Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / عازمین کے رباط میں قیام پر قرعہ اندازی کا معاملہ تعطل کا شکار

عازمین کے رباط میں قیام پر قرعہ اندازی کا معاملہ تعطل کا شکار

نظام ٹرسٹ اور ناظر رباط کے درمیان تنازعہ ، محمد محمود علی اور سید عمر جلیل کی مسئلہ کو حل کرنے کی مساعی
حیدرآباد۔ 8مئی (سیاست نیوز) حج 2017ء میں حیدرآبادی رباط کے قیام کے سلسلہ میں قرعہ اندازی کا معاملہ تعطل کا شکار ہوگیا ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی ، سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نظام ٹرسٹ اور ناظر رباط کے درمیان تنازعہ کی یکسوئی کی کوشش کررہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ نظام ٹرسٹ نے بعض شرائط پیش کرتے ہوئے 13 مئی کو قرعہ اندازی کی مقررہ تاریخ میں توسیع کی خواہش کی جبکہ ناظر رباط کی شرائط کو قبول کرنے تیار نہیں۔ اس طرح عزیزیہ زمرے کے عازمین میں سے رباط میں قیام کرنے والے خوش نصیبوں کے انتخاب کا معاملہ تاخیر اختیار کرسکتا ہے۔ ابتداء میں 13 مئی کو قرعہ اندازی کا فیصلہ کیا گیا تھا اور بتایا جاتا ہے کہ نظام ٹرسٹ کے حکام نے بھی اس تاریخ سے اتفاق کیا۔ بعد میں نظام ٹرسٹ کی جانب سے ناظر رباط کو تصریح پیش کرنے کی خواہش کی گئی۔ اس کے علاوہ نظام ٹرسٹ چاہتا ہے کہ ناظر رباط ان سے معاہدہ کرے جس کے تحت ٹرسٹ کی جانب سے جاری کئے جانے والے پرمٹ لیٹرس کو قبول کرنے کا تیقن دیا جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ ٹرسٹ نے سابق ریاست حیدرآباد کے تمام اضلاع کے درخواست گزاروں میں سے قرعہ اندازی کے بجائے درخواستیں طلب کرنے کی شرط رکھی جو ناظر رباط اور تلنگانہ حکومت دونوں کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اگر کوئی منتخب عازم رباط میں قیام میں دلچسپی نہ رکھتے ہوں تو ان کی جگہ ویٹنگ لسٹ کے عازمین کا انتخاب کرلیا جائے گا۔ تلنگانہ، مہاراشٹرا اور کرناٹک کے 42 اضلاع سے تعلق رکھنے والے عزیزیہ زمرے کے عازمین سے درخواستیں طلب کرنا آسان نہیں ہے۔ نظام حیدرآباد کی جانب سے رباط کے قیام کا مقصد اپنی ریاست کے عازمین کو سہولت فراہم کرنا تھا اور حکومت شفاف طریقے سے قرعہ اندازی کے ذریعہ منشا وقف کی تکمیل کررہی ہے۔ ایسے میں نظام ٹرسٹ کی جانب سے شرائط کی پیشکشی مسائل میں اضافہ کا سبب بن سکتی ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ عازمین حج کی جانب سے دوسری قسط کی ادائیگی سے قبل ہی قرعہ اندازی مکمل کرلی جائے تاکہ وہ رباط کی رقم منہا کرتے ہوئے باقی رقم ادا کرسکیں۔ دوسری قسط ادا کرنے کی صورت میں رباط کے منتخب عازمین کو رقم کی واپسی میں چھ ماہ لگ جاتے ہیں۔ سنٹرل حج کمیٹی میں بھی 13 مئی کو قرعہ اندازی کے لیے سافٹ ویر فراہم کرنے سے اتفاق کیا تھا۔ دیکھنا یہ ہے کہ حکومت کس طرح اس تنازعہ کی یکسوئی کر پائے گی۔ ناظر رباط حسین محمد الشریف کا کہنا ہے کہ رباط کے سلسلہ میں نظام ٹرسٹ کا کوئی رول نہیں ہے صرف انہیں قرعہ اندازی کی تفصیلات سے باخبر رکھا جارہا ہے۔ واضح رہے کہ ناظر رباط نے جاریہ سال 1283 عازمین حج کو رباط میں قیام کی سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ گزشتہ سال یہ تعداد 678 تھی۔ انہوں نے تین عمارتیں حاصل کرلی ہیں۔ کرناٹک، مہاراشٹرا اور تلنگانہ کے 5251 عزیزیہ زمرے کے عازمین کی قرعہ اندازی کرتے ہوئے 1283 کا انتخاب کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ 200 عازمین پر مشتمل ویٹنگ لسٹ کی تیاری کا بھی منصوبہ ہے۔ نظام دکن نواب میر عثمان علی خان کے منشا وقف کے مطابق ریاست حیدرآباد کے تمام اضلاع کے عازمین کو یہ سہولت حاصل ہونی چاہئے۔ تلنگانہ 32 اضلاع کے علاوہ مہاراشٹرا کے 8 اور کرناٹک کے 4 اضلاع کے عزیزیہ زمرے کے عازمین کے کور نمبرس تلنگانہ حج کمیٹی نے حاصل کرلیئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT