Monday , December 11 2017
Home / مضامین / عازمین حج کی سبسیڈی

عازمین حج کی سبسیڈی

ڈاکٹر عبدالخلیل کشش
رکن پارلیمان جناب الحاج اسدالدین اویسی نے اپنے ٹوئیٹر پر یہ تجویز پیش کی تھی کہ حکومت عازمین حج کو دی جانے والی 690 کروڑ کی سبسیڈی کوختم کردے۔ اس کے بعد سے بہت سے قارئین کے مراسلے نظر سے گزرے جنہوں نے عازمین حج کو سبسیڈی برخاستگی سے متعلق دستبرداری اختیار نہ کرنے کیلئے مرکزی حکومت پر زور دیا ہے ۔ واضح ہو کہ ہندوستانی عازمین حج کی تعداد میں ہر سال اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ مرکزی حج کمیٹی کے توسط سے جو عازمین روانہ ہوتے ہیں کم و بیش اتنی ہی تعداد میں عازمین خانگی ذرائع سے جاتے ہیں۔ ہندوستان سے ابتداء میں بحری جہازوں سے عازمین روانہ ہوتے تھے ۔ رفتہ رفتہ یہ طریقہ ختم ہوگیا۔ جہاز نہیں مل رہے تھے اور بحری سفر طویل بھی ہوتا تھا حکومت ہند نے اس وقت یہ طئے کیا تھا کہ اگر بحری جہازوں سے سفر طئے کیا جائے تو حکومت فضائی سفر کے اخراجات میں مدد کرے گی ۔ واضح ہو کہ حج سبسیڈی کی شروعات 1970 ء کے ابتدائی دہے میں ہوئی تھی کیونکہ جب تیل کا بحران پیدا ہوا تھا اور مغل لائین کو برابر گھاٹا ہورہا تھا ۔ مغل لائین شپنگ کارپوریشن آف انڈیا ، کمپنی کی ذیلی کمیٹی تھی ۔ جس نے ابتداء چار جہازوں کے ذریعہ حج سرویس شروع کی تھی کیونکہ فضائی سفر کے اخراجات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ اس کے تحت شریمتی اندرا گاندھی کے وفد میں عازمین حج کیلئے سبسیڈی کا قانون بنایا گیا ۔ حج سبسیڈی کی برخواستگی کا مسئلہ رسمی طور پر 1990 ء کے دہے میں تقریباً ہر سال اٹھتا رہا ہے ۔ حج سبسیڈی کو کم کرنے اور انجام کار اسے ختم کرنے کا فیصلہ متفقہ طور پر کئی سال قبل ہی کیا گیا تھا لیکن کانگریس کے مسلم قائدین کے اصرار کی وجہ سے یہ تجویز واپس لی گئی ۔ اس کے بعد مرکز میں بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے کا قیام عمل میں آیا تھا ، اس سال سے ہر سال مسلسل یہ کوشش ہورہی ہے کہ عازمین حج کی سبسیڈی میں کمی کی جائے یا اسے بالکل ختم کردیا جا ئے ۔ سال 1999 ء میں جب وزارت خارجہ کی پارلیمانی کمیٹی میں یہ مسئلہ زیر بحث آیا تو یہ سمجھا جارہا تھا کہ سبسیڈی برخاست کردی جائے گی ۔ تاہم اس وقت مسلم ارکان پارلیمنٹ اور کئی ریاستوں کے مسلم قائدین بشمول روشن بیگ نے اس وقت کے مملکتی وزیر خارجہ وسندھرا راج سندھیا پر اپنا اثر و رسوخ ا ستعمال کیا اور غلام نبی آزاد جو کانگریس میں وزیر شہری ہوا بازی تھے اور جن کی کوششوں سے مختلف ریاستوں سے براہ راست جدہ پروازوں کا آ غاز ہوا تھا۔ اس سلسلے میں خصوصی دلچسپی لی اور بالآخر حکومت نے سبسیڈی واپس لینے کی تجویز بالائے طاق رکھ دی تھی ۔ مگر شاید یہ مسئلہ ختم نہیں ہوا تھا اور بی جے پی کے کٹر حلقوں میں بے چینی ہورہی تھی ۔ سال گزشتہ بھی یہ مسئلہ ا ٹھایا گیا تھا اور پھر امسال یہ مسئلہ ا ٹھایا گیا اور اب تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت نے سبسیڈی ختم کرنے کی ٹھان لی ہے اور صد افسوس اس بات کا کہ معزز رکن پارلیمنٹ حیدرآباد جناب اسد الدین اویسی بھی اس کی تائید کر رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ عازمین حج سے کرایہ کے نام پر صرف 12 ہزار روپئے لئے جاتے ہیں اور 1984 ء سے یہ مسلسل جاری ہے ۔ اس کے برعکس سبسیڈی میں ہر سال اضافہ ہورہا ہے اور حکومت کی طرف سے فی کس 35 ہزار روپئے ادا کئے جاتے ہیں ۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اخراجات میں اصلاحات سے متعلق کمیشن نے سبسیڈی کو مرحلہ وار ختم کرنے کی سفارش کی ہے ۔ اصلاحات کمیشن نے اور بھی کئی محکموں اور وزارتوں میں خرچ کم کرنے کی سفارش کی ہے ۔ لیکن آج تک کسی وزارت میں اس پر عمل نہیں کیا گیا ۔ غیر ضروری ہزاروں کا اسٹاف وزارت میں ہے ۔ ان کی تخفیف کی کمیشن نے چند سال قبل سفارش کی تھی ۔ وزارت شہری ہوا بازی کے مطابق ایر انڈیا اور انڈین ایرلائینس میں ملازمین کی جملہ تعداد 21000 ہے اور 60 طلباء پرواز کرتے ہیں ۔ اخراجات کی اصلاحات کے کمیشن نے کم سے کم 7 ہزار ملازمین کی تخفیف کی سفارش کی تھی لیکن پارلیمنٹ میں متعلقہ وزیر نے اعلان کیا تھا کہ ان کی تخفیف عمل میں نہیں آئے گی۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جب دوسری فضول خرچیوں اور غیر ضروری مصارف کو کم کرنے کیلئے کمیشن کی سفارشات تسلیم نہیں کی جاتی تو عازمین حج کی سبسیڈی ختم کرنے سفارش پر فوری عمل کرنے کیلئے حکومت کیوں بے چین ہیں۔
سابقہ وزیر شہری ہوا بازی سید شاہنواز حسین نے اس دور میں ایک اچھا قدم یہ اُٹھایا تھا کہ انہوں نے مسلم ارکان پارلیمنٹ کی میٹنگ طلب کی تھی اوران کے خیالات معلوم کئے تھے ۔ اس اجلاس میں تمام باتوں کا احاطہ کیا گیا تھا اور مسلم قائدین نے اس مسئلہ پر اپنی رائے دی تھی ۔ جناب کے ایم خان مرحوم (ایم پی) نے اس اجلاس میں کہا تھا کہ کانگریس حکومت نے اس یقین دہانی کے بعد بحری جہازوں سے روانگی کا سلسلہ ختم کیا تھا کہ وہ کرائے کے تفاوت کو مرکزی حکومت کی سبسیڈی سے پورا کرے گی اور عازمین حج پر اس کا بوجھ نہیں ڈالا جائے گا ۔
ویسے بھی حکومت کو جو اخراجات ہوتے ہیں وہ اتنے زیادہ بھی نہیں ہیں کیونکہ حکومت چارٹرڈ طیاروں کا انتظام کرتی ہے اور عاززین کی کثیر تعداد کے پیش نظر ہوائی ٹکٹ رعایت کے زمرہ میں آجاتا ہے اور ایرلائینس کمپنیوں کی جانب سے جو رعایتی پیکج بنائے جاتے ہیں ، یہ انہیں کا حصہ ہوجاتا ہے ۔ اس طرح یہ سفر مرکزی امداد کا مرہون منت نہیں رہ جاتا بلکہ یہ فضائی سفر ’’رعایتی پیکیج‘‘ کے مماثل ہوجاتا ہے ۔ بہرحال حکومت کی سبسیڈی سے انکار بھی نہیں کیا جاسکتا لیکن یہ غلط ہے کہ اس سے حکومت پر کوئی زائد ما لیاتی بوجھ عائد ہورہا ہے ۔ حکومت مذہبی امور ، تقاریب اور دیگر سرگرمیوں کے علاوہ سماجی، تہذیبی و ثقافتی اور ادبی سرگرمیوں لئے جو امداد دیتی ہے اس کا مقصد حکومت کی جانب سے اظہار یگانگت ہوتا ہے ۔ یہ حکومت کے فرائض  میں داخل ہے کہ وہ اپنے عوام اور خاص طور پر اقلیتوں کی فلاح و بہبود اور ان کی امداد میں اپنا حصہ ادا کرے۔ ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ان کی کوششوںکو بی جے پی کے خفیہ ایجنڈہ کا حصہ قرار دیا۔ 1.70 لاکھ عازمین کو صرف 690 کروڑ روپئے سبسیڈی فراہم کر رہی ہے ، وہ برائے نام ہے۔ ملک کے مسلمان یوں تو ہر سال کی ہزار کروڑ روپئے انکم ٹیکس کی صورت میں حکومت کو ادا کر رہے ہیں۔ ہندوؤں  کے کمبھ میلوں ، یاتراؤں اور تہواروں پر مر کزی اور ریاستی حکومت کی جانب سے کروڑ ہا روپئے خرچ کئے جاتے ہیں۔ حکومت عازمین کو جو بھی سبیڈی دے رہی ہے ، وہ حکومت کا کوئی ا حسان نہیں بلکہ مسلمانوں کا حق ہے۔ عازمین حج کو سبسیڈی کی برخاستگی سے متعلق مرکزی حکومت کا فیصلہ 50 برس سے جاری ایک روایت کا خاتم ہے اور دوسری طرف مسلم اقلیت کے تئیں حکومت کی ذمہ داریوں سے انحراف ہے ۔ اس خصوص میں مسلمانوں کے سنجیدہ غیر جانبدار طبقوں ، علماء و مشائخین اور صائب الرائے اصحاب اور مسلم ارکان پارلیمنٹ سے  گزارش ہے کہ وہ مر کزی حکومت کی جانب سے حج سبسیڈی کی برخاستگی کے غیر دانشمندانہ فیصلہ کے خلاف آواز اٹھائیں اور بقول ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی صاحب سبسیڈی کی موجودہ رقم (690) کروڑ روپئے سے بڑھاکر 1000 کر وڑ روپئے کرنے کی اپیل کریں۔
چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر چندر شیکھر راؤ سے گزارش ہے کہ وہ مسلمانوں میں پھیلی اس  بے چینی کے سدباب کیلئے مرکزی حکومت پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کرے۔ امید کہ اس پر عمل ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT