Thursday , November 23 2017
Home / شہر کی خبریں / عازمین حج کو 3 گھنٹے طویل انتظار کرنا پڑا

عازمین حج کو 3 گھنٹے طویل انتظار کرنا پڑا

ٹیکہ اندازی کیمپ میں تاخیر ، اقلیتی بہبود اسکیمات کے استفادہ کنندگان میں چیک اور سلائی مشینوں کی تقسیم
حیدرآباد۔/8 جولائی، ( سیاست نیوز) عازمین حج کو اللہ کا مہمان کہا جاتا ہے لیکن آج ان مہمانوں کی حکومت کے ذمہ داروں اور سرکاری عہدیداروں نے کوئی قدر نہیں کی۔ حیدرآباد اور رنگاریڈی کے عازمین حج جن میں ضعیف العمر اور خواتین کی کثیر تعداد تھی آج انہیں اس وقت طویل انتظار کی زحمت سے گذرنا پڑا جب ٹیکہ اندازی کیمپ کی تقریب مقررہ وقت سے تقریباً 3 گھنٹے تاخیر سے شروع ہوئی۔ دونوں اضلاع کے تقریباً 800 عازمین کو ٹیکہ اندازی کیلئے حج ہاوز طلب کیا گیا تھا اور تقریب کا وقت 1:30 بجے دن مقرر تھا۔ عازمین حج تقریباً 12:30 اور ایک بجے دن سے حج ہاوز پہنچنا شروع ہوچکے تھے انہیں ابتداء میں بتایا گیا کہ تقریب کسی قدر تاخیر سے شروع ہوگی لیکن اس کے بعد مرکزی وزیر مختار عباس نقوی کی آمد میں تاخیر کے سبب ٹیکہ اندازی کا کام شروع نہیں کیا گیا۔ عازمین حج کا مطالبہ تھا کہ کم سے کم ٹیکہ اندازی کا کام شروع کردیا جائے اور مختار عباس نقوی پہنچنے کے بعد رسمی طور پر اس کا آغاز کیا جاسکتا ہے لیکن عہدیدار اس کے لئے تیار نہیں تھے۔ ضعیف العمر افراد اور خواتین کو 4 بجے تک انتظار کرنا پڑا اور تقریب کے آغاز کے بعد بھی اقلیتی بہبود کی مختلف اسکیمات کے استفادہ کنندگان میں چیک اور سیونگ مشین کی تقسیم عمل میں آئی۔ شادی مبارک کے 5 استفادہ کنندگان کو چیک حوالے کئے گئے جبکہ 5 خواتین میں اقلیتی فینانس کارپوریشن سے سیونگ مشین کی تقسیم عمل میں آئی۔ اس طرح ٹیکہ اندازی کی اس تقریب کو اقلیتی بہبود کی عام تقریب میں تبدیل کردیا گیا۔ اس طرح عازمین حج کے صبر کا امتحان لیا گیا۔ اس قدر تاخیر اور عازمین حج کی بے چینی کو دیکھتے ہوئے سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے پروگرام کو انتہائی مختصر کردیا اور مختلف افراد کی فرمائش کے باوجود انہیں تقریر کی اجازت نہیں دی۔ ایک مرحلہ پر پروگرام مختصر کرنے کیلئے سید عمر جلیل کسی قدر برہم ہوگئے۔ پروگرام میں تاخیر کو دیکھتے ہوئے مرکزی وزیر بنڈارودتاتریہ اور وزیر داخلہ این نرسمہا ریڈی نے نام کے اعلان کے باوجود تقریر سے گریز کیا۔ اسپیشل آفیسر تلنگانہ حج کمیٹی پروفیسر ایس اے شکور نے بھی خیرمقدمی تقریر نہیں کی۔ تقریب میں عہدیداروں کے درمیان تال میل کی کمی دیکھی گئی اور مرکزی وزیر کی گلپوشی اور شال پوشی کیلئے عوامی نمائندے اور ٹی آر ایس قائدین ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کررہے تھے ان پر قابو پانے عہدیداروں کو کافی دشواری ہوئی۔ رکن اسمبلی نامپلی، ڈپٹی چیف منسٹر اور مرکزی وزیر کی تقاریر کے بعد 4:30 بجے سے ٹیکہ اندازی کا آغاز ہوا جس کا سلسلہ شام تک جاری رہا۔ اس طرح اللہ کے مہمان ٹیکہ لینے کیلئے صبح سے شام تک اپنا وقت حج ہاوز میں گذارنے پر مجبور ہوگئے۔

TOPPOPULARRECENT