Wednesday , November 22 2017
Home / شہر کی خبریں / عالمی امن کے لیے ہندوستان کی مساعی ناقابل فراموش

عالمی امن کے لیے ہندوستان کی مساعی ناقابل فراموش

دہشت گردی سے نمٹنے مکمل تعاون کرنے صدر صومالیہ حسن شیخ محمد کا اعلان، دہلی میں پریس کانفرنس سے خطاب
محمد نعیم وجاہت
صدر صومالیہ حسن شیخ محمد نے عالمی امن اور دہشت گردی سے نمٹنے کے معاملے میں ہندوستان سے مکمل تعاون کرنے کا اعلان کیا ہے ،’’عالمی امن و انصاف اور دہشت گردی سے مقابلہ ‘‘ کے عنوان پر دہلی کے ہوٹل تاج پیالیس میں منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ اس موقع پر مرکزی وزیر لیبر مسٹر بنڈارو دتاتریہ ، سابق مرکزی وزیر مسٹر کے رحمن خان ، سی پی ایم کے رکن پارلیمنٹ مسٹر محمد سلیم ، تلنگانہ کے وزیر داخلہ مسٹر این نرسمہا ریڈی ، قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل مسٹر محمد علی شبیر ، مسٹر عامر علی خان نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست کے علاوہ دوسرے موجود تھے ۔ صدر انڈیا عرب فرینڈشپ فاؤنڈیشن مسٹر محمد شبیر حسین ( جابر پٹیل) نے کانفرنس کی صدارت کی ۔ صدر صومالیہ حسن شیخ محمد نے کہاکہ عالمی امن کیلئے ہندوستان کی مساعی ناقابل فراموش ہے ۔ دہشت گردی انسانیت کیلئے خطرہ ہے اس سے نمٹنے کیلئے ہندوستان کی جدوجہد کی صومالیہ پوری طرح تائید کرتا ہے اور اس کیلئے اپنا تعاون پیش کرے گا ۔ انھوں نے کہاکہ سماجی ، سیاسی اور معاشی ناانصافیوں کے سبب دہشت گردی فروغ پاتی ہے۔ صومالیہ کی صد فیصد آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے ۔ 1991 ء کے دوران صومالیہ میں خانہ جنگی سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا تھا لیکن اب حالت کافی مستحکم ہیں۔ سب سے انصاف کیا جارہاہے اور صومالیہ بڑی تیزی سے ترقی کررہا ہے ۔صومالیہ میں امن اور انصاف کو اولین ترجیح دی جارہی ہے ۔انھوں نے کہاکہ دہشت گرد کی کوئی شہریت اور دہشت گردی کے کوئی حدود نہیں ہوتے اور نہ ہی کسی مذہب سے اسکا تعلق ہے ۔ عالمی امن اور دہشت گردی سے نمٹنے میں صومالیہ ہندوستان کے ساتھ مکمل تعاون و اشتراک کرے گا ۔ مرکزی وزیر مسٹر بنڈارو دتاتریہ نے کہاکہ امن کے بغیر ترقی ممکن نہیں ہے ۔ دہشت گردی کا کسی ملک یا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا تمام اقسام کی دہشت گردی کا ڈٹ کر مقابلہ وقت کا تقاضہ ہے ۔ ہندو اور مسلمان ہندوستان کی دو آنکھیں ہیں ۔ ابتداء سے ہندوستان کے خلیجی مالک سے خوشگوار تعلقات برقرار رہے ہیں ۔ ہندوستان فلطسین کاز کی مکمل تائید و حمایت کرتا ہے ۔ پڑوسی ملک پاکستان ہندوستان میں دراندازی کررہا ہے ۔ جس دہشت گردی کی پاکستان نے حوصلہ افزائی کی تھی وہی دہشت گردی پاکستان کی دشمن بن گئی ہے ۔ سابق مرکزی وزیر وکانگریس کے رکن راجیہ سبھا مسٹر کے رحمن خان نے کہاکہ دہشت گردی کیا ہے اور کس طرح اس کا وجود ہوا اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ تباہی اور بربادی اور معصوم افراد کی زندگیاں ضائع ہونے کے بعد ٹونی بلیر کاعراق پر حملے کی غلطی کا اعتراف کرنا مضحکہ خیز ہے ۔ انھوں نے کہا کہ روس سے بدلہ لینے کیلئے امریکہ نے طالبان کو پیدا کیا۔ اگر کوئی سزاء کا مستحق ہے تو سب سے پہلے دہشت گردی کی بنیاد ڈالنے والے ممالک کو سزاء دی جانی چاہئے ۔ یہی نہیں شیعہ سنی کے مسئلہ کو ہوا دیتے ہوئے مسائل کو جنم دیا جارہا ہے ۔ عالمی سطح پر اپنی اپنی طاقت میں اضافہ کرنے کیلئے مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ جب ناانصافیاں ، حق تلفیاں حد سے زیادہ بڑھ جاتی ہیں تو بغاوت پیدا ہوتی ہے ۔ مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی کی جارہی ہے ، جلد از جلد اس کا خاتمہ ہونا چاہئے۔ سی پی ایم کے رکن پارلیمنٹ مسٹر محمد سلیم نے دہشت گردی اور جنگ دونوں کو امن و امان کا دشمن قرار دیتے ہوئے کہا کہ عراق پر ظلم و زیادتی اور بڑے پیمانے پر جانی مالی نقصان کرنے کے بعد غلطی کا اعتراف کیا جارہاہے ۔ مسلمانوں سے مسلسل ناانصافیاں کی جارہی ہے ۔ ان پر مظالم ڈھائے جارہے ہیں اور اسلام کو دہشت گردی سے جوڑا جارہا ہے ۔ سماجی ، معاشی انصاف کے بغیر امن کی توقع رکھنا غلط ہے ۔ حکمرانوں کو چاہئے کہ وہ جانبداری کی پالیسی سے باز آجائے اور مساوات کے درس پر عمل کریں تب ہی امن اور ترقی ممکن ہے ۔ نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست مسٹر عامر علی خان نے کہاکہ عالمی سطح پر اسلام کو دہشت گردی سے جوڑتے ہوئے دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف غلط پیغام پہونچایا جارہا ہے جبکہ اسلام کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی اسلام تشدد کی اجازت دیتا ہے۔ عام طورپر یہ تاثر پھیلایا جارہاہے کہ سارے مسلمان دہشت گرد نہیں ہیں اور جتنے بھی دہشت گرد ہیں سارے مسلمان ہے ۔ عالمی پس منظر کا جائزہ لیا جائے تو تمام مذاہب کے مٹھی بھر عناصر تشدد میں ملوث ہیں مگر دوسرے مذاہب کے عناصرکو فراموش کرتے ہوئے صرف مسلمانوں کو مورد الزام ٹھہرایا جارہاہے ۔ مسلمان امن پسند شہری ہے مگر یہ بھی صحیح ہیکہ ہندوستان کے بشمول ساری دنیا سے مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے ، ان کے حقوق سلب کئے جارہے ہیں ، اس پر بھی سنجیدگی سے غور کرنے اور تمام نااانصافیوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے ۔ وہ جابر پٹیل کو مبارکباد دیتے ہیںکہ انھوں نے اہم موضوع پر کانفرنس کا اہتمام کیا ہے ۔ہم  اُمید کرتے ہیں کہ یہ کانفرنس ناانصافیوں اور دہشت گردی کا خاتمہ کرنے میں معاون و مددگار ثابت ہوگی ۔ قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل مسٹر محمد علی شبیر نے کہاکہ دہشت گردی کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا جتنی مسلم دہشت گردی کی مخالفت کی جاتی ہے اُتنی ہی شدت سے ہندو دہشت گردی کی بھی مذمت ہونی چاہئے ۔ امن پر ہندوستان کی بنیاد رکھی گئی ہے ۔ چند عناصر اپنی ذاتی اور سیاسی مقاصد کی تکمیل کیلئے ہندوؤں اور مسلمانوں میں تفرقہ پیدا کررہے ہیں ۔ وہ قلمکاروں ، ادیبوں کے جذبہ کو سلام کرتے ہیں جنھوں نے ساہتیہ اکیڈیمی ایوارڈس کے علاوہ دوسرے ایوارڈس واپس کرتے ہوئے سیکولرازم کے پرچم کو بلند کیا ہے ۔انھو نے بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ کا نام لیئے بغیر کہاکہ بہار کے انتخابی مہم کے دوران بی جے پی کی شکست پر پاکستان میں آتش بازی کرنے کا ریمارکس کرتے ہوئے ملک کے عوام کو گمراہ کیاجارہا ہے ۔انھوں نے کہاکہ جابر پٹیل نے دہلی میں کانفرنس کااہتمام کرتے ہوئے امن کی شمع کو روشن کیا ہے جو سارے عالم میں امن کی روشنی پھیلائے گی ۔ تلنگانہ کے وزیر داخلہ مسٹر این نرسمہا ریڈی نے کہاکہ امن و انصاف کے بغیر ترقی کی سوچ ادھوری ہے ۔ بڑے ممالک اپنی طاقت میں اضافہ کرنے کیلئے چھوٹے ممالک پر حملے کررہے ہیں ۔ ساری دنیا میں کئی ممالک کو دہشت گردی کا سامنا ہے ۔ دہشت گردی سماج کیلئے ناسور ہے ۔ دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے مزید سخت قوانین بنانے کی ضرورت ہے۔صدر انڈیا عرب فرینڈشپ فاؤنڈیشن مسٹر محمد شبیر حسین (جابر پٹیل) نے فاؤنڈیشن کی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ دہشت گردی انسانیت کیلئے خطرہ ہے ۔ دہشت گردی کا کسی مذہب ، ذات پات اور ملک سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ فلسطین کے مسئلہ کو حل کرنے سے 70 فیصد دہشت گردی کا خاتمہ ہوجائیگا ۔پڑوسی ملک پاکستان بھی ہندوستان کی سرحدوں میں مداخلت کرتے ہوئے ملک کے امن و امان میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہے جس کی کانفرنس سخت مذمت کرتی ہے ۔ انھوں نے اُمید کا اظہار کیا کہ یہ کانفرنس جہاں ناانصافیوں کی نشاندہی کرے گی وہیں دہشت گردی سے نمٹنے میں تمام ممالک کو ایک دوسرے سے تعاون و مدد کرنے میں معاون و مددگار ثابت ہوگی ۔ اس کانفرنس میں مسٹر سراج الدین قریشی صدرنشین انڈیا اسلامکل کلچرل سنٹر ، ڈاکٹر فخرالدین (میسکو) ، ڈاکٹر رفیع ، مسٹر خلیق الرحمن ، دلاور پٹیل ، صابر پٹیل ، سلمان عرفان ، ثمینہ شفیق ، عتیق صدیقی ، یمن کے سفیر مسٹر جمیل عبداﷲ کے علاوہ مختلف ممالک کے سفیر اور دوسرے عہدیداروں نے شرکت کی ۔

TOPPOPULARRECENT