Sunday , December 17 2017
Home / مذہبی صفحہ / عاقل و بالغ عاقدین کے نکاح کا حکم

عاقل و بالغ عاقدین کے نکاح کا حکم

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بکر عاقل و بالغ نے ہندہ عاقلہ و بالغہ سے روبرو گواہان ایجاب و قبو ل کے ذریعہ نکاح کیا۔
اب ہندہ کے والدین ہندہ کی دوسری جگہ شادی کرنا چاہتے ہیں۔ شرعاً کیا حکم ہے  ؟
جواب :  شرعا ًعاقل و بالغ عاقدین دو مرد یا ایک مرد دو عورتوں کے روبرو ایجاب و قبول کرلیں تو نکاح منعقد ہوجاتا ہے۔ فتاوی عالمگیری جلد اول کتاب النکاح میں ہے :  وأما رکنہ فالایجاب والقبول … وأما شروطہ فمنھا العقل والبلوغ والحریۃ … ومنھا الشھادۃ … و بشرط العدد فلا ینعقد بشاھد واحد ھکذا فی البدائع ولا یشترط وصف الذکورۃ حتی ینعقد بحضور رجل وامرأتین کذا فی الھدایۃ ۔
پس صورت مسئول عنہا میں بکر اور ہندہ دوعاقل و بالغ عاقدین نے ایک ہی مجلس میں دو عاقل و بالغ گواہوں کے روبرو الفاظ ایجاب و قبول ادا کئے تو اس سے شرعا نکاح منعقد ہوگیا اور دونوں کے درمیان رشتۂ زوجیت قائم ہوگیا۔ بکر اور ہندہ آپس میں میاں بیوی ہیں۔ اب ہندہ کے والدین بکر کی منکوحہ ہندہ کا عقد دوسری جگہ نہیں کرسکتے۔
مالک کو ہر طرح کے تصرف کا حق ہے
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کی چار ایکر اراضی ہے، جسکو وہ فروخت کرنا چاہتے ہیں، انکا بڑا لڑکا اس جائداد کو فروخت کرنے سے روک رہا ہے۔
جبکہ زید کو ایک لڑکا اور سات لڑکیاں ہیں۔
ایسی صورت میں زید کے بڑے لڑکے کا یہ عمل کیسا ہے  ؟
جواب :  صورت مسئول عنہا میں زید کو انکی ملکیت (چارایکر اراضی) میں مکمل تصرف کا حق ہے۔ وہ جو چاہے کرسکتے ہیں۔ ہدایہ جلد ۳ ص ۳۶ کے حاشیہ میں ہے  :  لأن المالک یتصرف فی ملکہ کیف شاء ۔
اگر وہ اپنی ملکیت فروخت کرنا چاہتے ہیں تو ان کو اسکا اختیار ہے، ان کی حینِ حیات انکی ملکیت میں کسی بھی لڑکے یا لڑکی کا کوئی حق و حصہ نہیں ، لہذا زید کو انکی ملکیت فروخت کرنے سے انکے بڑے لڑکے کا روکنا درست نہیں۔
اخلاقی دباؤ پر درخواستِ خلع کی منظوری
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے اپنے شوہر عُمر سے خلع طلب کی اور خلعنامہ شوہر کے پاس بھیجا۔ عُمر نے خلعنامہ پر اس تحریر کے ساتھ کہ ’’میری بیوی کے گھر والوں کے دباؤ میں دستخط کررہا ہوں‘‘ دستخط کی۔
ایسی صورت میں شرعا کیا حکم ہے  ؟
جواب :  بشرط صحت سوال صورت مسئول عنہا میں اگر عُمر اخلاقی دباؤ پر خلعنامہ قبول کیا ہے توبیوی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوکر جدائی ہوگئی، اور قبولیت خُلع کی تاریخ سے عدت کا شمار ہوگا۔ فتاوی عالمگیری جلد اول کتاب الخلع میں ہے  :  وحکمہ وقوع الطلاق البائن کذا فی التبیین۔  اور کتاب الطلاق ص ۳۴۸ میں ہے :  وأما حکمہ فوقوع الفرقۃ بانقضاء العدۃ فی الرجعی و بدونہ فی البائن کذا فی فتح القدیر۔
فقط واﷲ أعلم

TOPPOPULARRECENT