاء المھد نے ادائیگی حج کا تفصیل کے ساتھ طریقہ بتاتے ہوئے کہاکہ حج اس مسلمان پر فرض ہے جوکہ آزاد ہو، مکلف ہو یعنی عاقل و بالغ ہو، صحیح ہو، قیدی نہ ہو، راستہ پرامن ہو، اتنی مقدار میں مال ہو کہ اس کے اہل و عیال کا خرچ اور آمد و رفت کا خرچ پورا ہوسکے۔  مہمان خصوصی کی حیثیت سے مولانا سید شاہ عبدالمجید قادری الموسوی نبیرہ حضرت وحیدالعصر علیہ الرحمہ حال مقیم جدہ، مولانا سید بندگی بادشاہ قادری، جناب سید مسعود صوفی، جناب صوفی احتشام علی شاکر نے شرکت کی۔ حافظ محمد احمد محی الدین کامل افتخاری نے قرأت کلام پاک کی۔ قاری راشد عبدالرزاق الشاذلی، جناب شفیع قادری اور قاری فرحت اللہ شریف نے نعت پیش کی۔

TOPPOPULARRECENT